روزے میں انجکشن کا حکم: فقہی اصول اور منفذِ اصلی کی وضاحت
(حصہ دوم)
پچھلے حصے میں ہم نے روزے میں انجکشن کے مسئلے کا تعارف اور بنیادی فقہی اصول بیان کیے تھے۔ اس میں یہ بات واضح ہوئی تھی کہ جمہور علماء کے نزدیک عام طبی انجکشن سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جسم کے قدرتی راستوں کے ذریعے معدے یا دماغ تک نہیں پہنچتے۔ اب اس حصے میں ہم اس مسئلے کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے لیے فقہاء کے بیان کردہ اصول “منفذِ اصلی” اور اس کی مثالوں کو تفصیل سے بیان کریں گے۔
حصہ اوّل: الفطرانہ (صدقۃ الفطر) کیا ہے؟ پڑھنے کیلئے کلک کریں
منفذِ اصلی کیا ہے؟
فقہ اسلامی میں منفذِ اصلی سے مراد جسم کے وہ قدرتی راستے ہیں جن کے ذریعے عام طور پر چیزیں جسم کے اندر داخل ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر منہ، ناک اور بعض دیگر راستے ایسے ہیں جن کے ذریعے کوئی چیز اندر داخل ہو کر معدے یا دماغ تک پہنچ سکتی ہے۔
فقہاء نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ اگر کوئی چیز روزے کی حالت میں ان قدرتی راستوں کے ذریعے جسم کے اندر پہنچ جائے اور وہ معدے یا دماغ تک پہنچ جائے تو روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی چیز ان راستوں کے علاوہ کسی دوسرے ذریعے سے جسم میں داخل ہو تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
اسی اصول کی بنیاد پر علماء نے مختلف مثالیں ذکر کی ہیں تاکہ مسئلہ واضح ہو جائے۔
سرمہ کی مثال
فقہی کتابوں میں ایک مشہور مثال آنکھ میں سرمہ لگانے کی ہے۔ اگرچہ سرمہ لگانے کے بعد بعض اوقات اس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود فقہاء نے اس کو روزے میں جائز قرار دیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ آنکھ سے معدے یا دماغ تک کوئی براہِ راست قدرتی راستہ موجود نہیں ہوتا۔ اگر سرمہ کا اثر حلق میں محسوس بھی ہو جائے تو وہ مسامات کے ذریعے پہنچتا ہے، نہ کہ کسی قدرتی منفذ کے ذریعے۔
مشہور فقہی کتاب بدائع الصنائع میں علامہ کاسانیؒ اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آنکھ سے معدے یا دماغ تک کوئی منفذ موجود نہیں ہے، اور اگر حلق میں اس کا ذائقہ محسوس ہو بھی جائے تو وہ سرمہ کا اثر ہوتا ہے، اس کی اصل نہیں۔
اسی طرح علامہ شامیؒ نے بھی اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جو چیز مسامات کے ذریعے جسم میں داخل ہو وہ روزہ توڑنے کا سبب نہیں بنتی، کیونکہ روزہ اس وقت ٹوٹتا ہے جب کوئی چیز قدرتی راستوں کے ذریعے اندر پہنچے۔
آخری حصہ: الفطرانہ (صدقۃ الفطر) مکمل رہنمائی پڑھنے کیلئے کلک کریں
مسامات کے ذریعے چیز کا جسم میں داخل ہونا
فقہاء نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ انسانی جسم میں بے شمار مسامات ہوتے ہیں جن کے ذریعے بعض چیزیں اندر داخل ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص پانی میں غسل کرے اور اسے اپنے جسم کے اندر ٹھنڈک یا نمی محسوس ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پانی جسم کے اندر پہنچ گیا ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص سر یا جسم پر تیل لگائے تو اس کا کچھ اثر اندر محسوس ہو سکتا ہے، لیکن چونکہ یہ چیز مسامات کے ذریعے جذب ہوتی ہے اور کسی قدرتی راستے سے اندر نہیں جاتی، اس لیے اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
یہ مثالیں اس اصول کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ ہر وہ چیز جو جسم میں داخل ہو جائے ضروری نہیں کہ روزہ توڑ دے، بلکہ اس کے لیے مخصوص شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔
فقہی کتب کی وضاحت
فقہی کتابوں میں اس مسئلے کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر بدائع الصنائع میں یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ اگر کوئی چیز جسم کے اندر مخارقِ اصلیہ یعنی قدرتی راستوں کے ذریعے پہنچ جائے تو روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔
جیسے اگر کوئی شخص ناک کے ذریعے دوا اندر پہنچائے یا کسی اور قدرتی راستے سے کوئی چیز داخل ہو کر معدے یا دماغ تک پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
لیکن اگر کوئی چیز جسم میں ایسے راستے سے داخل ہو جو قدرتی راستہ نہ ہو، تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے علماء نے انجکشن کے مسئلے پر غور کیا ہے۔
انجکشن اور فقہی اصول
جب ہم اس اصول کو انجکشن پر منطبق کرتے ہیں تو بات واضح ہو جاتی ہے۔ عام طور پر انجکشن رگوں میں، گوشت میں یا جلد کے نیچے لگایا جاتا ہے۔ یہ تمام راستے جسم کے قدرتی راستے نہیں ہیں جن کے ذریعے کھانا یا پینا اندر جاتا ہے۔
اس لیے اگرچہ انجکشن کے ذریعے دوا جسم میں داخل ہوتی ہے، لیکن چونکہ یہ کسی قدرتی منفذ کے ذریعے معدے یا دماغ تک نہیں پہنچتی، اس لیے فقہی اصول کے مطابق اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ جمہور علماء نے اس مسئلے میں یہی موقف اختیار کیا ہے کہ طبی انجکشن روزے کو نہیں توڑتے۔
حصہ اوّل: رمضان کے فضائل و مسائل پڑھنے کیلئے کلک کریں
خلاصہ
اس حصے کی گفتگو سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فقہ اسلامی میں روزہ ٹوٹنے کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ کوئی چیز جسم کے اندر پہنچ جائے۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ چیز قدرتی راستوں کے ذریعے معدے یا دماغ تک پہنچے۔
چونکہ انجکشن رگوں، گوشت یا جلد کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور کسی قدرتی منفذ سے اندر نہیں جاتا، اس لیے جمہور علماء کے نزدیک اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
اگلے حصے میں ہم انجکشن کی مختلف صورتوں اور ان کے مقاصد کے اعتبار سے اس کے شرعی حکم کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کریں گے۔
پچھلا حصہ ⬅️ حصہ اوّل: روزے میں انجکشن کا حکم کیا ہے؟
اگلا حصہ ⬅ حصہ سوم : روزے میں انجکشن کا حکم: مختلف اقسام اور ان کا شرعی حکم
Content by Wisdom Afkar

0 تبصرے