حق کی جیت اور باطل کی شکست: حضرت عبداللہ بن تامرؓ کی وہ داستان جس نے تاریخ بدل دی
تاریخ کے اوراق میں کچھ ایسی داستانیں درج ہیں جو محض قصے نہیں بلکہ انسانی عزم، ایمان کی پختگی اور جبر و استبداد کے خلاف سینہ سپر ہونے کی روشن مثالیں ہیں۔ یمن کے قدیم شہر نجران میں پیش آنے والا یہ واقعہ، جسے قرآنِ کریم نے "اصحاب الاخدود" کے نام سے پکارا ہے، ایک ایسے نوجوان کے گرد گھومتا ہے جس نے اپنی جان دے کر ایک پوری قوم کے مردہ ضمیر کو زندگی عطا کی۔ یہ کہانی ہے حضرت عبداللہ بن تامرؓ کی، جن کے ایمان کی خوشبو آج بھی تاریخ کی راہداریوں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔
حصہ اوّل: الفطرانہ (صدقۃ الفطر) کیا ہے؟ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
جادو کی تاریکی اور ایک سلطنت کا غرور
یہ اس دور کی بات ہے جب یمن پر ایک جابر اور خود سر بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس بادشاہ کی طاقت کا اصل راز اس کا درباری جادوگر تھا، جس نے اپنے فنِ سحر سے عوام کے دلوں میں خوف بٹھا رکھا تھا۔ یہ جادوگر بادشاہ کا وہ ہتھیار تھا جس کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں کو زیر کرتا اور باغیوں کے دل موڑ دیتا تھا۔ گویا پوری سلطنت جادو کے فریب اور بادشاہ کے جاہ و جلال کے بل بوتے پر قائم تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ جادوگر بوڑھا ہونے لگا۔ اسے فکر لاحق ہوئی کہ اس کے مرنے کے بعد یہ فن ختم ہو جائے گا اور بادشاہ کی گرفت کمزور پڑ جائے گی۔ اس نے بادشاہ سے التجا کی: "اے بادشاہ! میں بوڑھا ہو چلا ہوں، مجھے کوئی ایسا ذہین اور ہونہار لڑکا عطا کریں جسے میں یہ فن سکھا سکوں تاکہ میرے بعد آپ کے امورِ سلطنت کی حفاظت ہو سکے۔"
بادشاہ نے اپنے دربار کے سب سے ذہین اور فطین لڑکے، عبداللہ بن تامر کا انتخاب کیا۔ عبداللہ کو جادوگر کے سپرد کر دیا گیا، جہاں وہ روزانہ صبح و شام جادو کی باریکیاں سیکھنے لگا۔ لیکن قدرت نے عبداللہ کے لیے جادو کی تاریکی نہیں بلکہ توحید کا نور منتخب کر رکھا تھا۔
حصہ دوئم: روزہ: نیت، سحری و افطاری کے احکام اور عام غلطیاں پڑھنے کیلئے کلک کریں
راہب کی کٹیا اور سچائی کی پہلی کرن
عبداللہ جب گھر سے جادوگر کے پاس جاتا، تو راستے میں ایک بوڑھے راہب (درویش) کی کٹیا آتی تھی۔ یہ راہب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصل دین (توحید) پر قائم تھا۔ ایک دن عبداللہ نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اس کٹیا سے نکل رہے ہیں، تجسس نے اسے اندر جانے پر مجبور کیا۔ جب اس نے راہب کی باتیں سنیں، تو اسے محسوس ہوا جیسے اس کی روح کی پیاس بجھ رہی ہو۔ جادوگر کی باتیں فریب اور جھوٹ پر مبنی تھیں، جبکہ راہب کی باتیں دل کو سکون پہنچانے والی اور فطرت کے عین مطابق تھیں۔
