بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اسلامی روایات میں بعض دعائیں ایسی ملتی ہیں جن کے الفاظ دل پر بجلی بن کر گرتے ہیں، روح کو ہلا دیتے ہیں، اور انسان کی پوری دنیا بدل دیتے ہیں۔ ایسی ہی ایک دعا شیخ طوسیؒ نے اپنی معروف کتاب الامالی، جلد اول میں بیان کی ہے۔ یہ دعا ایک سادہ اعرابی کی تھی، مگر اس کے الفاظ میں ایسی گہرائی، سچائی اور عاجزی تھی کہ سننے والا بے اختیار رو پڑے۔
یہ دعا ہمیں اللہ سے محبت، خوف، عاجزی اور امید چاروں راستے دکھاتی ہے۔
شیخ طوسیؒ فرماتے ہیں:
پھر اس نے وہ پورے الفاظ نقل کیے جو اب ہمارے لیے رہتی دنیا تک قیمتی سرمایہ بن گئے۔
پہلی دعا: خوف، عمل اور آخرت کی رغبت کی دعا
اعرابی نے اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھائے اور کہا:
اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي عَمَلَ الْخَائِفِينَ، وَخَوْفَ الْعَامِلِينَ، حَتَّى أَتَنَعَّمَ بِتَرْكِ النَّعِيمِ رَغْبَةً فِيمَا وَعَدْتَ، وَخَوْفًا مِمَّا أَوْعَدْتَ.
اے اللہ! مجھے اُن بندوں جیسا عمل نصیب فرما جو تیری ہیبت اور عظمت سے ڈرتے ہیں۔اور وہ خوف عطا فرما جو عمل کرنے والوں کے دلوں میں ہوتا ہے وہ خوف جو عمل کو خالص کرتا ہے۔ یہاں تک کہ میں دنیا کی آسائشیں چھوڑ کر تیرے وعدے کی نعمتوں کی خواہش پیدا کر سکوں۔ اور جس عذاب سے تو نے ڈرایا ہے، اس کے خوف سے گناہوں سے بچتا رہوں۔
یہ دعا ہمیں بتاتی ہے کہ اصل کامیابی دنیا کی لذتوں میں نہیں، بلکہ آخرت کی دائمی نعمتوں میں ہے۔
دوسری دعا: حقوق، معافی اور جنت کی درخواست
راوی کہتے ہیں کہ اعرابی آخر میں عجیب و بے مثال الفاظ کہہ رہا تھا:
دعا :
اللَّهُمَّ إِنَّ لَكَ عَلَيَّ حُقُوقًا فَتَصَدَّقْ عَلَيَّ بِهَا، وَلِلنَّاسِ عَلَيَّ تَبِعَاتٌ فَتَحَمَّلْهَا عَنِّي، وَقَدْ أَوْجَبْتَ لِكُلِّ ضَيْفٍ قِرًى، وَأَنَا ضَيْفُكَ، فَاجْعَلْ قِرَايَ اللَّيْلَةَ الْجَنَّةَ.
اے اللہ! تیرے جو حقوق میں ادا نہیں کر سکا، ان پر اپنی طرف سے صدقہ فرما یعنی معاف فرما دے۔اور لوگوں کے مجھ پر جو حقوق ہیں، انہیں میری طرف سے پورا فرما دے یا انہیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔اور تو نے ہر مہمان کی عزت و ضیافت لازم قرار دی ہے۔اے اللہ! میں آج رات تیرا مہمان ہوں؛ پس میری مہمان نوازی جنت بنا دے۔
اللہ کی بارگاہ میں اس سے زیادہ خوبصورت عاجزی اور کیا ہو سکتی ہے؟
یہ دعا ہمیں تین عظیم نصیحتیں دیتی ہے:
1️⃣ خوفِ خدا اور خالص عمل
- ایسا عمل کرو جو دکھاوے کے لیے نہ ہو بلکہ صرف اللہ کے لیے ہو۔
2️⃣ دنیا کی لذتیں، آخرت کی نعمت سے کم ہیں
- جو اللہ کے وعدوں پر یقین رکھتا ہے، اسے دنیا کی خواہشیں چھو نہیں سکتیں۔
3️⃣ بندوں کے حقوق ادا کرو
- حقوق العباد بخشے نہیں جاتے انہیں ادا کرنا ضروری ہے۔
ایک سادہ اعرابی کے چند الفاظ نے ہمیں ایمان، خوف، محبت، امید، عاجزی، اور جنت کی طلب سب کچھ سکھا دیا۔ اگر ہم وقتاً فوقتاً یہ دعا مانگتے رہیں تو دل میں نور اور زندگی میں برکت خود آنے لگتی ہے۔
Content by Wisdom Afkar

