حصہ سوم: سلف صالحین اور اہل السنہ والجماعہ کا منہج (اسماء و صفات کے باب میں)
Part 3: Salaf Saliheen aur Ahl al-Sunnah wal-Jama‘ah ka Manhaj (Asma wa Sifat ke Bab mein)
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسول الله ﷺ۔
پچھلے حصے میں توحید الاسماء والصفات کی تعریف اور اس کا تعلق دیگر اقسامِ توحید کے ساتھ واضح کیا گیا۔ اب اس حصے میں ہم اس بات کو سمجھیں گے کہ سلف صالحین کون تھے اور اسماء و صفات کے معاملے میں اہل السنہ والجماعہ کا اصل منہج کیا ہے۔
یہ حصہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ صحیح عقیدہ صرف تعریف جان لینے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم صحیح طریقہ (منہج) کو اختیار کریں—وہی طریقہ جو ابتدائی مسلمانوں نے اپنایا۔
توحید الاسماء والصفات کا تعارف پڑھنے کیلئے کلک کریں
سلف صالحین کون ہیں؟
“سلف” سے مراد وہ ابتدائی نیک لوگ ہیں جو اس امت کے بہترین ادوار میں گزرے:
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
- تابعین رحمہم اللہ
- تبع تابعین رحمہم اللہ
یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا:
“خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم”
“سب سے بہتر لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں”
یہی لوگ دین کو سب سے زیادہ صحیح، خالص اور مکمل انداز میں سمجھنے والے تھے۔
حج قرآن کی روشنی میں پڑھنے کیلئے کلک کریں
اہل السنہ والجماعہ کا مطلب کیا ہے؟
اہل السنہ والجماعہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو:
- قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامتے ہیں
- صحابہ اور سلف کے طریقے پر چلتے ہیں
- دین میں نئی چیزیں (بدعات) ایجاد نہیں کرتے
یہی وہ جماعت ہے جو ہر دور میں حق پر قائم رہی۔
وضو کی سنتیں اور آداب پڑھنے کیلئے کلک کریں
اسماء و صفات کے معاملے میں سلف کا منہج
اس باب میں سلف صالحین کا طریقہ نہایت واضح، سادہ اور متوازن تھا۔ اسے چند اصولوں میں سمجھا جا سکتا ہے:
1. نصوص کو بغیر تبدیلی کے ماننا
سلف کا اصول یہ تھا کہ:
- جو کچھ قرآن و سنت میں آیا، اسے ویسا ہی مان لیا جائے
- اس کے معنی کو بدلنے کی کوشش نہ کی جائے
یعنی نہ تحریف کی جائے، نہ تاویلِ باطل کی جائے۔
2. صفات کا انکار نہ کرنا
انہوں نے اللہ کی کسی بھی صفت کا انکار نہیں کیا۔
- اگر قرآن میں آیا کہ اللہ سنتا ہے → انہوں نے مانا
- اگر آیا کہ اللہ دیکھتا ہے → انہوں نے مانا
انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ صفات صرف مجازی ہیں یا ان کا کوئی اور مطلب ہے۔
3. کیفیت (How) میں بحث نہ کرنا
یہ سلف کا ایک نہایت اہم اصول تھا:
- وہ صفات کو مانتے تھے
- لیکن یہ سوال نہیں کرتے تھے کہ “کیسے؟”
مثلاً:
اللہ عرش پر مستوی ہے → وہ مانتے تھے
لیکن “کیسے مستوی ہے؟” → اس پر بحث نہیں کرتے تھے
کیونکہ یہ علم انسان کے دائرے سے باہر ہے۔
4. مخلوق سے مشابہت نہ دینا
انہوں نے اللہ کو مخلوق جیسا نہیں سمجھا۔
- اللہ سنتا ہے → لیکن انسان کی طرح نہیں
- اللہ دیکھتا ہے → لیکن مخلوق جیسا نہیں
اسی لیے قرآن میں فرمایا:
﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾
5. علم اور عمل کا جمع ہونا
سلف صرف نظری بحث نہیں کرتے تھے، بلکہ:
- اللہ کو پہچانتے تھے
- اور اسی کے مطابق زندگی گزارتے تھے
ان کے لیے یہ علم صرف معلومات نہیں بلکہ عبادت کا ذریعہ تھا۔
حج اور عمرہ مکمل گائیڈ پڑھنے کیلئے کلک کریں
یہ منہج کیوں اہم ہے؟
یہ طریقہ اس لیے اہم ہے کیونکہ:
- یہ قرآن و سنت پر مبنی ہے
- یہ افراط و تفریط سے بچاتا ہے
- یہ انسان کو گمراہی سے محفوظ رکھتا ہے
اگر انسان اس توازن کو چھوڑ دے تو وہ یا تو:
- صفات کا انکار کرنے لگتا ہے
- اللہ کو مخلوق جیسا سمجھنے لگتا ہے
انحراف کے دو بڑے راستے
اسماء و صفات کے باب میں لوگ عموماً دو extremes میں چلے جاتے ہیں:
1. تعطیل (Denial)
یعنی اللہ کی صفات کا انکار کرنا یا انہیں بدل دینا
مثلاً:
یہ کہنا کہ “اللہ کا سننا دیکھنا حقیقی نہیں”
2. تمثیل (Likeness)
یعنی اللہ کو مخلوق جیسا سمجھنا
مثلاً:
یہ تصور کرنا کہ اللہ کی صفات انسان جیسی ہیں
اہل السنہ کا درمیانی راستہ
اہل السنہ ان دونوں extremes سے بچتے ہیں:
- نہ صفات کا انکار کرتے ہیں
- نہ اللہ کو مخلوق جیسا بناتے ہیں
بلکہ وہ:
- صفات کو مانتے ہیں
- اور اللہ کو ہر نقص اور مشابہت سے پاک سمجھتے ہیں
بغیر تحقیق بات پھیلانے کا گناہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
یہی صحیح منہج کیوں ہے؟
کیونکہ:
- یہی صحابہ کا طریقہ تھا
- یہی تابعین کا طریقہ تھا
- اور یہی قرآن و سنت کے مطابق ہے
یہ منہج عقل اور وحی کے درمیان صحیح توازن قائم کرتا ہے۔
ایک اہم نکتہ
بعض لوگ کہتے ہیں:
“ہم صرف قرآن کو مانتے ہیں”
لیکن سوال یہ ہے:
قرآن کو کس کے فہم کے مطابق سمجھا جائے؟
اگر سلف کے فہم کو چھوڑ دیا جائے تو:
- ہر شخص اپنی مرضی کی تفسیر کرے گا
- اور دین میں اختلاف بڑھ جائے گا
اسی لیے سلف کا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
خلاصہ
اس حصے میں ہم نے یہ سمجھا:
- سلف صالحین کون ہیں
- اہل السنہ والجماعہ کا مطلب کیا ہے
- اسماء و صفات کے باب میں ان کا منہج کیا ہے
- اور کیوں یہی منہج درست اور محفوظ ہے
روزہ (صوم): حقیقت، مقصد اور فرضیت پڑھنے کیلئے کلک کریں
حوالہ:
شیخ محمد بن خلیفہ التمیمی، توحید الاسماء والصفات
اگلے حصے میں
اگلے پارٹ میں ہم تفصیل سے دیکھیں گے:
- اہل السنہ کے چار بنیادی اصول
- “بلا تحریف، بلا تعطیل، بلا تکییف، بلا تمثیل” کی مکمل وضاحت
یہ حصہ آپ کے عقیدہ کو مزید مضبوط کرے گا اور غلط فہمیوں کو دور کرے گا۔

0 تبصرے