عبداللہ نے چھپ کر راہب کے پاس آنا جانا شروع کر دیا اور اسلام (توحید) کی تعلیمات حاصل کرنے لگا۔ اب اس کی زندگی ایک عجیب کشمکش میں تھی۔ وہ جادوگر کے پاس دیر سے پہنچتا تو مار کھاتا، اور گھر واپس دیر سے پہنچتا تو گھر والے ناراض ہوتے۔ راہب نے اسے مشورہ دیا: "اگر جادوگر پوچھے تو کہہ دو گھر والوں نے روک لیا تھا، اور اگر گھر والے پوچھیں تو کہہ دو جادوگر نے روک لیا تھا۔"
قسط 1: روزہ (صوم): حقیقت، مقصد اور فرضیت پڑھنے کیلئے کلک کریں
پہلا معجزہ: حق اور باطل کا فیصلہ
ایک دن عبداللہ راہب کے پاس سے نکل کر شہر کی طرف جا رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ ایک عظیم الجثہ اور ہیبت ناک درندے (شیر یا اژدھے) نے راستہ روک رکھا ہے اور لوگ خوف کے مارے دونوں طرف کھڑے ہیں۔ عبداللہ کے ذہن میں ایک خیال آیا: "آج میں امتحان لیتا ہوں کہ راہب کا راستہ سچا ہے یا جادوگر کا۔"
اس نے زمین سے ایک عام سا پتھر اٹھایا اور دعا کی: "اے میرے اللہ! اگر اس راہب کا دین تیرے نزدیک جادوگر کے فن سے زیادہ محبوب اور حق ہے، تو اس پتھر کے ذریعے اس جانور کو ہلاک کر دے تاکہ لوگوں کا راستہ کھل جائے۔"
جیسے ہی اس نے پتھر پھینکا، وہ درندہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ لوگ دنگ رہ گئے، لیکن ان کی نظر میں یہ عبداللہ کا جادوئی کمال تھا۔ مگر عبداللہ جان چکا تھا کہ کائنات کا اصل مالک کون ہے۔ جب اس نے یہ قصہ راہب کو سنایا، تو راہب نے مسکراتے ہوئے کہا: "بیٹا! اب تمہارا مرتبہ مجھ سے بلند ہو چکا ہے۔ عنقریب تم آزمائش میں ڈالے جاؤ گے، بس یاد رکھنا کہ میرا پتہ کسی کو نہ بتانا۔"
شفا کا چشمہ اور بادشاہ کا مصاحب
عبداللہ بن تامر اب مستجاب الدعوات بن چکے تھے۔ اللہ نے ان کے ہاتھ میں وہ شفا دی تھی کہ کوڑھی، مادر زاد اندھے اور لاعلاج مریض ان کی دعا سے بھلے چنگے ہو جاتے۔ شہر میں ان کی شہرت چاروں طرف پھیل گئی۔
بادشاہ کا ایک خاص مصاحب (درباری) جو بینائی سے محروم ہو چکا تھا، بیش بہا تحائف لے کر عبداللہ کے پاس پہنچا اور عرض کیا: "اگر تم میری آنکھیں ٹھیک کر دو، تو یہ سب مال تمہارا ہے۔" نوجوان عبداللہ نے بڑی عاجزی سے جواب دیا: "شفا میرے ہاتھ میں نہیں، شفا تو صرف اللہ دیتا ہے۔ اگر آپ اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لے آئیں، تو میں اس سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کی بینائی لوٹا دے۔"
درباری نے فوراً توحید کو قبول کر لیا۔ عبداللہ نے ہاتھ اٹھائے، دعا کی اور اللہ نے اس کی آنکھوں میں روشنی بھر دی۔ جب وہ درباری اگلے دن بادشاہ کے پاس بیٹھا، تو بادشاہ حیران رہ گیا: "تیری آنکھیں کس نے روشن کیں؟" درباری نے بلا خوف کہا: "میرے پروردگار نے۔" بادشاہ غصے سے تلملا اٹھا: "کیا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی پروردگار ہے؟" درباری نے جواب دیا: "میرا اور تیرا پروردگار وہی اللہ ہے جس نے ساری کائنات بنائی۔"
امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی امام حسنؑ کے نام وصیت پڑھنے کیلئے کلک کریں
آزمائش کی بھٹی اور حق کی گواہی
