روزے میں خون یا گلوکوز (Glucose) چڑھانا: کیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
(تفصیلی فقہی و طبی رہنمائی)
تمہید
رمضان المبارک میں روزہ صرف عبادت ہی نہیں بلکہ صبر، تقویٰ اور نفس کی تربیت کا ذریعہ بھی ہے۔ لیکن موجودہ دور میں طبی سہولیات اور علاج کے جدید طریقوں نے کئی نئے فقہی سوالات کو جنم دیا ہے۔ انہی میں سے ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ:
اگر روزے کی حالت میں کسی مریض کو خون چڑھایا جائے یا گلوکوز کی ڈرپ لگائی جائے تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
اور کیا ایسا کرنا شریعت میں جائز ہے یا نہیں؟
یہ مضمون اسی سوال کا مفصل، مدلل اور آسان جواب پیش کرتا ہے۔
روزے میں زبان کے نیچے دوا کا حکم پڑھنے کیلئے کلک کریں
۱. کیا خون یا گلوکوز سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
بنیادی فقہی اصول
فقہاءِ کرام کے نزدیک روزہ اس وقت ٹوٹتا ہے جب:
کوئی چیز منفذِ اصلی (Natural Orifice) یعنی منہ، ناک یا کان کے ذریعے جسم کے اندر داخل ہو کر پیٹ یا دماغ تک پہنچے۔
جدید طبی حقیقت
- خون اور گلوکوز رگوں (Veins) کے ذریعے جسم میں داخل کیے جاتے ہیں
- یہ راستہ منفذِ اصلی نہیں ہے
حکم
لہٰذا:
✔️ خون چڑھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا
✔️ گلوکوز لگانے سے بھی روزہ فاسد نہیں ہوتا
📚 دلائل:
- مراقی الفلاح
- البحر الرائق
- رد المحتار (شامی)
ان کتب میں وضاحت ہے کہ:
جو چیز مسام یا رگوں کے ذریعے داخل ہو وہ روزہ نہیں توڑتی۔
جمعہ کے دن ہر قدم پر ایک سال کا ثواب پڑھنے کیلئے کلک کریں
۲. روزے میں خون چڑھانے کا حکم
(الف) خون کی اصل شرعی حیثیت
خون:
- نجس (ناپاک) ہے
- اور حرام ہے
اس لیے عام حالات میں اس کا استعمال جائز نہیں
(ب) اضطرار (مجبوری) کی حالت
اگر:
- مریض کی جان کو خطرہ ہو
- یا شدید بیماری ہو
- اور ڈاکٹر علاج کے لیے خون تجویز کرے
تو:
✅ خون لینا جائز ہو جاتا ہے
📌 فقہی قاعدہ:
الضرورات تبيح المحظورات
(ضرورتیں ممنوع چیزوں کو جائز کر دیتی ہیں)
📚 علامہ شامیؒ فرماتے ہیں:
اگر مسلمان ڈاکٹر بتائے کہ خون یا حرام چیز میں شفا ہے اور کوئی حلال متبادل نہ ہو تو اس کا استعمال جائز ہے۔
آخری حصہ : روزے میں انجکشن کا حکم: مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کا فتویٰ پڑھنے کیلئے کلک کریں
اہم نکتہ
ایسا مریض:
- عام طور پر روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا
- اس لیے اسے شریعت کی طرف سے رخصت حاصل ہے
وہ بعد میں قضا کر سکتا ہے
خلاصہ (خون)
| حالت | حکم |
|---|---|
| بغیر ضرورت | ناجائز |
| شدید ضرورت | جائز |
| روزے پر اثر | روزہ نہیں ٹوٹتا |
حصہ اوّل: روزے میں انجکشن کا حکم کیا ہے؟ پڑھنے کیلئے کلک کریں
۳. روزے میں گلوکوز (Glucose drip) کا حکم
