2007 کا پہلا یادگار عمرہ: ایک روحانی سفر اور کچھ ان کہی یادیں
بسم الله الرحمن الرحيم
ایسا ہی ایک یادگار سفر ہمارا 2007 کا عمرہ کا سفر تھا، جسے ہم آج تک نہیں بھول پائے۔
نومبر 2007 میں، میں پاکستان سے سعودی عرب ایک کمپنی میں کام کے لیے آیا۔ خوش قسمتی سے کمپنی میں میرا ایک جاننے والا پہلے سے موجود تھا، جس نے شروع میں میری کافی مدد کی۔
تقریباً 15 سے 20 دن گزرے ہوں گے کہ اس نے مجھ سے پوچھا: “کیا تم عمرہ کرنے جانا چاہتے ہو؟”
میں نے فوراً جواب دیا: “کیوں نہیں، ضرور جانا ہے!”
ہماری کمپنی میں ایک منیجر تھا جو کنسٹرکشن کا کام دیکھتا تھا، اور اس کے پاس کمپنی کی گاڑی بھی تھی۔ اس کے ساتھ اس کا بھائی، اس کے گاؤں کا ایک دوست، میں، اور میرا ایک اور دوست (جو مجھ سے ایک ماہ پہلے آیا تھا) ہم سب عمرہ کے لیے روانہ ہوگئے۔
عمرہ کا مکمل مسنون طریقہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
ہم ریاض سے نکلے اور منیجر خود گاڑی چلا رہا تھا۔ راستے میں وہ ہمیں عام ہائی وے ریسٹورنٹس کے بجائے قریبی آبادیوں میں لے جاتا، جہاں ہم مقامی ہوٹلوں میں کھانا کھاتے۔
جب ہم میقات پہنچے تو اس نے ہمیں احرام باندھنے کا طریقہ سمجھایا۔ ہم نے احرام باندھا اور رات تقریباً 2 سے 3 بجے کے درمیان عمرہ ادا کیا۔
اس وقت (2007 میں) رش بہت کم ہوتا تھا، اس لیے ہم نے سکون اور اطمینان کے ساتھ عمرہ کیا۔ ہمیں حجرِ اسود کا استلام کرنے اور بوسہ لینے کا بھی موقع ملا۔
ایک دلچسپ واقعہ یہ پیش آیا کہ جب میں ہوٹل میں نہانے گیا تو پانی بہت زیادہ ٹھنڈا تھا اور اس سے کچھ ہی دیر پہلے میں نے سر بھی منڈوایا تھا 😄
سفرِ حرم: یادگار لمحات پڑھنے کیلئے کلک کریں
اگلے دن شام تک ہم مکہ میں رہے، پھر مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوگئے۔
اس وقت مسجد نبوی آج کے مقابلے میں کافی چھوٹی تھی۔ ہم نے نمازیں ادا کیں اور روضہ رسول ﷺ پر سلام پیش کیا۔
رات کو دوبارہ مسجد گئے تو زیادہ تر دروازے بند ہو رہے تھے، صرف باب السلام کھلا تھا۔ ہم اسی دروازے سے اندر گئے اور ریاض الجنہ میں داخل ہوگئے۔ آج کل ریاض الجنہ میں داخلے کے لیے باقاعدہ اپوائنٹمنٹ لینا پڑتا ہے، لیکن اس وقت وہاں رات کے وقت بمشکل 10 افراد بھی موجود نہیں تھے۔
اگلے دن جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد ہم واپسی کے لیے روانہ ہوئے، مگر راستے میں ایک مشکل پیش آگئی۔
مدینہ سے واپسی کا سفر ایک نئی آزمائش لے کر آیا۔ کچھ فاصلے پر جا کر ہماری گاڑی اچانک بند ہو گئی۔ ہم نے بہت کوشش کی، لیکن وہ اسٹارٹ نہ ہوئی۔ جمعہ کا دن تھا، سارا بازار بند تھا اور ورکشاپس کے شٹر گرے ہوئے تھے۔ بڑی مشکل سے ایک مکینک ملا، مگر اس نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ یہ کمپیوٹرائزڈ گاڑی ہے، وہ اسے ٹھیک نہیں کر سکتا۔ چنانچہ ہم نے وہیں ایک ہوٹل میں قیام کیا اور ایک رات مزید گزار دی۔
اگلے دن منیجر نے فیصلہ کیا کہ گاڑی وہ خود ٹھیک کروائیں گے، جبکہ ہم چاروں—میں، میرا دوست، منیجر کا بھائی اور ان کے گاؤں والا— پرائیویٹ گاڑی کے ذریعے ریاض روانہ ہو جائیں۔