بادشاہ نے غصے میں آ کر اپنے مصاحب کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ تکلیف کی شدت میں اس نے عبداللہ کا نام لے لیا۔ عبداللہ کو دربار میں طلب کیا گیا۔ بادشاہ نے پیار سے سمجھایا: "اے نوجوان! میرے جادوگر کی صحبت سے تو اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ اب اندھوں کو ٹھیک کرنے لگا ہے۔" عبداللہ نے کڑک کر جواب دیا: "یہ کمال جادو کا نہیں، اللہ کی قدرت کا ہے۔"
بادشاہ نے عبداللہ پر اتنا تشدد کیا کہ اس نے مجبوراً راہب کا نام بتا دیا۔ راہب کو لایا گیا، اسے اپنے دین سے پھرنے کو کہا گیا، لیکن اس مردِ حق نے انکار کر دیا۔ بادشاہ کے حکم پر راہب کے سر پر آرا رکھا گیا اور اسے دو ٹکڑوں میں چیر دیا گیا۔ پھر درباری کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا۔ اب صرف عبداللہ باقی رہ گیا تھا۔
موت کے سامنے مسکراتا ہوا نوجوان
بادشاہ عبداللہ کو مارنا چاہتا تھا لیکن اسے عبرت کا نشان بنانا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے بلند ترین پہاڑ کی چوٹی پر لے جاؤ اور وہاں سے نیچے دھکیل دو۔ پہاڑ پر پہنچ کر عبداللہ نے اللہ سے دعا کی: "اے اللہ! جیسے تو چاہے ان کے شر سے میری حفاظت فرما۔" اچانک پہاڑ لرزنے لگا، سپاہی نیچے گر کر ہلاک ہو گئے اور عبداللہ صحیح سلامت پیدل چلتے ہوئے بادشاہ کے دربار پہنچ گیا۔ بادشاہ دنگ رہ گیا۔ اس نے دوسری بار سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے کشتی میں بٹھا کر گہرے سمندر کے بیچ لے جاؤ اور وہاں غرق کر دو۔ سمندر کی لہروں کے درمیان عبداللہ نے پھر وہی دعا کی، کشتی الٹ گئی، سپاہی ڈوب گئے اور عبداللہ پھر سے تلاطم خیز موجوں سے بچ کر دربار میں حاضر ہو گیا۔
اب بادشاہ کے خوف کی انتہا نہ رہی۔ عبداللہ نے بادشاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:
"تم مجھے کبھی نہیں مار سکو گے، جب تک تم وہ طریقہ اختیار نہ کرو جو میں تمہیں بتاؤں گا۔"
بادشاہ نے پوچھا: "وہ طریقہ کیا ہے؟"
عبداللہ نے کہا: "پورے شہر کے لوگوں کو ایک کھلے میدان میں جمع کرو۔ مجھے ایک درخت کے تنے سے سولی پر لٹکاؤ۔ پھر میرے ہی ترکش سے ایک تیر نکالو اور سب کے سامنے بلند آواز میں کہو: 'اس لڑکے کے رب کے نام سے (بسم الله رب هذا الغلام)'۔ اگر تم نے یہ کہہ کر تیر مارا، تو میں مر جاؤں گا۔"
جس دل میں قرآن ہو، اللہ اسے عذاب نہیں دیتا پڑھنے کیلئے کلک کریں
شہادت کا عظیم لمحہ اور انقلاب
بادشاہ نے وہی کیا جو عبداللہ نے بتایا تھا۔ نجران کا پورا شہر اس تماشے کو دیکھنے کے لیے جمع تھا۔ بادشاہ نے تیر نکالا، کمان پر چڑھایا اور پکارا: "اس لڑکے کے رب کے نام سے!"
تیر سیدھا عبداللہ کی کنپٹی پر لگا۔ نوجوان نے اپنا ہاتھ زخم پر رکھا اور مسکراتے ہوئے جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ وہ منظر ایسا تھا کہ دیکھنے والوں کی روح کانپ گئی۔ ایک خاموشی چھا گئی اور پھر پورا میدان ایک ہی نعرے سے گونج اٹھا:
"امنا برب هذا الغلام! (ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے!)"
