زکوٰۃ اور صدقہ میں فرق، اہم سوالات اور جامع خلاصہ
📘 زکوٰۃ سیریز — حصہ دسواں 10 (آخری حصہ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
زکوٰۃ کے موضوع پر ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ بہت سے لوگ زکوٰۃ اور صدقہ کو ایک ہی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ شریعت میں دونوں کے احکام، شرائط اور مقاصد الگ الگ ہیں۔ اسی طرح زکوٰۃ کے بارے میں کئی عملی سوالات بھی لوگوں کے ذہنوں میں رہتے ہیں۔
زکوٰۃ سیریز ⬅️ حصہ اوّل — زکوٰۃ کیا ہے؟ مفہوم، اہمیت اور بنیادی تعارف پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
اس آخری حصے میں ہم:
✔ زکوٰۃ اور صدقہ کا واضح فرق
✔ عام اور اہم سوالات (FAQs)
✔ پوری زکوٰۃ سیریز کا جامع خلاصہ
آسان انداز میں پیش کر رہے ہیں۔
زکوٰۃ سیریز⬅️ حصہ دوم : زکوٰۃ کی فضیلت: قرآن و حدیث کی روشنی میں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
1️⃣ زکوٰۃ اور صدقہ میں بنیادی فرق
🔹 زکوٰۃ کیا ہے؟
زکوٰۃ: فرض عبادت ہے، ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر لازم ہے، مخصوص مال پر مقررہ شرح (عموماً 2.5٪) سے دی جاتی ہے، صرف مخصوص مصارف میں دی جا سکتی ہے.
📖 قرآن: ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾
🔹 صدقہ کیا ہے؟
صدقہ: نفلی عبادت ہے، مالدار اور غریب ہر شخص دے سکتا ہے، مقدار مقرر نہیں، ہر نیک کام صدقہ ہے۔
📖 حدیث: "ہر نیکی صدقہ ہے"
(صحیح مسلم)
زکوٰۃ سیریز⬅️ حصہ سوم: کس پر زکوٰۃ فرض ہے؟ نصاب، پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
2️⃣ زکوٰۃ اور صدقہ کا تقابلی جدول
پہلو زکوٰۃ صدقہ
حکم فرض نفلی، نیت ضروری بہتر، مقدار مقرر غیر مقرر، وقت نصاب و سال شرط ہر وقت، مصرف محدود (8) عام، سادات نہیں ہاں۔
زکوٰۃ سیریز⬅️ حصہ چہارم: زکوٰۃ کیسے نکالی جائے؟ زکوٰۃ کا مکمل طریق پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
3️⃣ زکوٰۃ سے متعلق عام سوالات (FAQs)
❓ کیا زکوٰۃ قسطوں میں دی جا سکتی ہے؟
✔ جی ہاں، بشرطیکہ: سال مکمل ہونے سے پہلے یا فوراً بعد دی جائے، پوری رقم ادا ہو جائے۔
❓ کیا زکوٰۃ پیشگی (Advance) دی جا سکتی ہے؟
✔ جی ہاں
فقہاء کے نزدیک: ایک یا دو سال کی زکوٰۃ پیشگی دینا جائز ہے.
❓ کیا زکوٰۃ ایک ہی شخص کو دی جا سکتی ہے؟
✔ جی ہاں: اگر وہ مستحق ہے تو پوری زکوٰۃ ایک فرد کو دی جا سکتی ہے۔
❓ کیا زکوٰۃ خفیہ دینا افضل ہے؟
✔ افضل ہے
📖 قرآن: ﴿وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ﴾
(البقرۃ: 271)
❓ کیا زکوٰۃ حکومتی یا نجی ادارے کے ذریعے دی جا سکتی ہے؟
✔ جائز ہے
بشرطیکہ: ادارہ معتبر ہو، تملیک کا اہتمام کرے، شرعی مصارف کا خیال رکھے.
زکوٰۃ سیریز ⬅️ حصہ پنجم: مصارفِ زکوٰۃ: زکوٰۃ کن لوگوں کو دی جا سکتی ہے؟ پڑھنے کیلئے کلک کریں
4️⃣ زکوٰۃ ادا نہ کرنے کے روحانی و سماجی نقصانات
مال میں برکت ختم ہو جاتی ہے، دل سخت ہو جاتا ہے، معاشرہ طبقاتی تقسیم کا شکار ہوتا ہے، غربت اور جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔
📖 حدیث: "جس مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کی جاتی وہ قیامت کے دن عذاب بنے گا"
(مسلم)
5️⃣ زکوٰۃ کے روحانی اور معاشرتی فوائد
✔ مال پاک ہوتا ہے
✔ دل میں سخاوت پیدا ہوتی ہے
✔ غربت کم ہوتی ہے
✔ معاشرتی عدل قائم ہوتا ہے
✔ اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے
📖 قرآن: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ﴾
(التوبہ: 103)
6️⃣ پوری زکوٰۃ سیریز کا جامع خلاصہ
زکوٰۃ اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ نصاب، مال اور سال پورا ہونا شرط ہے۔ تملیک کے بغیر زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔ صحیح مصرف میں دینا لازمی ہے۔ جدید دور میں بھی زکوٰۃ کے اصول مکمل قابلِ عمل ہیں۔ زکوٰۃ اور صدقہ میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔
اختتامی پیغام
زکوٰۃ صرف مال دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ: ایمان کی علامت، سماجی انصاف کا نظام، اور اللہ کی قربت کا ذریعہ ہے،
آئیے! ہم زکوٰۃ کو صحیح علم، درست نیت اور مکمل اخلاص کے ساتھ ادا کریں، تاکہ ہمارا مال بھی پاک ہو اور معاشرہ بھی۔
Content by Wisdom Afkar

