Final Part: Rozay Mein Injection Ka Hukum: Mufti Mahmood Hasan Gangohi Ka Fatwa | Final Part: Injections While Fasting: The Fatwa of Mufti Mahmood Hasan Gangohi | آخری حصہ | روزے میں انجکشن کا حکم: مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کا فتویٰ

 

final-part-rozay-mein-injection-ka-fatwa

 

روزے میں انجکشن کا حکم: مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کا فتویٰ

 

(حصہ چہارم – آخری حصہ)


پچھلے حصوں میں ہم نے روزے میں انجکشن کے مسئلے کو فقہی اصولوں کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ روزہ اس وقت فاسد ہوتا ہے جب کوئی چیز قدرتی راستوں (مخارقِ اصلیہ) کے ذریعے جوفِ معدہ یا جوفِ دماغ تک پہنچ جائے۔ چونکہ انجکشن عام طور پر رگوں، گوشت یا جلد کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور کسی قدرتی منفذ سے اندر نہیں جاتا، اس لیے جمہور علماء کے نزدیک اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

اب اس آخری حصے میں ہم اس مسئلے کے بارے میں حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کے فتوے کا خلاصہ پیش کریں گے، جس میں اس مسئلے کی واضح وضاحت کی گئی ہے۔


حصہ اوّل: رمضان کے فضائل و مسائل پڑھنے کیلئے کلک کریں 


سوال

ایک شخص روزے کی حالت میں بیمار ہو جاتا ہے اور ڈاکٹر علاج کے طور پر انجکشن لگانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ کیا روزے کی حالت میں انجکشن لگوانا جائز ہے؟ اور کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ اسی طرح اگر انجکشن کے ذریعے جسم کو طاقت یا غذا دی جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔


جواب

 "بسم الله الرحمن الرحيم

روزے کے مسائل کو سمجھنے کے لیے فقہاء نے چند بنیادی اصول بیان کیے ہیں۔ ان اصولوں میں سے ایک اہم اصول یہ ہے کہ روزہ اس وقت فاسد ہوتا ہے جب کوئی چیز مخارقِ اصلیہ یعنی جسم کے قدرتی راستوں کے ذریعے جوفِ معدہ یا جوفِ دماغ تک پہنچ جائے۔

فقہاء نے اس اصول کو اپنی کتابوں میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ چنانچہ فقہ حنفی کی معروف کتاب بدائع الصنائع میں علامہ کاسانیؒ فرماتے ہیں:

 "وما وصل إلىالجوف أو الدماغ من المخارق الأصلية فسد صومه."

(بدائع الصنائع، ج 2)

ترجمہ:

اگر کوئی چیز جسم کے اندر کے حصے یعنی معدے یا دماغ تک قدرتی راستوں کے ذریعے پہنچ جائے تو اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔

اسی طرح فقہاء نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اگر کوئی چیز جسم میں ایسے راستے سے داخل ہو جو قدرتی راستہ نہ ہو تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔


انجکشن کا فقہی حکم

عام طور پر انجکشن جسم میں تین طریقوں سے لگایا جاتا ہے:

  1. رگوں میں
  2. پٹھوں (گوشت) میں
  3. جلد کے نیچے

ان تینوں صورتوں میں انجکشن جسم کے کسی قدرتی منفذ کے ذریعے اندر نہیں جاتا بلکہ براہِ راست رگوں یا گوشت میں داخل ہوتا ہے۔ اس لیے فقہی اصول کے مطابق اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

اسی بنا پر بہت سے معاصر علماء نے یہی فتویٰ دیا ہے کہ عام طبی انجکشن روزے کو نہیں توڑتے۔


حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کا فتویٰ

اس مسئلے کے بارے میں دارالعلوم دیوبند کے معروف فقیہ حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ سے بھی سوال کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے فتوے میں واضح طور پر فرمایا کہ:

اگر انجکشن علاج کے مقصد سے لگایا جائے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، کیونکہ انجکشن کے ذریعے دوا جسم میں داخل تو ہوتی ہے لیکن وہ مخارقِ اصلیہ یعنی قدرتی راستوں کے ذریعے معدے یا دماغ تک نہیں پہنچتی۔

اس لیے طبی ضرورت کے تحت انجکشن لگوانا جائز ہے اور اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔


حصہ دوم: روزے میں انجکشن کا حکم: فقہی اصول  پڑھنے کیلئے کلک کریں 


غذائی انجکشن کا حکم

بعض اوقات انجکشن کے ذریعے جسم کو غذا یا طاقت بھی دی جاتی ہے، جیسے گلوکوز یا دیگر غذائی ڈرپس۔

فقہی اصول کے اعتبار سے یہ بھی روزہ توڑنے کا سبب نہیں بنتے، کیونکہ یہ بھی قدرتی راستوں کے ذریعے جسم میں داخل نہیں ہوتے۔

البتہ بعض علماء نے یہ رائے دی ہے کہ بلا ضرورت ایسے انجکشن لینا مناسب نہیں، کیونکہ روزہ کا مقصد بھوک اور پیاس کو برداشت کر کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔


ضرورت کی صورت

اگر کسی مریض کو واقعی علاج کی ضرورت ہو اور ڈاکٹر انجکشن تجویز کرے تو اس کے لیے انجکشن لگوانا جائز ہے اور اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔

البتہ اگر بیماری ایسی ہو کہ روزہ رکھنا ہی مشکل ہو جائے تو شریعت نے اس صورت میں مریض کو روزہ چھوڑنے کی اجازت بھی دی ہے اور بعد میں اس کی قضا رکھی جا سکتی ہے۔



 عقل مند غلام لڑکی — ایک سبق آموز کہانی جو دل کو چھو جائے  پڑھنے کیلئے کلک کریں 


خلاصۂ فتویٰ

اس مسئلے کا خلاصہ یہ ہے:

  • اگر انجکشن علاج کے لیے لگایا جائے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
  • انجکشن چونکہ قدرتی راستوں کے ذریعے جسم میں داخل نہیں ہوتا اس لیے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
  • غذائی انجکشن بھی اصولاً روزہ نہیں توڑتے، لیکن بلا ضرورت ان سے بچنا بہتر ہے۔
  • بیماری کی صورت میں علاج کرنا جائز ہے اور شریعت اس میں آسانی فراہم کرتی ہے۔

والله أعلم بالصواب.


پچھلا حصہ  ⬅️ حصہ سوم : روزے میں انجکشن کا حکم: مختلف اقسام اور ان کا شرعی حکم



Content by Wisdom Afkar

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Close Menu