کوئی مسلمان کسی مسلمان پر ظلم نہ کرے — ایک جامع نبوی تعلیم
صحیح بخاری 2442
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانوں کے درمیان عدل، انصاف، محبت اور ذمہ داری کی بنیاد رکھتا ہے۔ رسول الله ﷺ نے مسلمان معاشرے کو مضبوط بنانے کے لیے بارہا ہدایات ارشاد فرمائیں، جن میں سے ایک نہایت جامع اور دل کو چھو لینے والی ہدایت یہ ہے:
“کوئی مسلمان کسی مسلمان پر ظلم نہ کرے اور نہ کسی ظالم کو اُس پر ظلم کرنے دے۔”
(صحیح بخاری: 2442)
یہ حدیث نہ صرف ظلم سے روکنے کی تعلیم دیتی ہے بلکہ ظلم کو روکنے کی ذمہ داری بھی ہمارے کندھوں پر ڈالتی ہے۔ یعنی مومن نہ خود ظلم کرتا ہے اور نہ کسی ظالم کا ساتھ دیتا ہے۔
100 قتل کے بعد توبہ: اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں (بخاری حدیث) پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
ظلم کیا ہے؟
اسلام ظلم کی ہر شکل کو ناپسند کرتا ہے۔ ظلم صرف مارنے، پیٹنے یا جائیداد چھین لینے کا نام نہیں، بلکہ:
- کسی کا دل دکھانا
- بے عزتی کرنا
- حق مارنا
- دھوکہ دینا
- کمزور کا استحصال کرنا
- غلط وعدہ کرنا
- جھوٹی گواہی دینا
یہ سب ظلم کی مختلف شکلیں ہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر میں، ظلم بہت بڑا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خاص سنت ہے کہ وہ ظالم کو مہلت تو دیتا ہے مگر پکڑتا ضرور ہے۔
یہ حدیث دو بنیادی ذمہ داریاں سمجھاتی ہے:
1. خود ظلم نہ کرنا
انسان کی دینداری صرف نماز، روزہ یا عبادت کا نام نہیں بلکہ اس کے اخلاق، معاملات اور رویوں کا بھی حصہ ہے۔2. ظلم کو ہونے نہ دینا
یہ حصہ حدیث کا سب سے طاقتور پیغام ہے۔جو شخص دوسروں کے حقوق ادا کرتا ہے، عدل سے پیش آتا ہے، لوگوں کا خیال رکھتا ہے۔ وہ اللہ کا محبوب بندہ ہے۔
اسلام چاہتا ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے محافظ اور خیر خواہ ہوں۔
اگر کوئی کمزور ہے، بے بس ہے، اس کا حق چھینا جا رہا ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس کی مدد کرے، ظالم کو روکے یا کم از کم حق بات کہے۔
رسول ﷺ نے فرمایا:
“اِس امت میں سب سے بہترین لوگ وہ ہیں جو کمزوروں کے حق میں کھڑے ہوتے ہیں اور ظالم کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں۔”
آج کے دور میں اس حدیث کا اطلاق
یہ حدیث صرف 1400 سال پہلے کے لئے نہیں، بلکہ آج کے معاشرتی حالات پر بھی مکمل لاگو ہوتی ہے۔ ہم اپنے گھروں، دفاتر، سوشل میڈیا اور روزمرہ معاملات میں اس حدیث پر عمل کر سکتے ہیں:
- کسی کو نیچا نہ دکھائیں
- نامناسب تبصرہ نہ کریں
- جھوٹ نہ بولیں
- ریویو یا سوشل میڈیا پوسٹ سے نقصان نہ پہنچائیں
- دفتر میں کسی ساتھی پر زیادتی ہوتے دیکھ کر خاموش نہ رہیں
- خاندان میں کمزور یا دکھی افراد کا ساتھ دیں
- غلط بات پر آواز اٹھائیں
- بچوں اور ملازمین کے ساتھ نرمی کریں
خاموش رہنا بھی ایک طرح سے ظالم کا ساتھ دینا ہے۔
قرآن میں ظلم سے منع کرنے کی تلقین
اللہ تعالیٰ قرآن میں اپنی خاص سنت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
“اور تمہارا رب کبھی بھی اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔”
“ظالموں کی مدد نہ کرو۔”
(سورۃ کہف: 49)
اور ایک مقام پر فرمایا:
(سورۃ ہود: 113)
یہ آیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ عدل اور انصاف صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں، بلکہ اللہ کی رضا کا راستہ ہیں۔
حصہ اوّل — زکوٰۃ کیا ہے؟ مفہوم، اہمیت اور بنیادی تعارف پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
ظلم روکنا — ایمان کی علامت
رسول ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے جو برائی دیکھے اسے ہاتھ سے روکے، اگر طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ کرسکے تو دل سے برا جانے— اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔”
اس سے پتا چلتا ہے کہ برائی یا ظلم کے سامنے خاموش ہونا ایمان کی کمزوری ہے۔
ہم کیا کریں؟ (عملی نکات)
- روزمرہ معاملات میں انصاف سے پیش آئیں
- کسی کی حق تلفی نہ ہونے دیں
- کمزور یا غریب کا سہارا بنیں
- غلطی دیکھ کر پیار سے سمجھائیں
- اپنی زبان، رویے اور تحریر کا خیال رکھیں
- بچوں کو بھی عدل و اخلاق کی تعلیم دیں
اعرابی کی دل ہلا دینے والی دعا: روح کو جگا دینے والا ایمان افروز واقعہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
آخر میں ایک سادہ سا پیغام
اسلام چاہتا ہے کہ مسلمان ایک جسم کی طرح ہوں۔ اگر جسم کا ایک حصہ تکلیف میں ہو تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔
رسول الله ﷺ کا یہ فرمان ہمیں مضبوط، ہمدرد، بااخلاق اور باہمت امت بننے کی دعوت دیتا ہے۔
Content by Wisdom Afkar



0 تبصرے