Safar-e-Haram: Yaadgaar Lamhat | Journey of Haram: Memorable Moments | سفرِ حرم: یادگار لمحات

 

safar-e-haram-yaadgaar-lamhat-journey

 

ریاض (بطحا) سے مکہ مکرمہ: ایک نیا تجربہ اور اہم مشاہدات


2 اپریل 2026  کا دن میری زندگی کے یادگار ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ اگرچہ میں اس سے پہلے بھی عمرہ کی سعادت حاصل کر چکا ہوں، لیکن اس بار ایک نیا تجربہ میرا منتظر تھا ریاض کے علاقے بطحا سے سفر کرنے کا پہلا موقع۔

میں اپنی رہائش گاہ سے نکلا اور ریاض میٹرو کے ذریعے بطحا کی طرف روانہ ہوا۔ عام طور پر میں ’حارہ‘ سے سفر کیا کرتا تھا، مگر اس بار وہاں سہولت چند دنوں کے لیے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مجھے بطحا کا رخ کرنا پڑا۔


سقراط اور جنت و جہنم کی داستان لاعلمی سے نجات کا سبق  پڑھنے کیلئے کلک کریں 


بطحا کی گہما گہمی اور احتیاط کے پہلو

بطحا کا ماحول کسی حد تک ہمارے برصغیر کے مصروف بازاروں جیسا محسوس ہوتا ہے ہر طرف رش، شور اور گہما گہمی۔ یہاں سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے لیے صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک تقریباً ہر آدھے گھنٹے بعد بسیں روانہ ہوتی ہیں۔

میں نے ایک ٹریول آفس سے مکہ اور مدینہ کا مشترکہ پیکج لیا، جس میں ہوٹل کی سہولت بھی شامل تھی۔


اہم انتباہ:

بطحا میں دھوکہ دہی کے واقعات بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا کہ چند پاکستانی نوجوانوں سے مکمل پیکج کی رقم وصول کی گئی، مگر مکہ پہنچنے پر نہ انہیں ہوٹل ملا اور نہ ہی ٹریول ایجنٹ کا نمبر دستیاب رہا۔
لہٰذا میری گزارش ہے کہ ٹکٹ خریدتے وقت تمام تفصیلات کی اچھی طرح تصدیق کریں، اور اگر خود پڑھنے میں مشکل ہو تو کسی قابلِ اعتماد شخص سے ضرور مدد لیں۔


حج اور عمرہ مکمل گائیڈ  پڑھنے کیلئے کلک کریں 


روحانی سفر: میقات سے مکہ مکرمہ تک

تقریباً سہ پہر 3 بجے ہم ریاض سے روانہ ہوئے۔ سفر کے دوران کھانے اور نماز کے لیے مناسب وقفے دیے جاتے رہے، جبکہ بس کا معیار اور ڈرائیور کا رویہ بھی تسلی بخش تھا۔

رات تقریباً 3 بجے ہم میقات قرن المنازل (السيل الكبير) پہنچے۔ یہاں ہم نے احرام باندھا، دو رکعت نفل ادا کیے اور عمرہ کی نیت کے ساتھ توبہ و استغفار میں مشغول ہو گئے۔ وہ لمحے انتہائی روح پرور تھے  ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے دنیا کی تمام فکریں ختم ہو گئی ہوں۔

فجر کی اذان سے قبل ہم مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔


عمرہ کا مکمل مسنون طریقہ  پڑھنے کیلئے کلک کریں 


ہوٹل کا تلخ تجربہ

مکہ پہنچ کر ہوٹل کی حالت دیکھ کر خاصی مایوسی ہوئی۔ استقبالیہ پر صفائی کا فقدان تھا اور کمروں کی حالت بھی غیر تسلی بخش تھی۔ بدبو اور گندگی نے مزید پریشان کیا۔

بالآخر جب میں نے بلدیہ (میونسپلٹی) میں شکایت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، تب جا کر کچھ بہتری آئی اور کم از کم بستر اور کمرے کی صفائی کی گئی۔

یہ تجربہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بطحا کے کئی ٹریول ایجنٹس خود ہوٹل کے معیار سے واقف نہیں ہوتے، کیونکہ وہ یہ سہولت کسی تیسری ایجنسی کے ذریعے فراہم کرتے ہیں۔

 

حج و عمرہ کے برابر اعمال  پڑھنے کیلئے کلک کریں 


مسجد الحرام: پہلی جھلک اور چند گزارشات

مسجد الحرام میں داخل ہوتے ہی جو کیفیت طاری ہوتی ہے، اسے الفاظ میں بیان کرنا واقعی مشکل ہے۔ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور دل میں اللہ کی محبت ایک نئی شدت کے ساتھ جاگ اٹھتی ہے۔

چونکہ جمعہ کا دن تھا، اس لیے طواف کے دوران غیر معمولی رش تھا۔

یہاں ایک اہم بات قابلِ ذکر ہے:

حجرِ اسود کو بوسہ دینے کے لیے دھکم پیل کرنا نہ صرف دوسروں کے لیے تکلیف دہ ہے بلکہ عبادت کے اصل مقصد کے بھی خلاف ہے۔ اسی طرح افسوس کے ساتھ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ کچھ لوگ عبادت کے بجائے سیلفی اور ویڈیوز بنانے میں مصروف تھے۔

میری نظر میں اللہ کے گھر کی حاضری کا اصل مقصد عبادت، دعا اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنا ہے نہ کہ دنیاوی دکھاوے میں وقت ضائع کرنا۔


 امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی امام حسنؑ کے نام وصیت پڑھنے کیلئے کلک کریں 


واپسی کا مشکل راستہ

عمرہ ادا کرنے کے بعد جب میں ہوٹل واپس جا رہا تھا تو راستہ بھول گیا۔ تقریباً 3 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا مزید مشکل ہو گیا کیونکہ مجھے سرنگوں (tunnels) کے راستے سے گزرنا پڑا اور اس دوران کوئی ٹیکسی بھی دستیاب نہ تھی۔

کافی مشقت اور تھکن کے بعد بالآخر ہوٹل پہنچا، جہاں پہنچتے پہنچتے جسم مکمل طور پر تھک چکا تھا۔


حرم کی خوبصورتی اور توسیع

جمعہ کی نماز کے لیے میں دوبارہ حرم گیا اور کنگ عبداللہ گیٹ سے داخل ہوا۔ مسجد الحرام کی نئی توسیع نہایت شاندار اور دیدہ زیب ہے، اور جاری کام اس کی عظمت میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

ہم ہفتے کی شام تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، اور پھر شام 4 بجے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہو گئے۔


مدینہ منورہ کی زیارت کا مکمل طریقہ  پڑھنے کیلئے کلک کریں 


میرا مشورہ

اگر آپ عمرہ کے لیے جا رہے ہیں، خصوصاً پہلی بار، تو مکمل تیاری اور تحقیق کے ساتھ سفر کریں۔
ایسے بابرکت مقامات پر وقت کی قدر کریں، دنیاوی مصروفیات کو ایک طرف رکھیں اور اپنی توجہ عبادت، دعا اور اللہ کی یاد میں مرکوز رکھیں۔


مدینہ منورہ کا سفر کیسا رہا؟
ان شاء اللہ، اس کا احوال میں اپنی اگلی تحریر میں بیان کروں گا۔


مدینہ کا سفر: زیارات اور روحانی لمحات



Content by Wisdom Afkar

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے