معرکہ قادسیہ (قسط سوم): میدانِ کارزار اور ہاتھیوں کا ریلا
Ma‘raka Qadisiyyah (Qist Soom): Maidan-e-Karzar aur Hathiyon ka Rela
سفارت کاری کے تمام راستے بند ہو چکے تھے۔ اب فیصلہ الفاظ سے نہیں، تلواروں سے ہونا تھا۔ قادسیہ کا وسیع میدان تاریخ کے ایک ایسے معرکے کا منتظر تھا جو آنے والی صدیوں کا رخ بدلنے والا تھا۔
ایک طرف ساسانی سلطنت کی وہ فوج کھڑی تھی جس کی شان و شوکت اور عسکری طاقت کا چرچا دور دور تک تھا۔ مؤرخین کے مطابق اس کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے، لیکن بعض روایات میں اسے ایک لاکھ سے لے کر دو لاکھ تک بیان کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں کا لشکر تھا، جس کی تعداد تقریباً تیس ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔
یہ فرق صرف تعداد کا نہیں تھا—یہ دو مختلف دنیاؤں کا ٹکراؤ تھا، کیونکہ ساسانی فوج کے ساتھ جدید ترین اسلحہ اور تربیت یافتہ جنگی ہاتھی تھے، جبکہ دوسری طرف نسبتاً کم وسائل رکھنے والا لشکر تھا جس کا اصل سرمایہ اس کا ایمان تھا۔
معرکہ قادسیہ (قسط اول): نبویؐ پیشگوئیاں اور خلافتِ فاروقی کا عزم پڑھنے کیلئے کلک کریں
جنگ کا آغاز: یومِ ارماث
پہلے دن کو “یومِ ارماث” کہا جاتا ہے۔ سپہ سالار سعد بن ابی وقاصؓ اس وقت عرق النساء (Sciatica) کی شدید تکلیف میں مبتلا تھے۔ جسمانی کمزوری کے باوجود ان کی قیادت میں کوئی کمی نہ تھی۔ وہ ایک بلند قلعے “قدیس” پر موجود رہ کر پورے میدان پر نظر رکھے ہوئے تھے اور وہیں سے احکامات دے رہے تھے۔
جب جنگ کا آغاز ہوا تو زمین جیسے کانپ اٹھی۔ ایرانیوں نے اپنے سب سے مؤثر ہتھیار—جنگی ہاتھی—میدان میں اتار دیے۔ یہ دیو ہیکل جانور نہ صرف جسمانی طور پر خوفناک تھے بلکہ نفسیاتی دباؤ بھی پیدا کرتے تھے۔ ان کی پشت پر بنے ہودوں میں تیر انداز بیٹھے تھے جو بلندی سے مسلمانوں پر تیر برسا رہے تھے۔
مسلمانوں کے گھوڑے، جو اس طرح کے جانوروں کے عادی نہیں تھے، بدکنے لگے۔ صفوں میں کچھ خلل پیدا ہوا اور ایک لمحے کے لیے ایسا لگا کہ میدان کا توازن بدل رہا ہے۔
ثابت قدمی کا امتحان: ہاتھیوں کے سامنے
یہ لمحہ آزمائش کا تھا۔ بعض روایات کے مطابق بنو اسد اور دیگر قبائل پر خاص دباؤ پڑا، لیکن پسپائی کے بجائے انہوں نے نئی حکمتِ عملی اپنائی۔
مجاہدین نے ہاتھیوں کی آنکھوں اور سونڈوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جس نے ایرانیوں کو بھی حیران کر دیا کہ یہ لوگ موت سے نہیں ڈرتے۔ کیونکہ ہاتھی کے قریب جانا خود کو موت کے سامنے کھڑا کرنے کے مترادف تھا۔ مگر آہستہ آہستہ یہ حکمتِ عملی اثر دکھانے لگی، اور ہاتھی بے قابو ہو کر اپنی ہی صفوں میں خلل ڈالنے لگے۔
غزوۂ اُحد کی مکمل تاریخ اور سبق آموز واقعات پڑھنے کیلئے کلک کریں
یومِ اغواث: کمک اور نیا حوصلہ
دوسرے دن، جسے “یومِ اغواث” کہا جاتا ہے، میدان کا منظر کچھ بدلا ہوا تھا۔ اسی دن شام سے کمک لے کر حضرت قعقاع بن عمروؓ پہنچے۔ قعقاع وہ عظیم جرنیل تھے۔ بعض روایات میں ابوبکر صدیقؓ سے ان کی تعریف منسوب کی جاتی ہے، اور ایک مشہور قول یہ بھی نقل کیا جاتا ہے کہ ‘جس لشکر میں قعقاع موجود ہو، وہ شکست نہیں کھاتا’، اگرچہ اس کے الفاظ مختلف مصادر میں مختلف ہیں۔
