روزے میں انجکشن کا حکم: مختلف صورتیں اور مقاصد کے اعتبار سے شرعی حکم
(حصہ سوم)
پچھلے حصوں میں ہم نے روزے میں انجکشن کے مسئلے کا تعارف، فقہی اصول اور منفذِ اصلی کی وضاحت بیان کی تھی۔ ان اصولوں سے یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ روزہ اس وقت فاسد ہوتا ہے جب کوئی چیز جسم کے اندر قدرتی راستوں کے ذریعے جوفِ معدہ یا جوفِ دماغ تک پہنچے۔ چونکہ انجکشن عام طور پر رگوں، گوشت یا جلد کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور کسی قدرتی منفذ سے اندر نہیں جاتا، اس لیے جمہور علماء کے نزدیک اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
اب اس حصے میں ہم انجکشن کی مختلف صورتوں اور ان کے مقاصد کے اعتبار سے اس کے شرعی حکم کو مزید تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔
اللہ سے قرب حاصل کرنے کے آسان اور مؤثر طریقے. پڑھنے کیلئے کلک کریں
رگوں میں لگنے والا انجکشن
بعض انجکشن ایسے ہوتے ہیں جو براہِ راست رگوں (Veins) میں لگائے جاتے ہیں۔ عام طور پر ہسپتالوں میں بیماری کے علاج کے لیے اس قسم کے انجکشن دیے جاتے ہیں۔
فقہی اصول کے مطابق یہ انجکشن اگرچہ جسم میں دوا پہنچاتے ہیں، لیکن چونکہ یہ منفذِ اصلی کے ذریعے معدے یا دماغ تک نہیں پہنچتے بلکہ رگوں کے ذریعے جسم میں شامل ہوتے ہیں، اس لیے ان سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
اسی بنیاد پر معاصر علماء کی بڑی تعداد نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ رگوں میں لگنے والے عام طبی انجکشن روزے کو نہیں توڑتے۔
حصہ اوّل: الفطرانہ (صدقۃ الفطر) کیا ہے؟ پڑھنے کیلئے کلک کریں
گوشت یا پٹھوں میں لگنے والا انجکشن
کچھ انجکشن ایسے ہوتے ہیں جو پٹھوں (Muscles) یا گوشت میں لگائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر بعض درد کی دوائیں یا ویکسین اسی طریقے سے دی جاتی ہیں۔
چونکہ یہ انجکشن بھی جسم کے کسی قدرتی راستے کے ذریعے معدے یا دماغ تک نہیں پہنچتے بلکہ پٹھوں میں جذب ہو جاتے ہیں، اس لیے فقہی اصول کے مطابق ان سے بھی روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
جلد کے نیچے لگنے والا انجکشن
بعض بیماریوں میں انجکشن جلد کے نیچے (Subcutaneous) لگایا جاتا ہے۔ اس کی سب سے عام مثال انسولین ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کو دی جاتی ہے۔
چونکہ انسولین جلد کے نیچے دی جاتی ہے اور کسی قدرتی منفذ کے ذریعے جسم کے اندر نہیں جاتی، اس لیے جمہور علماء کے نزدیک اس سے بھی روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
اس طرح کے انجکشن عموماً علاج کے مقصد کے لیے ہوتے ہیں، اس لیے ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔
حصہ اوّل: رمضان کے فضائل و مسائل پڑھنے کیلئے کلک کریں
دوا اور غذا کے طور پر انجکشن
انجکشن کے مسئلے میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ انجکشن کبھی دوا کے طور پر دیا جاتا ہے اور کبھی غذا یا طاقت فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
دوا کے طور پر انجکشن
اگر انجکشن کسی بیماری کے علاج کے لیے لگایا جائے تو یہ ایک ضرورت ہے۔ اس صورت میں نہ صرف روزہ فاسد نہیں ہوتا بلکہ ضرورت کے پیش نظر اس میں کوئی کراہت بھی نہیں ہوتی۔
اسلامی شریعت میں بیماری کی حالت میں علاج کی اجازت دی گئی ہے، اس لیے روزے کی حالت میں دوا کے طور پر انجکشن لینا جائز ہے۔
غذائی انجکشن
کبھی بعض انجکشن ایسے بھی ہوتے ہیں جو جسم کو طاقت یا غذا فراہم کرتے ہیں، جیسے بعض ڈرپس یا گلوکوز وغیرہ۔
اگرچہ فقہی اصول کے مطابق یہ بھی روزہ توڑنے کا سبب نہیں بنتے، کیونکہ یہ جسم میں قدرتی راستوں کے ذریعے داخل نہیں ہوتے، لیکن بعض علماء نے یہ رائے دی ہے کہ روزے کی حالت میں بلا ضرورت ایسے انجکشن لینا مکروہ ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ دراصل بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام ہے۔ اگر کوئی شخص بلا ضرورت ایسے ذرائع اختیار کرے جن سے جسم کو غذا یا طاقت مل جائے تو یہ روزے کی روح کے خلاف محسوس ہو سکتا ہے۔
آخری حصہ: رمضان کے فضائل و مسائل پڑھنے کیلئے کلک کریں
فقہی نظیر
فقہاء نے اس مسئلے کی مثال بعض دیگر مسائل سے بھی دی ہے۔ مثلاً روزے کی حالت میں شدید گرمی یا پیاس کی وجہ سے سر پر پانی ڈالنا یا بھیگا ہوا کپڑا بدن پر رکھنا جائز ہے، کیونکہ اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
البتہ بعض فقہاء نے بلا ضرورت اس کو مکروہ قرار دیا ہے، کیونکہ اس سے عبادت میں بے چینی کا اظہار ہوتا ہے۔
علامہ ابن عابدین شامیؒ اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"وإنما كره الإمام الدخول في الماء والتلفف بالثوب المبلول لما فيها من إظهار الضجر في إقامة العبادة لا لأنه مفطر."
(رد المحتار، ج 3)
ترجمہ:
امام ابو حنیفہؒ نے پانی میں داخل ہونے یا بھیگا ہوا کپڑا لپیٹنے کو اس لیے مکروہ کہا ہے کہ اس میں عبادت سے بے چینی کا اظہار ہوتا ہے، نہ کہ اس لیے کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے بعض علماء کہتے ہیں کہ بلا ضرورت غذائی انجکشن لینا مکروہ ہو سکتا ہے، اگرچہ اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
حصہ اوّل: روزے میں انجکشن کا حکم کیا ہے؟ پڑھنے کیلئے کلک کریں
خلاصہ
اس پورے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ:
- رگوں میں لگنے والا انجکشن روزہ نہیں توڑتا۔
- پٹھوں یا گوشت میں لگنے والا انجکشن بھی روزہ فاسد نہیں کرتا۔
- جلد کے نیچے لگنے والا انجکشن (جیسے انسولین) بھی روزہ نہیں توڑتا۔
- دوا کے طور پر انجکشن لینا بلا کراہت جائز ہے۔
- غذائی انجکشن اگرچہ روزہ نہیں توڑتے، لیکن بلا ضرورت ان کا استعمال بعض علماء کے نزدیک مکروہ ہو سکتا ہے۔
اگلے حصے میں ہم اس مسئلے پر حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کے تفصیلی فتوے کو نقل کریں گے، جس میں اس موضوع کی بہت جامع وضاحت بیان کی گئی ہے۔
پچھلا حصہ ⬅️ حصہ دوم: روزے میں انجکشن کا حکم: فقہی اصول
اگلا حصہ ⬅ آخری حصہ | روزے میں انجکشن کا حکم: مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کا فتویٰ
Content by Wisdom Afkar

0 تبصرے