ہم نے ایک پرائیویٹ ٹیکسی کی۔ ڈرائیور کافی مست مزاج تھا اور گاڑی بہت تیز چلا رہا تھا۔ شاید اس کی اس کیفیت کی ایک وجہ اس کے منہ میں بھری ہوئی نسوار تھی، جسے وہ مسلسل استعمال کر رہا تھا۔
مدینہ منورہ کی زیارت کا مکمل طریقہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
راستے میں جب ہم ریاض الخبراء پہنچے تو پولیس نے ہمیں روک لیا۔ انہوں نے سامان چیک کیا اور سب کچھ سڑک پر نکال دیا۔
سب کے اقامے درست تھے، مگر منیجر کے بھائی کا ڈرائیونگ لائسنس جعلی نکلا۔ اس بنا پر پولیس نے اسے گرفتار کر لیا، حالانکہ وہ گاڑی چلا بھی نہیں رہا تھا۔ ڈرائیور کو بھی کسی وجہ سے حراست میں لے لیا گیا، اور ہمیں بھی پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔
ہم باہر ایک چھوٹے سے پارک میں بیٹھے رہے، جبکہ وہ اندر تھے۔ دوپہر سے شام ہوگئی—نہ کھانا کھایا تھا، نہ آرام کیا تھا۔زبان کی رکاوٹ نے ہمیں بے بس کر دیا تھا۔ کیونکہ ہمیں عربی نہیں آتی تھی، اور وہاں موجود پولیس والوں کو عربی کے علاوہ کوئی اور زبان سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
میں نے اپنے ایک ساتھی سے، جو چھ سال سے وہاں تھا، کہا کہ وہ بات کرے، لیکن اس نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ "جہاں میں کام کرتا ہوں وہاں سب انگریزی بولتے ہیں، مجھے عربی نہیں آتی۔"
زبان نہ ہونے کی پریشانی، سارا دن کا فاقہ، اور ایک انجانے شہر میں بے بسی کا عالم... لیکن کہتے ہیں نا کہ اللہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ آخرکار ہمیں ایک پاکستانی پشتون بزرگ ملے، جنہوں نے ہماری مدد کی اور پولیس سے بات کی۔
یہاں پولیس افسر کے حسنِ اخلاق کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ جب انہیں ہماری صورتحال کا علم ہوا تو انہوں نے نہایت احترام سے بات کی، ہمیں مسجد (جو پولیس اسٹیشن کے اندر ہی موجود تھی) میں نماز پڑھنے اور آرام کرنے کی اجازت دی، اور قریب موجود ریسٹورنٹ کا بھی بتایا تاکہ ہم کھانا کھا سکیں۔
بالآخر ہماری صبر و استقامت رنگ لائی، اور رات تقریباً 10 بجے ڈرائیور کو رہا کر دیا گیا، جبکہ ہمارے ساتھی کو کچھ دن بعد چھوڑا گیا۔
حج و عمرہ کے برابر اعمال پڑھنے کیلئے کلک کریں
اختتامیہ:
وہ رات جب ہم آخرکار ریاض پہنچے، تو جسم تھکا ہوا تھا، مگر دل ایک عجیب سی تسلی اور سکون سے بھرا ہوا تھا۔
اس سفر نے ہمیں یہ سبق دیا کہ جب انسان اللہ کے گھر کی طرف اخلاص کے ساتھ نکلتا ہے، تو اللہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ چاہے مشکلات کتنی ہی کیوں نہ ہوں، اللہ کی مدد کسی نہ کسی شکل میں ضرور پہنچتی ہے۔
یہ 2007 کا سفر آج بھی میرے دل میں ایک زندہ یاد کی طرح محفوظ ہے، جو وقت گزرنے کے باوجود کبھی مدھم نہیں پڑی۔
سوشل میڈیا اور دین نوجوانوں کی رہنمائی جدید دور میں پڑھنے کیلئے کلک کریں
Content by Wisdom Afkar

0 تبصرے