Roze Mein Zaban Ke Neeche Dawa Ka Hukum | Sublingual Medicine While Fasting | روزے میں زبان کے نیچے دوا کا حکم

roze-mein-zaban-ke-neeche-dawa-ka-hukum

 

روزے کی حالت میں زبان کے نیچے رکھی جانے والی دوا کا حکم


(قلبی امراض کی ادویات اور فقہی تحقیق)


تمہید

رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے عبادت، تقویٰ اور روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے، جس کی ادائیگی ہر عاقل، بالغ اور صحت مند مسلمان پر فرض ہے۔ تاہم زندگی کے مختلف حالات میں بعض ایسے مسائل پیش آتے ہیں جن کے بارے میں شرعی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ عصر حاضر میں طب کی ترقی کے ساتھ کئی نئی صورتیں سامنے آئی ہیں جن میں ایک اہم مسئلہ زبان کے نیچے رکھی جانے والی دوا (Sublingual Medicine) کا ہے۔

دل کے مریضوں کو اکثر ایسی دوا دی جاتی ہے جو زبان کے نیچے رکھی جاتی ہے اور وہیں تحلیل ہو کر جسم میں جذب ہو جاتی ہے۔ عام طور پر یہ دوا انجائنا (Angina) کے حملے یا دل کے درد کی صورت میں فوری استعمال کی جاتی ہے۔ اس قسم کی دوا معدہ میں نہیں جاتی بلکہ زبان کے نیچے موجود خون کی باریک رگوں کے ذریعے براہ راست خون میں شامل ہو جاتی ہے۔

اسی لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر روزہ دار ایسی دوا استعمال کرے تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

فقہائے کرام نے اصولی قواعد، نصوص اور متعدد فقہی نظائر کی روشنی میں اس مسئلہ کا جواب دیا ہے۔ اس تحقیقی مضمون میں ہم اس مسئلہ کا تفصیلی فقہی جائزہ پیش کریں گے۔


حضرت علی رضی اللہ عنہ کے 7 سنہری اقوال پڑھنے کیلئے کلک کریں 


روزے کی حقیقت اور اس کے فاسد ہونے کا اصول

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ فقہ اسلامی میں روزہ کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے۔

فقہ حنفی کے مطابق روزہ اس وقت فاسد ہوتا ہے جب کوئی چیز قصداً بدن کے اندر معدہ یا دماغ تک کسی کھلے راستے سے پہنچ جائے۔

الدر المختار میں ہے:

"يفسد الصوم بدخول شيء إلى الجوف أو الدماغ من منفذ مفتوح."

(الدر المختار مع رد المحتار، ٣/٣٩٥)

ترجمہ:

روزہ اس وقت فاسد ہوتا ہے جب کوئی چیز کھلے راستے کے ذریعے جسم کے اندر (معدہ یا دماغ) تک پہنچ جائے۔

اسی طرح فتح القدیر میں ہے:

"وإنما يفسد الصوم إذا وصل شيء إلى الجوف من منفذ مفتوح."

(فتح القدیر، ٢/٣٣٠)

لہٰذا اگر کوئی چیز حلق کے راستے معدہ تک نہ پہنچے تو اصولی طور پر روزہ فاسد نہیں ہوتا۔


منہ میں کسی چیز کے ہونے کا حکم

فقہائے کرام نے یہ واضح کیا ہے کہ محض کسی چیز کا منہ میں ہونا روزہ کو فاسد نہیں کرتا جب تک وہ حلق سے نیچے نہ جائے۔

الفتاوى الهندية میں ہے:

"ولو أدخل في فيه شيئاً ولم يبتلعه لا يفسد صومه."

(الفتاوى الهندية، ١/٢٠٠)

ترجمہ:

اگر کسی نے اپنے منہ میں کوئی چیز رکھی اور اسے نگلا نہیں تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا۔

یہی اصول اس مسئلہ کی بنیاد ہے۔

 

ایک اعرابی کی دل ہلا دینے والی دعا:  پڑھنے کیلئے کلک کریں 


فقہی نظائر

فقہ اسلامی میں کسی نئے مسئلہ کو سمجھنے کے لیے نظائر (Analogies) سے استدلال کیا جاتا ہے۔ اس مسئلہ کے لیے فقہائے کرام نے متعدد نظائر بیان کی ہیں۔


>پہلی نظیر: روزے میں مسواک کا استعمال

روزے کی حالت میں مسواک کرنا سنت اور جائز ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولا بأس للصائم أن يستاك، سواء كان السواك يابساً أو رطباً."

(بدائع الصنائع، ٢/٢٦٦)

ترجمہ:

روزہ دار کے لیے مسواک کرنا جائز ہے چاہے وہ خشک ہو یا تر۔

اسی طرح الدر المختار میں ہے:

"ولا يكره السواك للصائم في أول النهار وآخره."

ترجمہ:

روزہ دار کے لیے دن کے شروع یا آخر میں مسواک کرنا مکروہ نہیں۔

مسواک کے دوران مسواک کے اجزاء اور ذرات منہ میں آتے ہیں لیکن چونکہ انہیں نگلا نہیں جاتا اس لیے روزہ صحیح رہتا ہے۔



دوسری نظیر: کھانا چکھنا

فقہائے کرام نے روزہ دار کو ضرورت کے وقت کھانا چکھنے کی اجازت دی ہے۔

مراقی الفلاح میں ہے:

"ولا بأس للصائم أن يذوق الطعام بلسانه ولا يبتلعه."

ترجمہ:

روزہ دار کے لیے زبان سے کھانا چکھنا جائز ہے بشرطیکہ اسے نگلے نہیں۔

اسی طرح البحر الرائق میں ہے:

"ولا بأس بذوق الطعام إذا احتاجت المرأة إليه ولم يدخل شيء إلى حلقها."

