فرقوں کے عقائد کا جائزہ | Sects and Their Beliefs

firqon-ka-aqeeda-aur-ahlus-sunnah

 

 

نواں حصہ: جہمیہ، معتزلہ اور اشاعرہ — اسماء و صفات کے باب میں مختلف مناہج

 

Nawan Hissa: Jahmiyyah, Mu‘tazilah aur Ash‘ariyyah — Asma wa Sifat ke Bab mein Mukhtalif Manahij


بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسول الله ۔

پچھلے حصے میں صفاتِ الٰہی کی چند اہم صفات، جیسے استواء، نزول اور کلامِ الٰہی پر اہل السنہ والجماعہ کا عقیدہ بیان کیا گیا۔ اب اس حصے میں ان مشہور گروہوں کا مختصر تعارف پیش کیا جائے گا جنہوں نے اسماء و صفات کے باب میں مختلف راستے اختیار کیے۔

یہ موضوع اس لیے اہم ہے تاکہ قاری کو معلوم ہو سکے کہ:

  • اہل السنہ کا منہج کیا ہے
  • دوسرے گروہوں نے کہاں اختلاف کیا
  • اور سلف صالحین نے کن اصولوں کو اختیار کیا۔

1. جہمیہ (Jahmiyyah)

جہمیہ کی نسبت “جہم بن صفوان” کی طرف کی جاتی ہے۔

یہ فرقہ اسماء و صفات کے باب میں سب سے زیادہ سخت تعطیل کی طرف گیا۔

جہمیہ کے عقائد

جہمیہ نے:

  • اللہ کی بہت سی صفات کا انکار کیا
  • کہا کہ اللہ حقیقتاً کلام نہیں کرتا
  • اور بعض نے یہاں تک کہا کہ قرآن مخلوق ہے۔

ان کے نزدیک صفات ماننے سے تشبیہ لازم آتی تھی، اسی لیے انہوں نے اکثر صفات کی نفی کر دی۔

اہل السنہ کا رد

اہل السنہ نے واضح کیا کہ:

  • صفات ماننے سے تشبیہ لازم نہیں آتی
  • کیونکہ اللہ کی صفات اس کی شان کے مطابق ہیں۔

قرآن و سنت میں جو صفات ثابت ہیں، انہیں ماننا ضروری ہے۔



2. معتزلہ (Mu‘tazilah)

معتزلہ ایک عقلی اور فلسفیانہ مکتبِ فکر تھا جو عقل کو بہت زیادہ اہمیت دیتا تھا۔

انہوں نے بھی صفات کے باب میں تاویل اور تعطیل کا راستہ اختیار کیا۔

معتزلہ کے بنیادی نظریات

معتزلہ کہتے تھے:

  • اللہ کی صفات الگ حقیقت نہیں رکھتیں
  • بلکہ صرف ذات ہی کافی ہے۔

اسی وجہ سے:

  • انہوں نے کئی صفات کی تاویل کی
  • اور بعض صفات کا انکار کیا۔

عقل کو وحی پر مقدم کرنا

معتزلہ کا بڑا اصول یہ تھا کہ:

  • اگر کوئی نص عقل کے خلاف محسوس ہو تو اس کی تاویل کی جائے۔

یہی وجہ تھی کہ انہوں نے:

  • استواء
  • نزول
  • کلام
    جیسی صفات کو ظاہری معنی پر قبول نہیں کیا۔

اہل السنہ کا موقف

اہل السنہ کہتے ہیں:

  • صحیح عقل کبھی صحیح وحی کے خلاف نہیں ہوتی
  • اور نصوص کو فلسفے کے تابع نہیں بنایا جا سکتا۔

حج: قرآن کی روشنی میں ایک جامع اور آسان فہم رہنمائی پڑھنے کیلئے کلک کریں 


3. اشاعرہ (Ash‘ariyyah)

اشاعرہ کی نسبت امام ابو الحسن الاشعری رحمہ اللہ کی طرف کی جاتی ہے۔

ابتداء میں انہوں نے معتزلہ کا رد کیا، لیکن بعد میں ان کے بعض متبعین نے صفات کے باب میں ایسا راستہ اختیار کیا جو مکمل طور پر سلف کے منہج کے مطابق نہیں تھا۔

اشاعرہ کا طریقہ

اشاعرہ نے بعض صفات کو ثابت کیا، جیسے:

  • علم
  • قدرت
  • حیات

لیکن کئی خبری صفات کی تاویل کی، جیسے:

