اللہ سے سب سے دور: سخت دلی کی اصل وجہ
غیر ضروری باتوں کا دل پر کیا اثر ہوتا ہے؟ (ایک حدیث کی روشنی میں)
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کچھ لوگ کیوں عبادت میں لذت محسوس نہیں کرتے؟ یا کیوں نصیحت اور وعظ ان پر اثر نہیں کرتا؟ اس کی وجہ اکثر آپ کی زبان سے نکلنے والے غیر ضروری الفاظ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ آئیے، اس سچائی کو رسول اللہ ﷺ کی ایک لازوال تعلیم کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔
قلب کی سختی اور اللہ سے دوری کا الہیٰ پیمانہ
شیخ المفید ابو علی الحسن بن محمد بن الحسن الطوسیؒ نے اپنے والد شیخ السعید ابو جعفر محمد بن الحسین بن علی الطوسیؒ سے اور انہوں نے محمد بن محمد بن النعمانؒ سے روایت کیا ہے۔ حضرت ابو عمرؓ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے:
قال رسول الله ﷺ:
"لا تكثروا الكلام بغير ذكر الله، فإن كثرة الكلام بغير ذكر الله تُقسِّي القلب، وإن أبعد الناس من الله القلب القاسي."
(الأمالی، شیخ طوسیؒ، سند ملخص)
ترجمہ:
"اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ زیادہ گفتگو مت کرو، کیونکہ اللہ کے ذکر کے بغیر زیادہ باتیں کرنے سے دل سخت ہو جاتا ہے، اور لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ سے سب سے دور وہ شخص ہے جس کا دل سخت ہے۔"
ناپ تول میں کمی اور زکوٰۃ نہ دینے کی سزا ایک عبرت انگیز حدیث کی روشنی میں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
حدیث کا پیغام: زیادہ باتوں سے بچو
یہ حدیث محض ایک نصیحت نہیں، بلکہ ہمارے روحانی وجود کے لیے ایک تشخیصی رپورٹ (Diagnostic Report) ہے۔
1️⃣ گفتگو میں 'ذکرِ الٰہی' کی کمی
حدیث میں "زیادہ گفتگو" سے مراد وہ تمام فضول، بے مقصد، یا منفی گفتگو ہے جس میں اللہ کا ذکر شامل نہ ہو۔
یہ ایسی باتیں ہو سکتی ہیں:
- غیبت اور چغلی
- جھوٹ اور مبالغہ آرائی
- بے جا بحث و تکرار (صرف اپنی بات منوانے کی ضد)
- دنیاوی مال و اسباب پر فخر و مباہات
- لغو اور بے ہودہ مذاق جو شرعی حدود سے تجاوز کر جائے
جب ہماری زبان مسلسل ایسے مواد کو جنم دیتی ہے جو اللہ کی یاد سے خالی ہو، تو وہ دل کے نور کو دھندلا کر اسے سخت کر دیتی ہے۔
2️⃣ سخت دل، اللہ سے سب سے دور
دل کی سختی ایک روحانی بیماری ہے جس کی سب سے بڑی علامت اللہ سے دوری ہے۔
سخت دل کی کچھ پہچان یہ ہیں:
- نافرمانی پر شرمندگی نہ ہونا: گناہ کرنے کے بعد بھی کوئی ندامت محسوس نہ کرنا
- نصیحت کا اثر نہ ہونا: اچھی بات سننا مگر اس پر عمل کی توفیق نہ ملنا
- آنکھ کا خشک ہو جانا: اللہ کے خوف یا محبت میں آنسو نہ بہانا
- رحم اور شفقت کا کم ہونا: دوسروں کے دکھ درد کو محسوس نہ کر پانا
سخت دلی مومن کے لیے سب سے بڑی سزا ہے، کیونکہ یہ اسے اللہ کی رحمت سے سب سے دور کر دیتی ہے۔
Urdu Quotes|English Quotes اقوال زریں "A Glimmers of Tomorrow" Read Here
دل کی سختی کا علاج: نرمی کی طرف واپسی
اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کا دل سخت ہو رہا ہے یا آپ اپنی نمازوں میں توجہ کھو رہے ہیں، تو ان تین عملی اقدامات کو اپنائیں:
1️⃣ زبان پر قفلِ سکوت (خاموشی کی عادت)
غیر ضروری گفتگو سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جب تک ضروری نہ ہو، بات نہ کریں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔"
عملی قدم:
دن میں 5 سے 10 منٹ کے لیے خاموشی کا وقت مقرر کریں اور اس وقت صرف استغفار یا درود شریف پڑھیں۔
2️⃣ ذکرِ دائمی کو معمول بنائیں
اپنے روزمرہ کے معمولات کو ذکر سے بھر دیں۔ چلتے پھرتے، کام کرتے ہوئے، گاڑی چلاتے ہوئے، ہمیشہ اپنی زبان کو اللہ کے نام سے تر رکھیں:
- تسبیحات: سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر
- کلمہ طیبہ: لا إله إلا الله محمد رسول الله
- استغفار: استغفر الله ربي من كل ذنب وأتوب إليه
3️⃣ قرآن اور موت کی کثرتِ یاد
سلف صالحین کے مطابق، دل کی سختی دور کرنے کا ایک اہم ذریعہ تلاوتِ قرآن اور موت کی یاد ہے:
- قرآن کو ترجمہ اور تفکر کے ساتھ پڑھیں
- موت اور آخرت کے مناظر کو یاد کریں تاکہ دنیا کی بے ثباتی کا احساس دل میں جاگے
Neki ka hukm do, burai se roko warna azaab aaye ga Read Here
خلاصہ
سخت دل وہ ہے جو اللہ سے دور ہو جائے۔
آئیے، آج سے اپنی زبان کی نگرانی کریں اور اسے لغزشوں کی بجائے ذکر کا سرچشمہ بنائیں، تاکہ ہمارا دل نرم ہو، ہماری آنکھیں نم ہوں، اور ہم اللہ کے سب سے قریب ہو سکیں۔
آپ کا روحانی وعدہ:
آپ آج سے اپنی گفتگو کا کتنا فیصد حصہ ذکرِ الٰہی کے لیے مختص کرنے کا ارادہ کرتے ہیں؟
کمنٹ میں اپنے ارادے کا اظہار کریں تاکہ دوسروں کو بھی ترغیب ملے۔



0 تبصرے