گلوکوز کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے اسے دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:
(الف) ضرورت کے تحت گلوکوز لینا
اگر:
- مریض کمزور ہو
- پانی کی کمی ہو
- ڈاکٹر تجویز کرے
تو:
✔️ گلوکوز لگوانا جائز ہے
✔️ روزہ بھی برقرار رہے گا
فقہی نظیر (مثال)
فقہاء نے روزے کی حالت میں درج ذیل امور کی اجازت دی ہے:
- سر پر پانی ڈالنا
- غسل کرنا
- بھیگا ہوا کپڑا لپیٹنا
📌 یہ سب:
- جسم کو ٹھنڈک دیتے ہیں
- پیاس کم کرتے ہیں
👉 اس کے باوجود جائز ہیں
رات میں 100 آیات کی تلاوت کا اجر پڑھنے کیلئے کلک کریں
حدیث سے ثبوت
حضرت ابو بکر بن عبد الرحمنؒ روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں گرمی یا پیاس کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے تھے۔
📚 (سنن ابی داؤد)
(ب) بلا ضرورت گلوکوز لینا
اگر کوئی شخص:
- صرف بھوک و پیاس سے بچنے کے لیے
- یا روزہ آسان بنانے کے لیے
گلوکوز لگوائے تو:
❌ یہ مکروہ ہے
وجہ کیا ہے؟
یہ اس لیے کہ:
👉 اس میں عبادت سے بے صبری (اظہارِ ضجر) ظاہر ہوتی ہے
حصہ اوّل: رمضان کے فضائل و مسائل پڑھنے کیلئے کلک کریں
فقہی وضاحت
امام اعظم امام ابو حنیفہ کے نزدیک:
- پانی میں داخل ہونا
- بھیگا کپڑا لپیٹنا
❌ مکروہ ہے
کیونکہ:
اس میں عبادت سے اکتاہٹ ظاہر ہوتی ہے
📚 (رد المحتار، البحر الرائق)
عبداللہ بن تامر: ایمان کی جیت پڑھنے کیلئے کلک کریں
۴. اہم فقہی اصول (Understanding Framework)
یہ مسئلہ سمجھنے کے لیے تین اصول ذہن میں رکھیں:
1️⃣ منفذِ اصلی کا اصول
👉 صرف منہ، ناک وغیرہ سے داخل ہونے والی چیز روزہ توڑتی ہے
2️⃣ ضرورت (Necessity)
👉 جان بچانا عبادت سے مقدم ہے
3️⃣ روحِ عبادت
👉 روزہ صرف بھوکا رہنا نہیں بلکہ صبر سکھاتا ہے
استغفار کی اہمیت و ضرورت پڑھنے کیلئے کلک کریں
۵. مکمل خلاصہ (Quick Summary)
| مسئلہ | حکم |
|---|---|
| خون چڑھانا | روزہ نہیں ٹوٹتا |
| خون لینا (بغیر ضرورت) | ناجائز |
| خون لینا (ضرورت میں) | جائز |
| گلوکوز (ضرورت میں) | جائز |
| گلوکوز (بلا ضرورت) | مکروہ |
| روزہ کی حالت | برقرار |
روزہ (صوم): حقیقت، مقصد اور فرضیت پڑھنے کیلئے کلک کریں
اختتامی کلمات
اسلام ایک متوازن دین ہے جو عبادت کے ساتھ ساتھ انسان کی صحت اور جان کی حفاظت کو بھی اہمیت دیتا ہے۔
👉 اگر ضرورت ہو تو شریعت آسانی دیتی ہے
👉 اور اگر ضرورت نہ ہو تو صبر اور برداشت کی تلقین کرتی ہے
لہٰذا:
- بلا ضرورت گلوکوز یا طبی سہولتوں کا سہارا نہ لیا جائے
- اور مجبوری میں شرعی رخصت سے فائدہ اٹھایا جائے
جس دل میں قرآن ہو، اللہ اسے عذاب نہیں دیتا پڑھنے کیلئے کلک کریں
اہم نوٹ
یہ تحریر درج ذیل کتب کی روشنی میں تیار کی گئی ہے:
- رد المحتار (شامی)
- البحر الرائق
- فتاویٰ ہندیہ
👉 انفرادی مسائل کے لیے مستند مفتی سے رجوع کرنا بہتر ہے۔
واللہ اعلم بالصواب 🤲
بغیر تحقیق بات پھیلانے کا گناہ۔ پڑھنے کیلئے کلک کریں
Content by Wisdom Afkar