  • ہاتھ
  • چہرہ
  • استواء

تاویل کا مسئلہ

مثلاً:

  • “ید” کو قدرت کے معنی میں لیا
  • “استواء” کو غلبہ قرار دیا۔

اہل السنہ کے نزدیک یہ طریقہ سلف کے ظاہر منہج سے مختلف ہے، کیونکہ سلف:

  • نصوص کو مانتے تھے
  • معنی کو ثابت کرتے تھے
  • لیکن کیفیت بیان نہیں کرتے تھے۔

وضو توڑنے والی چیزیں (مکمل فہرست، تفصیل اور اہم مسائل) پڑھنے کیلئے کلک کریں 


اہل السنہ والجماعہ کا متوازن راستہ

اہل السنہ:

  • نہ جہمیہ کی طرح صفات کا انکار کرتے ہیں
  • نہ تشبیہ میں مبتلا ہوتے ہیں
  • اور نہ فلسفیانہ پیچیدگیوں میں پڑتے ہیں۔

بلکہ ان کا اصول یہ ہے:

“جو اللہ اور اس کے رسول نے ثابت کیا، اسے ثابت کیا جائے، اور جو نفی کی گئی اسے نفی کیا جائے۔”

سلف صالحین کا طریقہ

سلف صالحین:

  • قرآن و سنت کو اصل مانتے تھے
  • فلسفہ اور غیر ضروری کلامی بحثوں سے بچتے تھے
  • اور ایمان کو سادگی کے ساتھ قبول کرتے تھے۔

اسی لیے ان کا منہج سب سے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔


اختلاف کیوں پیدا ہوئے؟

ان اختلافات کی چند بڑی وجوہات تھیں:

1. یونانی فلسفے کا اثر

بعض لوگوں نے فلسفے کو عقیدہ میں داخل کر دیا۔

2. عقل کو اصل بنانا

بعض گروہوں نے عقل کو وحی پر مقدم کیا۔

3. نصوص سے دوری

جب قرآن و سنت کے ظاہر معانی چھوڑے گئے تو اختلافات بڑھ گئے۔


وضو کا تعارف، اہمیت اور فضیلت (قرآن و حدیث کی روشنی میں) پڑھنے کیلئے کلک کریں 


اہل السنہ کا اصولِ اعتدال

اہل السنہ کا راستہ ہمیشہ اعتدال کا رہا ہے:

  • اثبات بھی
  • تنزیہ بھی

یعنی:

  • اللہ کی صفات کو ماننا
  • اور اللہ کو مخلوق سے پاک سمجھنا۔

کیا ہر اختلاف انسان کو گمراہ بنا دیتا ہے؟

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ:

  • تمام فرقوں کے بارے میں گفتگو علم، انصاف اور ادب کے ساتھ ہونی چاہیے۔
  • ہر شخص یا گروہ کے بارے میں سخت زبان استعمال کرنا درست نہیں۔

اہل السنہ کا مقصد:

  • حق کو واضح کرنا
  • اور صحیح عقیدہ بیان کرنا ہے۔

 حصہ اوّل: رمضان کے فضائل و مسائل پڑھنے کیلئے کلک کریں 


اہل السنہ کے نزدیک اصل نجات

اصل نجات اس میں ہے کہ:

  • قرآن و سنت کو سمجھا جائے
  • صحابہ اور سلف صالحین کے فہم کو اپنایا جائے
  • اور دین میں غلو اور فلسفیانہ پیچیدگی سے بچا جائے۔

خلاصہ

اس حصے میں ہم نے مختصراً سمجھا:

  • جہمیہ کا منہج کیا تھا
  • معتزلہ نے عقل کو کیسے مقدم کیا
  • اشاعرہ کا طریقہ کیا تھا
  • اور اہل السنہ والجماعہ کا متوازن عقیدہ کیا ہے۔

حوالہ:

شیخ محمد بن خلیفہ التمیمی، توحید الاسماء والصفات


اگلے حصے میں

⁠اگلے پارٹ میں ہم دیکھیں گے:

  • ⁠توحید الاسماء والصفات کے ایمان اور عبادت پر اثرات
  • اللہ کی معرفت انسان کی زندگی کیسے بدلتی ہے
  • ⁠صحیح عقیدہ دل، اخلاق اور عبادت کو کیسے مضبوط کرتا ہے۔

یہ حصہ اس علم کے عملی اور روحانی فوائد کو واضح کرے گا۔

⬅ اگلا حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں 

 ➡پچھلا حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں 


تحریر: وزڈم افکار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Close Menu