(البحر الرائق، ٢/٤٨٩)

یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اگر چیز حلق میں نہ جائے تو روزہ فاسد نہیں ہوتا۔


آخری حصہ : روزے میں انجکشن کا حکم: مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کا فتویٰ پڑھنے کیلئے کلک کریں 


تیسری نظیر: بچے کے لیے کھانا چبانا

فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر عورت کو اپنے بچے کی خاطر کھانا چبانا پڑے تو اس کی اجازت ہے۔

مراقی الفلاح میں ہے:

"وكره مضغة بلا عذر، أما إذا لم تجد بداً منه فلا بأس بمضغها لصيانة الولد."

ترجمہ:

بلا عذر کھانا چبانا مکروہ ہے، لیکن اگر بچے کی حفاظت کے لیے ضرورت ہو تو جائز ہے۔

اسی طرح رد المحتار میں ہے:

"والمضغ بعذر بأن لم تجد المرأة من يمضغ لصبيها الطعام."

(رد المحتار، ٣/٣٩٥)



چوتھی نظیر: لعاب نگلنا

فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ منہ کا لعاب نگلنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

فتح القدیر میں ہے:

"ابتلاع الريق لا يفسد الصوم لأنه مما لا يمكن الاحتراز عنه."

ترجمہ:

لعاب نگلنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں۔


زبان کے نیچے رکھی جانے والی دوا کی طبی حقیقت

طب میں اس دوا کو Sublingual Medicine کہا جاتا ہے۔

اس کی خصوصیات یہ ہیں:

  1. دوا زبان کے نیچے رکھی جاتی ہے
  2. وہ وہیں تحلیل ہو جاتی ہے
  3. زبان کے نیچے موجود باریک رگوں کے ذریعے براہ راست خون میں جذب ہو جاتی ہے
  4. یہ معدہ میں داخل نہیں ہوتی

اسی وجہ سے یہ دوا دل کے مریضوں کو فوری اثر کے لیے دی جاتی ہے۔


فقہی اصول کا اطلاق

جب درج ذیل چیزیں جائز ہیں:

  • مسواک کرنا
  • کھانا چکھنا
  • بچے کے لیے کھانا چبانا

اور یہ سب اس شرط کے ساتھ ہیں کہ کوئی چیز حلق کے نیچے نہ جائے۔

تو اسی اصول کے مطابق زبان کے نیچے رکھی جانے والی دوا بھی اسی حکم میں داخل ہوگی۔


معاصر فقہاء کی آراء

بہت سے معاصر علماء نے اس مسئلہ پر فتویٰ دیا ہے۔

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

زبان کے نیچے رکھی جانے والی دوا اگر حلق کے نیچے نہ جائے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

(فتاویٰ محمودیہ، ١٥/١٧٣)

اسی طرح بعض فقہی مجالس نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے کہ Sublingual tablets روزہ کو فاسد نہیں کرتیں کیونکہ وہ معدہ تک نہیں پہنچتیں۔


ضرورت اور شریعت کی آسانی

اسلامی شریعت انسان کے لیے آسانی چاہتی ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے:

"يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر."

(البقرة: 185)

ترجمہ:
اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے دشواری نہیں چاہتا۔

اسی طرح بیماری کی حالت میں روزہ چھوڑنے کی بھی اجازت ہے۔

"

فمن كان منكم مريضاً أو على سفر فعدة من أيام أخر."

(البقرة: 184)


حصہ اوّل: روزے میں انجکشن کا حکم کیا ہے؟  پڑھنے کیلئے کلک کریں 


اہم شرط

اس مسئلہ میں ایک بنیادی شرط ہے:

دوا کا کوئی حصہ حلق سے نیچے نہ جائے۔

اگر:

  • دوا کا ذائقہ
  • دوا کا ریزہ
  • یا لعاب کے ساتھ دوا

حلق کے نیچے چلا جائے تو روزہ فاسد ہو جائے گا۔


خلاصۂ بحث

مندرجہ بالا دلائل کی روشنی میں درج ذیل باتیں واضح ہوتی ہیں:

  1. روزہ اس وقت فاسد ہوتا ہے جب کوئی چیز حلق کے راستے معدہ تک پہنچے۔
  2. محض منہ میں کسی چیز کا ہونا روزہ کو فاسد نہیں کرتا۔
  3. فقہائے کرام نے مسواک، کھانا چکھنے اور بچے کے لیے کھانا چبانے کی اجازت دی ہے۔
  4. زبان کے نیچے رکھی جانے والی دوا معدہ تک نہیں پہنچتی بلکہ وہیں جذب ہو جاتی ہے۔
  5. اس لیے اصولی طور پر اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔


جمعہ کے دن ہر قدم پر ایک سال کا ثواب  پڑھنے کیلئے کلک کریں 


نتیجہ

تمام فقہی اصولوں، معتبر کتبِ فقہ اور معاصر علماء کی آراء سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ:

قلبی امراض کی وہ دوا جو زبان کے نیچے رکھی جاتی ہے اور نگلی نہیں جاتی، اگر اس کا کوئی حصہ حلق کے نیچے نہ جائے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

البتہ اگر دوا کا کوئی حصہ نگل لیا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔


مراجع و مصادر

  1. بدائع الصنائع
  2. الدر المختار مع رد المحتار
  3. البحر الرائق
  4. مراقی الفلاح
  5. فتح القدیر
  6. الفتاوى الهندية
  7. فتاویٰ محمودیہ


Content by Wisdom Afkar

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Close Menu