حصہ چہارم : اہل السنہ کے چار بنیادی اصول — بلا تحریف، بلا تعطیل، بلا تکییف، بلا تمثیل
Part 4: Ahl-us-Sunnah ke Chaar Bunyadi Usool — Bila Tahreef, Bila Ta’teel, Bila Takyeef, Bila Tamseel
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسول الله ﷺ۔
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسول الله ﷺ۔
پچھلے حصے میں سلف صالحین اور اہل السنہ والجماعہ کے منہج کو سمجھا گیا۔ اب اس حصے میں ان بنیادی اصولوں کی وضاحت کی جائے گی جن پر اہل السنہ کا عقیدہ قائم ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جن کے ذریعے اسماء و صفات کے باب میں اعتدال قائم رہتا ہے اور انسان گمراہی سے محفوظ رہتا ہے۔
اہل السنہ والجماعہ اللہ تعالیٰ کے ناموں اور صفات پر ایمان رکھتے ہیں:
- بلا تحریف
- بلا تعطیل
- بلا تکییف
- بلا تمثیل
یہ چار اصول دراصل سلف صالحین کے عقیدہ کا خلاصہ ہیں۔
توحید الاسماء والصفات کی تعریف پڑھنے کیلئے کلک کریں
1. تحریف (Tahrif) کیا ہے؟
تحریف کا مطلب ہے:
- الفاظ یا معانی کو ان کے اصل مفہوم سے بدل دینا
- یا ایسی تاویل کرنا جو قرآن و سنت کے ظاہر معنی کے خلاف ہو
مثلاً:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿الرَّحْمَٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى﴾
بعض لوگوں نے “استویٰ” کا معنی “غلبہ حاصل کرنا” یا “قبضہ کرنا” کر دیا، حالانکہ یہ معنی عربی زبان اور سلف کے فہم کے خلاف ہے۔
اہل السنہ کا طریقہ یہ ہے کہ:
- آیت کو اسی معنی پر رکھا جائے جس پر وہ نازل ہوئی
- بغیر باطل تاویل کے
تحریف خطرناک کیوں ہے؟
تحریف کا نقصان یہ ہے کہ:
- انسان وحی کے اصل معنی کو بدل دیتا ہے
- اور پھر دین انسان کی عقل اور خواہش کے تابع ہو جاتا ہے
جب ہر شخص اپنی مرضی کے معنی نکالنے لگے تو اصل دین باقی نہیں رہتا۔
توحید الاسماء والصفات کا تعارف پڑھنے کیلئے کلک کریں
2. تعطیل (Ta‘til) کیا ہے؟
تعطیل کا مطلب ہے:
- اللہ کی صفات کا انکار کرنا
- یا ان کے حقیقی معنی کو ختم کر دینا
مثلاً:
یہ کہنا کہ:
- اللہ سنتا نہیں
- اللہ دیکھتا نہیں
- یا اس کی صفات صرف مجازی ہیں
یہ طریقہ دراصل اللہ کو ان صفات سے خالی قرار دینا ہے جو اس نے خود اپنے لیے بیان کی ہیں۔
تعطیل کیوں غلط ہے؟
کیونکہ:
- قرآن و سنت نے اللہ کی صفات کو واضح طور پر بیان کیا ہے
- اور انکار کرنا وحی کے خلاف ہے
اگر اللہ نے اپنے لیے کسی صفت کو ثابت کیا ہے تو بندے کو اسے قبول کرنا چاہیے۔
حج قرآن کی روشنی میں پڑھنے کیلئے کلک کریں
3. تکییف (Takyif) کیا ہے؟
تکییف کا مطلب ہے:
- اللہ کی صفات کی کیفیت بیان کرنے کی کوشش کرنا
- یعنی “کیسے؟” کا سوال اٹھانا
مثلاً:
- اللہ کیسے سنتا ہے؟
- اللہ کیسے عرش پر مستوی ہے؟
اہل السنہ کا اصول یہ ہے کہ:
- صفات کو مانا جائے
- لیکن ان کی کیفیت بیان نہ کی جائے
کیونکہ انسان اللہ کی حقیقت اور کیفیت کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا۔
امام مالک رحمہ اللہ کا مشہور قول
