جنگِ مؤتہ اسلامی تاریخ کی پہلی بڑی جنگ
جنگِ مؤتہ اسلام کی ابتدائی بڑی فوجی مہمات میں سے ایک ہے جو جمادی الاول 8 ہجری (ستمبر 629 عیسوی) میں پیش آئی۔ یہ جنگ شام کے علاقے مؤتہ میں لڑی گئی، جو موجودہ اردن میں واقع ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب اسلام کا پیغام تیزی سے عرب کے مختلف حصوں میں پھیل رہا تھا، اور نبی کریم ﷺ نے مختلف بادشاہوں اور حکمرانوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے قاصد (سفیر) بھیجے تھے۔
پس منظر جنگ کی ابتدا
نبی کریم ﷺ نے ایک صحابی حضرت حارث بن عمیر الأزدیؓ کو اسلام کا پیغام لے کر بصرٰی (شام) کے بادشاہ کے پاس بھیجا۔ راستے میں ایک عیسائی عرب گورنر، شرحبیل بن عمرو الغسانی نے انہیں گرفتار کر لیا اور بغیر کسی جرم کے شہید کر دیا۔ یہ سفارت کاری کے اصولوں کے بالکل خلاف تھا، کیونکہ کسی بھی دین یا قوم میں سفیر کو نقصان پہنچانا جرم سمجھا جاتا ہے۔ یہ واقعہ نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔
لشکر کی تیاری
نبی ﷺ نے اس ظلم کے جواب میں ایک لشکر روانہ کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ 3000 صحابہؓ پر مشتمل یہ فوج اسلامی تاریخ کی اُس وقت کی سب سے بڑی منظم فوج تھی۔ نبی ﷺ نے مدینہ منورہ میں خود لوگوں کو جمع فرمایا، اور لشکر کے تین سپہ سالار مقرر کیے:
- حضرت زید بن حارثہؓ اگر وہ شہید ہوں تو
- حضرت جعفر بن ابی طالبؓ (نبی ﷺ کے چچا زاد بھائی)- اگر وہ شہید ہوں تو
- حضرت عبداللہ بن رواحہؓ
اگر تینوں شہید ہو جائیں تو مسلمانوں کو مشورے سے نیا قائد مقرر کرنے کا حکم دیا گیا۔
لشکر کی روانگی
لشکر مدینہ سے روانہ ہوا تو نبی کریم ﷺ نے خود انہیں رخصت کیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
- "اللہ کے راستے میں روانہ ہو، اللہ کے نام سے جنگ کرو، زیادتی نہ کرو، عورتوں اور بچوں کو نقصان نہ پہنچاؤ۔"
یہ اسلامی جنگی اخلاقیات کا پہلا واضح نمونہ تھا۔
میدانِ مؤتہ
جب مسلمان مؤتہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ دشمن کی تعداد ایک لاکھ ہے، جن میں رومی فوج اور غسانی عرب قبیلے شامل تھے۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی۔ کئی صحابہ نے کہا کہ ہمیں نبی ﷺ کے پاس جا کر مزید ہدایات لینی چاہئیں، مگر حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے کہا: "اے لوگو! ہم جس مقصد کے لیے نکلے ہیں وہ شہادت ہے، نہ کہ دنیا کی فتح!" یہ کہہ کر سب نے عزمِ جہاد کو تازہ کیا۔
جنگ کا آغاز
جنگ کا آغاز بہت سخت تھا۔ پہلے سپہ سالار حضرت زید بن حارثہؓ نے علمِ اسلام (پرچم) ہاتھ میں لیا اور بہادری سے لڑتے رہے، یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ پھر علم حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے سنبھالا۔ انہوں نے اتنی بہادری سے لڑائی کی کہ ان کے دونوں بازو شہید کر دیے گئے، تو انہوں نے پرچم اپنے بازو کے درمیان دبا کر لڑائی جاری رکھی آخر کار وہ بھی شہید ہو گئے۔ انہیں اسی وجہ سے بعد میں جعفرِ طیارؓ کہا گیا کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ "میں نے جعفر کو جنت میں دو پروں کے ساتھ اڑتے دیکھا۔" پھر حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے علم سنبھالا۔ وہ لمحہ لمحہ خود کو حوصلہ دیتے رہے، آخر کار وہ بھی شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے۔
حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت اور عظیم حکمتِ عملی
تینوں سپہ سالاروں کی شہادت کے بعد صحابہؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو لشکر کا کمانڈر مقرر کیا۔ یہ اسلام کی تاریخ میں ان کی پہلی قیادت تھی، جس میں انہوں نے ایسی عقلمندی اور فوجی بصیرت کا مظاہرہ کیا کہ دشمن بھی حیران رہ گیا۔ حضرت خالدؓ نے مجاہدین کی صفیں بدل دیں پچھلی صفوں کو آگے اور اگلی صفوں کو پیچھے کر دیا تاکہ دشمن سمجھے کہ مسلمانوں کے پاس نئی کمک (مزید فوج) آ گئی ہے۔ یہ چال اتنی مؤثر ثابت ہوئی کہ دشمن کے دلوں میں رعب و خوف بیٹھ گیا۔ انہیں گمان ہوا کہ مسلمانوں کے لشکر کو مدینہ سے مزید سپاہی مل گئے ہیں، چنانچہ انہوں نے پسپائی اختیار کی۔ مسلمانوں نے پورے جوشِ ایمانی کے ساتھ لڑائی جاری رکھی۔ تاریخ میں آتا ہے کہ اسی دن حضرت خالد بن ولیدؓ کے ہاتھوں میں نو تلواریں ٹوٹ گئیں۔ یہ ان کی شدتِ جنگ اور ثابت قدمی کا ثبوت ہے۔ جنگ سات دن تک جاری رہی۔ ایک لاکھ کے مقابلے میں صرف تین ہزار مجاہدین نے بہادری سے ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور اس معرکے میں صرف تیرہ مسلمان شہید ہوئے۔ آخرکار دشمن کا لشکر شکست کھاتا ہوا پسپا ہو گیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے انتہائی دانائی اور نظم کے ساتھ مسلمانوں کو منظم انداز میں محفوظ واپسی دلائی۔ یہ کارنامہ کسی کھلی اور نمایاں فتح سے کم نہ تھا کہ ایک چھوٹا سا لشکر دشمن کی چھھیاسٹھ گنا بڑی فوج کے مقابلے میں سات دن تک جم کر لڑے، کم نقصان اٹھائے، اور دشمن دوبارہ حملہ کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔
اسی لیے نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ میں فرمایا:
- “اب جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے پکڑ لیا ہے،
یوں حضرت خالد بن ولیدؓ کو “سیفُ اللہ” (اللہ کی تلوار) کا لقب عطا ہوا اور یہ لقب قیامت تک ان کے ساتھ روشن رہے گا۔
سبق اور اثرات
- ایمان، اتحاد اور نظم کسی بھی بڑی طاقت کے مقابلے میں کامیابی کی ضمانت ہیں۔
- قیادت کی تبدیلی میں مسلمانوں کا اتفاق اور ضبطِ نفس مثالی تھا۔
- حضرت جعفرؓ، زیدؓ اور عبداللہ بن رواحہؓ کی قربانیاں ایمان و وفاداری کا نمونہ ہیں۔
- حضرت خالد بن ولیدؓ کی حکمتِ عملی نے اسلامی عسکری تاریخ کا رخ بدل دیا۔
- دشمن کی عددی برتری کے باوجود مسلمانوں کا عزم و ایمان ان کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوا۔
Abu Jandal aur Abu Basir ka Iman Afroz Waqia --->Read here
خلاصہ
جنگِ مؤتہ کوئی عام لڑائی نہیں تھی بلکہ ایمان، صبر اور قربانی کی ایسی داستان تھی جو قیامت تک مسلمانوں کے لیے سبق بن کر باقی رہے گی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اسلام پہلی بار عرب سے نکل کر دنیا کی بڑی سلطنتوں کے سامنے ڈٹا اور پیغام دیا کہ طاقت ایمان سے آتی ہے، تعداد سے نہیں۔
مآخذ و مراجع
- سیرت ابنِ ہشام، جلد 2
- البدایہ والنہایہ از ابنِ کثیر
- تاریخ طبری
- المغازی از امام واقدی
- زاد المعاد از ابن قیم
Content by Wisdom Afkar


0 تبصرے