مکہ سے مدینہ کا سفر
مکہ مکرمہ کی برکات سمیٹنے کے بعد، سہ پہر تقریباً 4 بجے ہم مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مکہ سے مدینہ کا سفر کرتے ہوئے زیادہ تر سیاہ پہاڑ نظر آتے ہیں۔ ان پہاڑوں کو دیکھ کر بار بار یہ خیال آتا ہے کہ تقریباً 1400 سال پہلے یہی علاقہ کیسا ہوگا، جب محمد ﷺ نے ابوبکر صدیق کے ساتھ ہجرت فرمائی، اور کفار ان کے تعاقب میں تھے۔ یقیناً وہ سفر صبر، ایمان اور قربانی کی عظیم مثال تھا۔
پہلے عمرہ کا یادگار سفر پڑھنے کیلئے کلک کریں
مدینہ منورہ میں آمد اور پہلی زیارتیں
تقریباً رات 11 بجے ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ سب سے پہلے بس مسجد قباء پر رکی۔ یہ اسلام کی پہلی مسجد ہے، اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اپنے گھر میں وضو کر کے مسجد قباء آئے اور وہاں دو رکعت نماز ادا کرے، اسے ایک عمرہ کا ثواب ملتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ)
مسجد کے اطراف کو نہایت خوبصورتی سے پارکس اور سبزہ زاروں سے سجایا گیا ہے، جو دل کو ایک خاص سکون دیتے ہیں۔
اس کے بعد ہم جبل احد گئے۔ اب اس کے گرد حفاظتی باڑ لگا دی گئی ہے اور اوپر چڑھنے کی اجازت نہیں۔ یہی وہ مقام ہے۔ جہاں نبی کریم ﷺ پیارے چچا کے حمزہ بن عبدالمطلب سمیت تقریباً 70 صحابہ کرام شہید ہوئے۔ یہاں کھڑے ہو کر دل بے اختیار یہ سوچتا ہے کہ دینِ اسلام کے لیے کتنی عظیم قربانیاں دی گئی ہیں۔
مدینہ منورہ کی زیارت کا مکمل طریقہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
مسجد نبوی میں حاضری اور ادب
رات تقریباً 12:30 بجے ہم ہوٹل پہنچے۔ کچھ لوگ فوراً مسجد نبوی کے لیے روانہ ہو گئے اور کچھ نے آرام کیا۔ میں بھی کچھ دیر آرام کرنے کے بعد فجر سے پہلے مسجد نبوی کے لیے نکلا۔
راستے میں ایک شخص نے ہمیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر مسجد کے قریب اتار دیا—یہ مدینہ کی مہمان نوازی کی ایک خوبصورت جھلک تھی۔
مسجد میں داخل ہو کر سب سے پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کی، اور فجر کے بعد روضۂ رسول ﷺ پر سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
یہاں ایک لمحہ فکر کا ہے:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"کوئی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ میری روح کو لوٹا دیتا ہے، (یعنی مجھے متوجہ کر دیتا ہے) یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔"
(سنن ابی داؤد: 2041)
لہٰذا یہاں کھڑے ہو کر دل سے درود و سلام پیش کرنا، دعا کرنا اور اللہ سے قبولیت مانگنا ہی اصل مقصد ہونا چاہیے—نہ کہ تصاویر اور ویڈیوز میں مشغول ہونا۔ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں بے ادبی نہ ہو جائے۔اور قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نصیب کرے۔
امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی امام حسنؑ کے نام وصیت پڑھنے کیلئے کلک کریں
سیرت النبی ﷺ میوزیم: ایک جدید تجربہ
اپنے اس سفر میں میں نے The International Fair and Museum of the Prophet's Biography کا بھی وزٹ کیا۔ اگر آپ سیرت النبی ﷺ کو جدید انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ جگہ ضرور دیکھیں۔
یہاں:
- جدید 3D ٹیکنالوجی کے ذریعے مکہ اور مدینہ کے قدیم مناظر دکھائے گئے ہیں
- مختلف انبیاء کرام کے واقعات بیان کیے گئے ہیں
- کائنات (Galaxy) کا شاندار بصری مظاہرہ موجود ہے
- نبی کریم ﷺ کے زمانے سے متعلق اشیاء کے ماڈلز پیش کیے گئے ہیں
- مختلف زبانوں میں گائیڈ دستیاب ہوتا ہے
- آخر میں ایک مختصر مگر مؤثر فلم دکھائی جاتی ہے
میوزیم سے نکلتے وقت ایک شاپ بھی ہے جہاں سیرت النبی ﷺ کی مختلف زبانوں میں کتب اور تحائف دستیاب ہوتے ہیں—میں نے بھی اردو میں دو کتابیں خریدیں۔
اسی کے ساتھ میں نے Assalam Museum کا بھی دورہ کیا، جو مدینہ کی تاریخ، ثقافت اور اسلامی تہذیب کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین جگہ ہے۔
بغیر تحقیق بات پھیلانے کا گناہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
زیارات اور رخصت کے لمحات
مدینہ منورہ میں زیارات کے لیے بسیں بھی دستیاب تھیں، مگر ہم نے ٹیکسی کے ذریعے مختلف مقامات کی زیارت کی۔
روضۂ مبارک کے قریب ریاض الجنہ میں حاضری کے لیے ہمیں مقررہ وقت (3 بجے) ملا، جہاں ہم نے نوافل ادا کیے اور دعا کی۔
رات مدینہ منورہ میں گزاری، اور اگلی صبح تقریباً 2 بجے روضۂ رسول ﷺ پر الوداعی سلام پیش کیا۔ وہ لمحے انتہائی جذباتی تھے—دل چاہتا تھا کہ یہ وقت کبھی ختم نہ ہو۔
فجر کے بعد بوجھل دل کے ساتھ صبح 7 بجے ریاض کے لیے واپسی کا سفر شروع ہوا۔
اختتامیہ
یہ سفر صرف ایک سفر نہیں تھا، بلکہ ایمان کو تازہ کرنے والا ایک روحانی تجربہ تھا۔










%5B1%5D.webp)

0 تبصرے