جب امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
“الرحمن علی العرش استویٰ” کیسے؟
تو انہوں نے فرمایا:
“الاستواء معلوم، والكيف مجهول، والإيمان به واجب، والسؤال عنه بدعة”
یعنی:
- استواء معلوم ہے
- اس کی کیفیت نامعلوم ہے
- اس پر ایمان واجب ہے
- اور اس کے بارے میں غیر ضروری سوال کرنا بدعت ہے
یہی اہل السنہ کا اصول ہے۔
استغفار کی اہمیت و ضرورت پڑھنے کیلئے کلک کریں
4. تمثیل (Tamthil) کیا ہے؟
تمثیل کا مطلب ہے:
- اللہ کی صفات کو مخلوق جیسا سمجھنا
مثلاً:
یہ تصور کرنا کہ:
- اللہ کا سننا انسان جیسا ہے
- یا اللہ کا ہاتھ مخلوق کے ہاتھ جیسا ہے
یہ بہت خطرناک گمراہی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اس جیسی کوئی چیز نہیں”
کلمہ طیبہ: لا إِلٰهَ إِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
اہل السنہ کا توازن
اہل السنہ نہ تو:
- صفات کا انکار کرتے ہیں
اور نہ - اللہ کو مخلوق جیسا بناتے ہیں
بلکہ وہ:
- صفات کو ثابت کرتے ہیں
- اور اللہ کو ہر قسم کی مشابہت سے پاک سمجھتے ہیں
یہی صحیح اعتدال ہے۔
یہ چار اصول کیوں ضروری ہیں؟
یہ اصول انسان کو دو بڑے خطرات سے بچاتے ہیں:
1. انکار
یعنی صفات کو ختم کر دینا
2. تشبیہ
یعنی اللہ کو مخلوق جیسا بنا دینا
اہل السنہ ان دونوں extremes سے بچتے ہیں۔
عمرہ کا مکمل مسنون طریقہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
قرآن کا متوازن منہج
قرآن مجید میں یہی توازن موجود ہے:
﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ﴾
- “لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ” → تمثیل کی نفی
- “وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ” → صفات کا اثبات
یہ ایک جامع اصول ہے جس پر پورا باب قائم ہے۔
عقل اور وحی کا مسئلہ
بہت سی گمراہیاں اس وقت پیدا ہوئیں جب:
- لوگوں نے عقل کو وحی پر مقدم کیا
- اور صفات کو عقل کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی
حالانکہ صحیح راستہ یہ ہے کہ:
- وحی کو اصل مانا جائے
- اور عقل کو اس کے تابع رکھا جائے
کیونکہ انسانی عقل محدود ہے جبکہ اللہ کا علم کامل ہے۔
سلف کا طریقہ کیوں محفوظ ہے؟
سلف صالحین نے:
- نہ فلسفہ اپنایا
- نہ غیر ضروری بحثیں کیں
- بلکہ قرآن و سنت کو سادگی سے قبول کیا
اسی لیے ان کا طریقہ سب سے محفوظ اور متوازن سمجھا جاتا ہے۔
نماز باجماعت کی تاکید — حدیث نبوی ﷺ پڑھنے کیلئے کلک کریں
خلاصہ
اس حصے میں ہم نے چار بنیادی اصول سمجھے:
- تحریف → معنی بدلنا
- تعطیل → صفات کا انکار
- تکییف → کیفیت بیان کرنا
- تمثیل → مخلوق سے مشابہت دینا
اور یہ بھی سمجھا کہ اہل السنہ کا راستہ ان تمام غلطیوں سے بچ کر اعتدال اختیار کرنا ہے۔
حوالہ:
شیخ محمد بن خلیفہ التمیمی، توحید الاسماء والصفات
اگلے حصے میں
اگلے پارٹ میں ہم دیکھیں گے:
- عقل اور وحی کا تعلق
- صفات کے باب میں فلسفہ اور کلام کے اثرات
- اور اہل السنہ نے ان کا جواب کیسے دیا
یہ حصہ اس موضوع کو مزید گہرائی سے سمجھنے میں مدد دے گا۔

0 تبصرے