Part 8 | The Complete Sunnah Method of Salah | Namaz ka Mukammal Sunnat Tareeqa | نماز کا مکمل سنت طریقہ: تکبیرِ تحریمہ سے سلام تک"

 

 نماز کا  مکمل طریقہ: اس حصے میں پڑھئے  :  مکمل نماز کا سنت طریقہ  

نماز کو سنت کے مطابق سیکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔جو حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے کتاب نماز سنت کے مطابق پڑھئے سے نقل کیا جارہا ہے 

 یہ سلسلہ Wisdom Afkar بلاگ پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ عام مسلمان نماز کو نبی کریم کی سنت کے مطابق سیکھ سکیں اور اپنی عبادت کو مزید کامل بنائیں۔

پیشکش:Wisdom Afkar Islamic Series

 مقصد: دین کی اصل روح کو عام فہم انداز میں پہنچانا


نیت

Qibla-rukh-kray-hoke- niyat-karna

نماز شروع کرنے سے پہلے دل میں یہ ارادہ ہونا چاہئے کہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اتنی رکعت نماز پڑھتا ہوں، جو اس وقت مجھ پر فرض ہے۔ زبان سے کہنا ضروری نہیں، مگر اگر کوئی شخص زبان سے بھی کہہ لے تو حرج نہیں، بلکہ بعض اوقات اس سے دل کو سہارا مل جاتا ہے۔ نیت دل کے ارادے کا نام ہے، لہٰذا اگر دل میں نیت موجود ہے تو نماز درست ہے۔ نماز کے وقت دل سے یہ خیال کرنا کہ میں مثلاً فجر کی دو رکعت فرض نماز پڑھتا ہوں، کافی ہے۔


تکبیرِ تحریمہ

Takbīr-e-tahreema- main-hat-kano-rak-otana

پھر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر "الله أكبر" کہے، یہی تکبیرِ تحریمہ ہے۔ یہ الفاظ کہتے ہی دنیاوی باتیں اور امور حرام ہوجاتے ہیں۔ اب انسان اللہ کے حضور کھڑا ہے، اس کے سامنے جھکنے، رکوع و سجدہ کرنے والا ہے، لہٰذا ہر قسم کے دنیاوی خیالات کو دل سے نکال کر پورے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز شروع کرے۔


قیام کی حالت اور ہاتھ باندھنا

تکبیرِ تحریمہ کے بعد سیدھا کھڑا ہو جائے، اور مرد اپنے ہاتھ ناف کے نیچے باندھے، جبکہ عورت اپنے ہاتھ سینے پر رکھے۔ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھ کر کلائی اور کہنی تک پکڑنا سنت ہے۔

حضرت وائل بن حجرؓ فرماتے ہیں:

رَأَيْتُ النَّبِيَّ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى تَحْتَ السُّرَّةِ فِي الصَّلَاةِ

“میں نے نبی کو دیکھا کہ آپ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھتے تھے۔”

    (ابوداؤد، دارقطنی)


قیام کے وقت نگاہ کہاں رکھے

قیام کے دوران نظر سجدے کی جگہ پر رکھنا مستحب ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کی نظر سجدے کی جگہ سے نہیں ہٹتی تھی۔ اس سے خشوع و خضوع میں اضافہ ہوتا ہے، اور دل کو نماز میں یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔


ثناء (Opening Supplication)

تکبیرِ تحریمہ کے بعد دونوں ہاتھ باندھ کر یہ دعا پڑھے:

سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ

(ترجمہ:) "اے اللہ! تو پاک ہے، اور تیری حمد کے ساتھ، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے،اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔"

یہ دعا "ثناء" کہلاتی ہے اور نبی سے منقول ہے۔

(سنن ابوداؤد)


تعوذ اور تسمیہ

اس کے بعد آہستہ آواز میں پڑھے:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

“میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے۔”

 پھر پڑھتا ہے:

                                     بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

“اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔”


قراءت (Recitation)

اس کے بعد سورۃ الفاتحہ پڑھے:

الْـحَمْدُ لِلّٰـهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَۙ ٢ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِۙ ٣ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِۗ ٤ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُۗ ٥ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَۙ ٦ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ۠ ٧.