قعقاعؓ صرف ایک سپاہی نہیں بلکہ ایک حکمتِ عملی کے ماہر بھی تھے۔ بعض روایات کے مطابق انہوں نے اونٹوں کو بڑی بڑی چادریں پہنا دیں اور ان کی صورتیں ہولناک بنا دیں تاکہ وہ ہاتھیوں کی طرح لگیں۔ جب یہ "مصنوعی ہاتھی" میدان میں اترے تو ایرانیوں کے گھوڑے انہیں دیکھ کر بدکنے لگے۔ اب صورت حال بدلنے لگی، ایرانی صفوں میں بھی اضطراب پیدا ہونے لگا، اور میدان میں ایک نیا نفسیاتی دباؤ پیدا ہو گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب جنگ صرف طاقت نہیں بلکہ ذہانت کا بھی امتحان بن گئی۔
غزوۂ اُحد کی مکمل تاریخ اور سبق آموز واقعات پڑھنے کیلئے کلک کریں
ایک غیر معمولی واقعہ: ابومحجن ثقفیؓ
اسی دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو انسانی کمزوری، توبہ اور بہادری—تینوں کا حسین امتزاج ہے۔ ابومحجن ثقفیؓ، جو اپنی بہادری کے لیے معروف تھے، ایک تادیبی سزا کے تحت قید میں تھے۔
جب جنگ کی شدت بڑھی تو ان کے لیے خاموش رہنا ممکن نہ رہا۔ بعض روایات کے مطابق انہوں نے حضرت سعدؓ کی اہلیہ "سلمیٰ" سے التجا کی کہ انہیں رہا کر دیں، وہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر زندہ رہے تو خود واپس آکر بیڑیاں پہن لیں گے۔
سلمیٰ نے ان کی زنجیریں کھول دیں اور حضرت سعدؓ کا گھوڑا "بلقاء" انہیں دے دیا۔ ابومحجن نقاب پہن کر میدان میں اترے اور ایسی جرات سے لڑے کہ حضرت سعدؓ اوپر قلعے سے دیکھ کر حیران رہ گئے اور کہا: "گھوڑا تو بلقاء جیسا ہے اور تلوار چلانے کا انداز ابومحجن جیسا، مگر ابومحجن تو قید میں ہے!"۔ شام کو ابومحجن خاموشی سے واپس آئے اور خود کو دوبارہ زنجیروں میں جکڑ لیا۔ جب حضرت سعدؓ کو حقیقت معلوم ہوئی تو انہوں نے ابومحجن کو رہا کر دیا اور ابومحجن نے بھی ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی۔
اس واقعے کی تفصیلات مختلف روایات میں مختلف ہیں، لیکن اس کا مرکزی پیغام واضح ہے:
انسان کی اصل قدر اس کے عمل اور نیت میں ہے۔
لیلۃ الہریر: ایک ہولناک رات
تیسرے دن کی رات “لیلۃ الہریر” کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ ایک طویل اور انتہائی سخت رات تھی۔
یہ تاریخ کی نہایت سخت اور ہولناک ترین راتوں میں سے ایک تھی۔ دونوں فوجیں رات بھر ایک دوسرے سے گتھم گتھا رہیں اور تاریکی میں صرف تلواروں کے ٹکرانے اور انسانوں کے کراہنے کی آوازیں آتی تھیں۔ اس رات جنگ انتہائی قریب سے لڑی گئی، اور ہر سپاہی اپنے سامنے والے دشمن سے نبرد آزما تھا۔ جنگ کی شدت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ باقاعدہ نظم کمزور پڑ گیا تھا، اور میدان جنگ ایک مسلسل جدوجہد کا منظر بن گیا تھا۔
میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے ، خیبر کی جنگ کا تاریخی واقعہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
فیصلہ کن لمحے قریب
صبح کے آثار نمودار ہوئے تو واضح تھا کہ دونوں فوجیں تھک چکی ہیں، مگر فرق حوصلے میں تھا۔ مسلمانوں کی صفیں ابھی بھی قائم تھیں۔
اسی موقع پر قعقاع بن عمروؓ اور دیگر کمانڈروں نے پیش قدمی کی ترغیب دی۔ ایک منظم حملہ کیا گیا، جس نے جنگ کو فیصلہ کن مرحلے کی طرف دھکیل دیا۔
بعض روایات کے مطابق قعقاعؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: "فتح اب قریب ہے، بس تھوڑا صبر اور اللہ کا نام لے کر حملہ کرو!" اور مسلمانوں نے ایک آخری اور بھرپور حملہ کر دیا۔
جنگِ مؤتہ اسلامی تاریخ کی پہلی بڑی جنگ پڑھنے کیلئے کلک کریں
اختتامیہ (قسط سوم)
قادسیہ کا میدان اب اپنے آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔ مسلسل لڑائی، صبر، حکمتِ عملی اور حوصلے نے اس معرکے کو ایک نئے رخ پر لا کھڑا کیا۔
بلاگ نوٹ:
پچھلا حصہ ⬅ معرکہ قادسیہ (قسط دوم): شاہی دربار اور حق کی للکار
Content by Wisdom Afkar

