حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کی امام حسنؑ کے نام وصیت
ایک جامع اخلاقی و روحانی منشور
حضرت امام حسن بن علی علیہما السلام فرماتے ہیں:
جب میرے والدِ گرامی، امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت کا وقت قریب آیا تو آپ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
یہ علی ابن ابی طالب کی وصیت ہے، جو محمد رسول اللہ ﷺ کے بھائی، داماد اور ساتھی ہیں۔
توحید و رسالت کی گواہی
میری پہلی وصیت یہ ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کوئی معبود نہیں، اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جنہیں اللہ نے اپنے علم کا امین بنایا اور تمام خیر کے لیے منتخب فرمایا۔
اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے اٹھانے والا ہے، اعمال کا حساب لینے والا ہے اور دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔
اے میرے فرزند حسن!
میں تمہیں وہی وصیت کرتا ہوں جو رسولِ خدا ﷺ نے مجھے فرمائی تھی، اور وہی وصیت تمہارے لیے کافی ہے۔
صبر، گوشہ نشینی اور امت کی اصلاح
اے میرے فرزند!
جب تم پر وہ حالات آئیں جو رسولِ خدا ﷺ کے بعد مجھ پر آئے تھے تو گوشہ نشینی اختیار کرنا اور امت کی خطاؤں و لغزشوں پر رنج و غم کا اظہار کرنا۔
اس کا مقصد ذاتی غم نہیں بلکہ امت کی اصلاح، آخرت کی یاد اور دنیا کی محبت سے نجات ہے۔
عبادات اور معاشرتی ذمہ داریاں
میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ:
- نماز کو اول وقت پر ادا کرنا
- زکوٰۃ کو اس کے مستحقین تک پہنچانا
- شبہ کے وقت خاموشی اور میانہ روی اختیار کرنا
- خوشی اور غصے دونوں حالتوں میں عدل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا
- اچھی ہمسائیگی، مہمان نوازی اور بیماروں پر رحم کرنا
- مصیبت زدہ افراد کی دلجوئی کرنا
- صلۂ رحمی، مساکین سے محبت اور ان کے ساتھ تواضع اختیار کرنا
کیونکہ یہی افضل عبادت ہے
دنیا، موت اور نفس کی تربیت
اے میرے فرزند!
- خواہشات کو محدود رکھو
- موت کو ہمیشہ یاد رکھو
- دنیا میں زہد و تقویٰ اختیار کرو
کیونکہ تم موت کے قیدی ہو، مصیبتوں کا نشانہ ہو اور بیماری تمہیں جدا کر دے گی۔
اپنے ظاہر و باطن میں اللہ سے ڈرتے رہنا،
کاموں میں جلد بازی سے پرہیز کرنا،
آخرت کے کاموں میں جلدی اور دنیاوی معاملات میں غور و فکر سے کام لینا۔
اخلاقی و سماجی ہدایات
- تہمت کے مقامات سے خود کو دور رکھو
- بدگمانی والی مجالس سے اجتناب کرو
- نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو
- نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو
- فاسق سے دینی دوری رکھو
- جھگڑوں اور لاحاصل بحث سے بچو
- عبادت اور معیشت میں میانہ روی اختیار کرو
- خاموشی کو لازم پکڑو تاکہ محفوظ رہو
ذکرِ خدا، روزہ اور دعا
- ہر حال میں اللہ کو یاد رکھو
- روزے کو لازم کرو، کیونکہ روزہ بدن کی زکوٰۃ اور جہنم سے ڈھال ہے
- دعا کو زیادہ کرو
- ذکرِ خدا کی مجالس میں شرکت کرو
- اپنے نفس سے جہاد کرو اور دشمن سے ہوشیار رہو
اہلِ بیتؑ کے بارے میں خصوصی وصیت
اے میرے فرزند!
میں تمہیں تمہارے بھائی محمد بن حنفیہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کرتا ہوں،
اور حسینؑ کے بارے میں سخت وصیت کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ تمہارا حقیقی بھائی اور دل کا ٹکڑا ہے۔
اللہ تم سب کا محافظ ہو،
میں اللہ سے تمہاری اصلاح، بغاوت سے حفاظت اور تمہارے لیے خیر و صبر کی دعا کرتا ہوں۔
وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ
حوالہ
شیخ طوسی
جلد اول، صفحہ 31
Content by Wisdom Afkar

0 تبصرے