بادشاہ کا منصوبہ الٹا پڑ گیا۔ وہ ایک شخص کو مار کر ایمان ختم کرنا چاہتا تھا، لیکن عبداللہ کی شہادت نے ہزاروں دلوں میں ایمان کی شمع روشن کر دی تھی۔
خندق کی آگ اور شیر خوار بچے کا معجزہ
بادشاہ شرمندگی اور غصے سے دیوانہ ہو گیا۔ اس نے حکم دیا کہ شہر کے راستوں پر لمبی خندقیں کھدوائی جائیں اور انہیں آگ سے بھر دیا جائے۔ اعلان کیا گیا کہ جو شخص اپنے نئے دین سے توبہ نہیں کرے گا، اسے زندہ اس آگ میں پھینک دیا جائے گا۔
ایمان والے قطار در قطار آتے گئے اور اللہ کے نام پر ہنستے ہوئے آگ میں کودتے گئے۔ اسی دوران ایک عورت لائی گئی جس کی گود میں ایک شیر خوار بچہ تھا۔ آگ کے شعلے دیکھ کر ممتا تڑپ اٹھی اور وہ لمحہ بھر کے لیے ہچکچائی۔ عین اسی وقت اللہ نے اس معصوم بچے کو زبان عطا کی، اس نے پکار کر کہا:
"اے میری ماں! صبر کر اور اس آگ میں کود جا، کیونکہ تو حق پر ہے!"
وہ عورت اپنے بچے سمیت آگ میں کود گئی اور شہادت کا بلند مرتبہ پایا۔ روایات کے مطابق، اس آگ کے شعلے اتنے بلند ہوئے کہ انہوں نے تماشہ دیکھنے والے بادشاہ اور اس کے درباریوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وہ سب جل کر راکھ ہو گئے۔
حضرت عمر فاروقؓ کا دور اور عبداللہ کا جسدِ خاکی
اس واقعے کی سچائی کی گواہی صدیوں بعد اس وقت ملی جب مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقؓ کا دورِ خلافت تھا۔ یمن میں ایک ضرورت کے تحت جب اس جگہ کی کھدائی کی گئی جہاں عبداللہ بن تامر مدفون تھے، تو لوگوں نے دیکھا کہ ایک نوجوان کی لاش بالکل صحیح سلامت ہے، جیسے وہ ابھی سویا ہو۔ اس کا ہاتھ اس کی کنپٹی پر ویسے ہی رکھا تھا جیسے شہادت کے وقت تھا۔ جب لوگوں نے اس کا ہاتھ ہٹایا تو وہاں سے تازہ خون بہنے لگا، اور جب ہاتھ دوبارہ اسی جگہ رکھا گیا تو خون رک گیا۔ ان کے ہاتھ میں ایک انگوٹھی تھی جس پر کندہ تھا: "اللہ میرا رب ہے"۔
حضرت عمرؓ کو جب اس کی اطلاع ملی تو آپ نے حکم دیا کہ انہیں ان کی انگوٹھی سمیت اسی حالت میں دوبارہ دفن کر دیا جائے۔
حاصلِ کلام: ہمیں اس واقعے سے کیا سبق ملتا ہے؟
حضرت عبداللہ بن تامرؓ کی یہ داستان ہمیں کئی سبق دیتی ہے:
ایمان کی طاقت: جب ایمان دل میں گھر کر جائے تو دنیا کا کوئی خوف، کوئی لالچ اور موت کی کوئی سختی انسان کو حق سے نہیں ہٹا سکتی۔
قربانی کی اہمیت: کبھی کبھی حق کی بقا کے لیے اپنی جان کا نذرانہ دینا پڑتا ہے، اور وہ خون رائیگاں نہیں جاتا بلکہ ایک نئی زندگی کی بنیاد بنتا ہے۔
اللہ کی تدبیر: جابر بادشاہ نے سمجھا کہ وہ جیت گیا، لیکن اللہ نے ایک نوجوان کی موت کو اس کی پوری سلطنت کی شکست بنا دیا۔
استقامت: آزمائشیں آتی ہیں تاکہ کھرے اور کھوٹے کی تمیز ہو سکے۔ عبداللہ بن تامر نے ثابت کیا کہ کامیابی کا معیار لمبی زندگی نہیں بلکہ باوقار موت ہے۔
آج بھی، جب ہمیں دنیاوی مشکلات یا آزمائشوں کا سامنا ہو، تو ہمیں عبداللہ بن تامر کی استقامت کو یاد کرنا چاہیے کہ اصل کامیابی اللہ کی رضا اور ایمان پر ثابت قدمی میں ہے۔
Content by Wisdom Afkar