 “تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے،  بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا، جزا کے دن کا مالک۔ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔  ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، نہ کہ ان پر جن پر غضب نازل ہوا اور نہ ہی گمراہوں کا۔”

(آخر میں "آمین" آہستہ آواز میں کہنا سنت ہے۔)

پھر سورۃ الفاتحہ کے بعد کوئی سورت یا چند آیات پڑھے۔

مثلاً:

قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ، اللّٰهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ.

(سورۃ الإخلاص)

اگر فرض نماز ہو تو پہلی دو رکعتوں میں امام اونچی آواز سے قراءت کرے، اور باقی رکعتوں میں آہستہ۔ اگر اکیلا پڑھ رہا ہو تو سب آہستہ۔


رکوع (Bowing)

Ruku-karna

قراءت مکمل کرنے کے بعد “الله أكبر”  کہہ کر رکوع میں جائے۔ رکوع میں دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے،  پیٹھ سیدھی کرے اور سر نہ جھکائے نہ اوپر اٹھائے۔

  رکوع میں یہ تسبیح تین مرتبہ پڑھے: 

سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ.

“میں اپنے عظیم رب کی تسبیح بیان کرتا ہوں۔”  

 (صحیح مسلم)

اگر زیادہ خشوع ہو تو تین سے زیادہ مرتبہ بھی پڑھ سکتا ہے۔


قومہ (Standing After Ruku‘)

پھر 

“سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ.

” کہہ کر سیدھا کھڑا ہو جائے۔  (یعنی: “اللہ نے اس کی سن لی جو اس کی حمد کرتا ہے۔”)   پھر کھڑے ہو کر کہے:

رَبَّنَا لَكَ الْـحَمْدُ. “.

اے ہمارے رب! تمام حمد تیرے لیے ہے۔”

بعض روایات میں الفاظ یوں بھی ہیں:

رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ.

“اے رب! اتنی حمد تیرے لیے ہے جتنی آسمان و زمین میں سمائی ہو،اور اس سے بڑھ کر جتنی تو چاہے۔”


سجدہ (Prostration)

قومہ سے “الله أكبر” کہتے ہوئے سجدہ میں جائے۔ سجدے میں جاتے وقت پہلے گھٹنے زمین پر رکھے،  پھر ہاتھ، پھر ناک اور آخر میں پیشانی۔ سجدہ اس طرح کرے کہ   پیشانی اور ناک دونوں زمین پر ٹکے ہوں، کہنیاں زمین سے الگ رہیں، بازو پہلو سے الگ ہوں، اور انگلیاں قبلہ کی سمت ہوں۔

نبی نے فرمایا:

أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ: عَلَى الْجَبْهَةِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ، وَالْيَدَيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ، وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ.

 “مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں:  پیشانی (اور ناک)، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پاؤں کی انگلیوں کے سرے۔”

  (صحیح بخاری، مسلم)

سجدے میں یہ تسبیح تین مرتبہ پڑھے:

سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى.

 “میں اپنے سب سے بلند رب کی تسبیح بیان کرتا ہوں۔” 

(  اگر خشوع زیادہ ہو تو تین سے زیادہ مرتبہ بھی پڑھ سکتا ہے۔)


جلسہ (بیٹھنا)

پہلے سجدے کے بعدالله أكبر کہتے ہوئے بیٹھ جائے۔ یہ بیٹھنا جلسہ کہلاتا ہے۔ پاؤں اس طرح رکھے کہ بایاں پاؤں بچھا دے اور اس پر بیٹھے، اور دایاں پاؤں کھڑا رکھے۔ انگلیاں قبلہ کی طرف رہیں۔  بیٹھنے میں یہ دعا پڑھے:

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي.

“اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، عافیت عطا فرما اور رزق دے۔”

(سنن ابوداؤد)

دوسرا سجدہ

پھرالله أكبر کہہ کر دوسرا سجدہ کرے۔ پہلے سجدے کی طرح پورا جسم اطمینان سے جھکائے، اور وہی تسبیح پڑھے:

سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى۔

دونوں سجدے مکمل ہونے پر یہ ایک رکعت پوری ہوتی ہے۔


دوسری رکعت

پہلی رکعت کے بعد “الله أكبر کہہ کر کھڑا ہو جائے اور دوسری رکعت اسی طرح ادا کرے ثناء کے بغیر براہِ راست سورۃ الفاتحہ سے آغاز کرے۔ جب دوسری رکعت کے دو سجدے مکمل کر لے تو بیٹھ جائے۔ یہ بیٹھنا قعدہ اولیٰ کہلاتا ہے۔


تشہد (Tashahhud)

قعدہ میں بیٹھ کر یہ دعا پڑھے:

التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔.

(ترجمہ:) “تمام زبانی عبادتیں، نمازیں اور پاکیزہ عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو، اور اللہ کی رحمت و برکتیں ہوں۔ سلام ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔”


قعدہ اور بیٹھنے کا انداز

بیٹھنے میں وہی طریقہ ہو جو جلسہ میں بتایا گیا بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا اور دایاں پاؤں کھڑا رکھنا۔ انگلیاں قبلہ رخ ہوں۔تشہد میں اشہاد کے وقت “لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُکہتے ہوئے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی اٹھائے اور إِلَّا اللّٰهُپر نیچے کر لے۔


درود شریف، دعا اور سلام

 درود شریف (Salutations upon the Prophet )

تشہد کے بعد درودِ ابراہیمی پڑھنا سنت مؤکدہ ہے۔ نبی کریم نے فرمایا: 

"جب تم تشہد میں بیٹھو تو مجھ پر درود بھیجو۔"

(صحیح بخاری و مسلم)

درود شریف کے الفاظ یہ ہیں:

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

(ترجمہ:)  “اے اللہ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمائی، بے شک تو حمد و بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد اور ان کی آل پر برکت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر برکت نازل فرمائی،  یقیناً تو حمد و بزرگی والا ہے۔”


 دعا (Supplication before ending Salah)

درود شریف کے بعد سلام سے پہلے دعا کرنا سنت ہے۔ رسول اللہ فرمایا کرتے تھے:

ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُو.

“پھر بندہ جو دعا چاہے، جو اسے پسند ہو، وہ مانگے۔”

(صحیح بخاری)

نبی اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے: 

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ۔
(ترجمہ:)  “اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کی آزمائشوں سے، اور مسیح دجال کے فتنے سے۔”

(صحیح مسلم)

اسی طرح بندہ اپنی حاجات اور دینی دنیاوی ضرورتوں کے لیے اللہ سے مانگے، جیسے بخشش، ہدایت، رزق، مغفرت اور عافیت۔


 سلام (Conclusion of Salah)

پھر دائیں طرف منہ پھیر کر کہے:

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ.

پھر بائیں طرف منہ پھیر کر یہی الفاظ دوبارہ کہے۔

یہ نماز کے ختم ہونے کا نشان ہے۔ دائیں جانب کے سلام سے مراد فرشتوں اور نماز میں شریک لوگوں کو سلام کہنا ہے، اور بائیں طرف سے دوسرے فرشتے کو۔

نبی نے فرمایا:

إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ الصَّلَاةُ.

“قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے اس کے عملوں میں سےنماز کا حساب لیا جائے گا۔”

(سنن ابوداؤد، ترمذی)

لہٰذا نماز کو حضورِ قلب، خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنا سب سے زیادہ اہم عبادت ہے۔


پچھلا  ساتواں حصہ:-  نماز کی تیاری وضو اور طہارت کا مکمل سنت طریقہ پڑھنے کیلئے کلک کریں 

اگلا نوی حصہ ( آخری): نماز کے بعد کے اذکارمسنون دعائیں اور تسبیحات



Content by Wisdom Afkar

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Close Menu