سحری، افطار اور تراویح کی فضیلت
(رمضان کے فضائل و مسائل – حصہ سوم)
رمضان المبارک صرف روزہ رکھنے کا نام نہیں بلکہ یہ عبادات کی بہار ہے۔ سحری کی برکتیں، افطار کی قبولیت کی گھڑیاں اور تراویح کی نورانی راتیں یہ سب مل کر رمضان کو ایک مکمل روحانی تربیت گاہ بنا دیتے ہیں۔
اس آرٹیکل رمضان کے فضائل و مسائل میں ان عبادات کی اہمیت کو احادیث کی روشنی میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔
نماز کا مکمل سنت طریقہ: تکبیرِ تحریمہ سے سلام تک" پڑھنے کیلئے کلک کریں
سحری کی برکت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“سحری کیا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔”
سحری صرف کھانا کھانے کا نام نہیں بلکہ یہ سنت ہے، عبادت ہے اور دن بھر کے روزے کے لیے روحانی اور جسمانی تیاری ہے۔
سحری کی چند برکتیں:
- سنت پر عمل کا ثواب
- فرشتوں کی دعا
- روزے میں آسانی
- عبادت کے لیے قوت
ہمیں چاہیے کہ جلدی سونے اور سحری کے وقت بیدار ہونے کی عادت اپنائیں، تاکہ دن کی شروعات اللہ کے ذکر سے ہو۔
مسلمان نہ ظلم کرے نہ ظلم ہونے دے — نبوی ہدایت پڑھنے کیلئے کلک کریں
افطار کی گھڑی – قبولیت کا وقت
افطار کا وقت صرف کھانا کھانے کا لمحہ نہیں بلکہ دعا کی قبولیت کی گھڑی ہے۔
نبی ﷺ افطار میں جلدی فرماتے تھے اور سادگی اختیار کرتے تھے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:
- افطار میں اسراف نہ کریں
- سادہ اور حلال کھانے پر اکتفا کریں
- افطار سے پہلے چند لمحے دعا میں گزاریں
روزہ دار کے لیے افطار کے وقت کی دعا رد نہیں کی جاتی۔ یہ وہ لمحہ ہے جب بندہ کمزور ہوتا ہے، اور اسی کمزوری میں اللہ کی مدد سب سے قریب ہوتی ہے۔
حصہ دوم : زکوٰۃ کی فضیلت: قرآن و حدیث کی روشنی میں پڑھنے کیلئے کلک کریں
افطار کرانے کی فضیلت
حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے، اسے بھی اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا روزہ رکھنے والے کو، بغیر اس کے اجر میں کمی کے۔
یہ رمضان ہمیں سکھاتا ہے:
- دوسروں کا خیال رکھنا
- غریبوں اور مستحقین کی مدد کرنا
- اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا
کبھی کبھی ایک کھجور یا پانی کا گلاس بھی بڑے اجر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
بغیر تحقیق بات پھیلانے کا گناہ۔ پڑھنے کیلئے کلک کریں
تراویح – راتوں کی روشنی
رمضان کی راتیں تراویح سے روشن ہوتی ہیں۔ یہ وہ عبادت ہے جس میں مسلمان قرآنِ کریم کو سنتے اور اللہ کے حضور کھڑے ہو کر عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔
تراویح کی اہمیت:
- گناہوں کی معافی کا ذریعہ
- قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کا موقع
- اجتماعی عبادت کی برکت
نبی کریم ﷺ نے رمضان کی راتوں میں قیام کی ترغیب دی اور اسے ایمان اور احتساب کے ساتھ ادا کرنے کی تاکید فرمائی۔
تراویح صرف رسم نہیں بلکہ روحانی تربیت ہے۔ جب ہم طویل قیام میں کھڑے ہوتے ہیں تو ہمیں اپنے گناہ یاد آتے ہیں اور دل نرم ہوتا ہے۔
حصہ اوّل: رمضان کے فضائل و مسائل پڑھنے کیلئے کلک کریں
آخری عشرہ – خاص اہتمام
رمضان کے آخری دس دن خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہی دنوں میں شبِ قدر جیسی عظیم رات آتی ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
نبی ﷺ آخری عشرے میں:
- عبادت میں زیادہ محنت فرماتے
- راتوں کو بیدار رہتے
- اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ رمضان کا اختتام غفلت میں نہیں بلکہ مزید عبادت اور محنت میں ہونا چاہیے۔
ہمارا عمل کیا ہو؟
- سحری کو معمولی نہ سمجھیں
- افطار کو دعا کا وقت بنائیں
- تراویح میں باقاعدگی اختیار کریں
- آخری عشرے میں عبادت بڑھا دیں
رمضان کی یہ عبادات ہمیں صرف ایک مہینے کے لیے نہیں بلکہ پوری زندگی کے لیے سنوارنے آئی ہیں۔
سوال یہ ہے:
کیا ہم ان برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں؟
پچھلا حصہ ⬅️ حصہ دوم: رمضان کے فضائل و مسائل
اگلا حصہ ⬅️ حصہ چہارم : رمضان کے فضائل و مسائل
Content by Wisdom Afkar

