Part 1: Rozay mein Injection ka Hukum Kya Hai? | Part 1: Do Injections Break the Fast? | حصہ اوّل: روزے میں انجکشن کا حکم کیا ہے؟

part-1-rozay-mein-injection-ka-hukum

 

 

روزے میں انجکشن کا حکم: مسئلے کی تمہید اور بنیادی اصول

( حصہ اول )


رمضان المبارک کے ایام میں روزے سے متعلق بہت سے فقہی مسائل لوگوں کے ذہن میں آتے ہیں۔ جدید دور میں طب (میڈیکل سائنس) کی ترقی کے ساتھ کچھ نئے سوالات بھی پیدا ہوئے ہیں، جن میں سے ایک اہم مسئلہ روزے کی حالت میں انجکشن لگوانے کا حکم ہے۔ آج کل علاج کے لیے مختلف قسم کے انجکشن عام طور پر استعمال ہوتے ہیں، اس لیے روزہ داروں کے ذہن میں یہ سوال  پیدا ہوتا ہے کہ کیا انجکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟

اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے دو بنیادی باتوں پر غور کرنا ضروری ہے۔ پہلی بات انجکشن کی نوعیت اور اس کے جسم میں داخل ہونے کے طریقے سے متعلق ہے، اور دوسری بات انجکشن کے مقصد سے متعلق ہے کہ اسے دوا کے طور پر لگایا جا رہا ہے یا غذا کے طور پر۔ انہی دو پہلوؤں کو سامنے رکھ کر فقہاء نے اس مسئلے کی وضاحت کی ہے۔


حصہ اوّل: رمضان کے فضائل و مسائل پڑھنے کیلئے کلک کریں 


انجکشن کی مختلف طبی صورتیں

اہلِ طب کے مطابق انجکشن ایک ہی طریقے سے نہیں لگائے جاتے، بلکہ ان کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ بعض انجکشن براہِ راست رگوں میں لگائے جاتے ہیں، جیسا کہ عام بیماریوں کے علاج میں ہوتا ہے۔ بعض انجکشن گوشت یا پٹھوں میں لگائے جاتے ہیں، جبکہ بعض جلد اور گوشت کے درمیان لگائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ذیابیطس کے مریضوں کو انسولین عموماً جلد کے نیچے لگائی جاتی ہے۔ اسی طرح بعض مخصوص بیماریوں میں انجکشن پیٹ میں بھی لگایا جاتا ہے۔

یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان مختلف صورتوں میں روزے کا کیا حکم ہوگا۔ کیا ہر قسم کا انجکشن روزہ توڑ دیتا ہے یا نہیں؟


حصہ چہارم : رمضان کے فضائل و مسائل پڑھنے کیلئے کلک کریں 


جمہور علماء کی رائے

معاصر فقہاء میں اس مسئلے پر کچھ اختلاف ضرور پایا جاتا ہے، لیکن جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ انجکشن لگوانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ خواہ انجکشن رگ میں دیا جائے، گوشت میں لگایا جائے یا جلد کے نیچے دیا جائے، ان سب صورتوں میں روزہ برقرار رہتا ہے۔

بہت سے معتبر علماء نے اسی رائے کو اختیار کیا ہے۔ برصغیر کے علماء میں دارالعلوم دیوبند کے اکابر جیسے مولانا مفتی عزیز الرحمنؒ نے اپنی کتاب فتاویٰ دارالعلوم میں، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے امداد الفتاویٰ میں اور مفتی محمد شفیعؒ نے بھی اپنے فتاویٰ میں یہی موقف بیان فرمایا ہے کہ انجکشن لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

اسی طرح عرب دنیا کے متعدد معروف علماء نے بھی یہی رائے اختیار کی ہے۔ ان علماء کے نزدیک انجکشن چونکہ جسم کے قدرتی راستوں سے اندر نہیں جاتا، اس لیے اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔


آخری حصہ: رمضان کے فضائل و مسائل پڑھنے کیلئے کلک کریں 


روزہ ٹوٹنے کا بنیادی فقہی اصول

اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے فقہاء نے روزہ ٹوٹنے کے اصول بیان کیے ہیں۔ فقہی کتب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ اس وقت فاسد ہوتا ہے جب دو چیزوں میں سے کوئی ایک یا دونوں پائی جائیں:

  1. صورتِ افطار
  2. معنی افطار

صورتِ افطار کا مطلب یہ ہے کہ کوئی چیز منہ کے راستے نگل کر معدے تک پہنچائی جائے، جیسے کھانا یا پانی پینا۔ یہ وہ عام صورت ہے جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

دوسری چیز معنی افطار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسی چیز جسم کے اندر پہنچ جائے جو بدن کو فائدہ دے، خواہ وہ غذا ہو یا دوا۔ لیکن یہاں بھی ایک شرط ہے کہ وہ چیز جسم کے اندر قدرتی راستوں سے داخل ہو۔

فقہاء کی وضاحت کے مطابق روزہ اس وقت فاسد ہوتا ہے جب کوئی چیز جسم کے اندر جوف معدہ یا جوف دماغ تک پہنچ جائے اور وہ بھی جسم کے قدرتی راستوں کے ذریعے پہنچے۔ اگر یہ شرط پوری نہ ہو تو روزہ فاسد نہیں ہوتا۔


آخری حصہ: الفطرانہ (صدقۃ الفطر) مکمل رہنمائی  پڑھنے کیلئے کلک کریں 


انجکشن اور فقہی اصول

اب اگر اس اصول کو انجکشن کے مسئلے پر منطبق کیا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے۔ انجکشن کے ذریعے دوا یا دوا نما مادہ جسم میں ضرور داخل ہوتا ہے، لیکن وہ منہ یا ناک جیسے قدرتی راستوں سے داخل نہیں ہوتا بلکہ رگوں، گوشت یا جلد کے ذریعے جسم میں پہنچتا ہے۔

اس لیے فقہاء کے بیان کردہ اصول کے مطابق انجکشن میں صورتِ افطار تو بالکل موجود نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں نہ کھانا ہوتا ہے اور نہ پینا۔ اگرچہ اس میں کسی حد تک معنی افطار کا پہلو پایا جا سکتا ہے، لیکن چونکہ یہ جسم کے قدرتی راستوں سے داخل نہیں ہوتا، اس لیے یہ روزہ توڑنے کا سبب نہیں بنتا۔

اسی بنیاد پر جمہور علماء نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ عام طبی انجکشن روزے کو فاسد نہیں کرتے۔


 رات میں 100 آیات کی تلاوت کا اجر   پڑھنے کیلئے کلک کریں 


خلاصہ

خلاصہ یہ ہے کہ روزے میں انجکشن کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے فقہی اصولوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ انجکشن مختلف صورتوں میں لگایا جاتا ہے، لیکن چونکہ وہ جسم کے قدرتی راستوں سے معدے یا دماغ تک نہیں پہنچتا، اس لیے جمہور علماء کے نزدیک اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

البتہ اس مسئلے کی مزید وضاحت اس وقت ہوتی ہے جب ہم فقہاء کے بیان کردہ اصول منفذِ اصلی اور اس کی مثالوں کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔ اگلے حصے میں ہم اسی مسئلے کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کریں گے اور دیکھیں گے کہ فقہاء نے کن دلائل اور مثالوں کے ذریعے اس اصول کو بیان کیا ہے۔


اگلاحصہ ⬅️ حصہ دوم: روزے میں انجکشن کا حکم: فقہی اصول



Content by Wisdom Afkar

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Close Menu