کس پر زکوٰۃ فرض ہے؟ نصاب، مالِ زکوٰۃ اور ایک سال مکمل ہونے کا اصول
📘 زکوٰۃ سیریز — حصہ 3
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
زکوٰۃ اسلام کا وہ عظیم فریضہ ہے جو ہر اُس مسلمان پر فرض ہوتا ہے جس کے پاس مخصوص مقدار کے مطابق مال موجود ہو۔
لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ: زکوٰۃ کن لوگوں پر فرض ہوتی ہے؟ نصاب کیا ہے؟ کون سا مال زکوٰۃ کے قابل ہے؟ ایک سال گزرنے کا کیا مطلب ہے؟ نقدی، سونا، چاندی، کاروبار، مالِ تجارت ان سب کی زکوٰۃ کیسے نکالی جاتی ہے؟
آئیے یہ تمام مسائل آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں۔
حصہ اوّل — زکوٰۃ کیا ہے؟ مفہوم، اہمیت اور بنیادی تعارف کے بارے میں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
1 : زکوٰۃ کن لوگوں پر فرض ہوتی ہے؟
اسلامی فقہ کے مطابق زکوٰۃ ان پانچ شرائط کے ساتھ فرض ہوتی ہے:
1) مسلمان ہونا
زکوٰۃ صرف مسلمان پر فرض ہے۔غیر مسلم پر زکوٰۃ فرض نہیں۔
2) بالغ ہونا
بچے پر زکوٰۃ فرض نہیں، لیکن بعض فقہاء مالِ بچے سے بھی زکوٰۃ نکلواتے ہیں۔
عام اصول یہ ہے کہ بچے پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی کیونکہ زکوٰۃ بالغ اور عاقل مسلمان پر واجب ہوتی ہے۔ لیکن اگر کسی نابالغ بچے کے پاس سونا، چاندی یا کاروباری مال موجود ہو اور وہ نصاب کو پہنچ جائے، (امام شافعی، امام مالک اور امام احمد) کے نزدیک اس مال سے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔
احناف کے مطابق بچے پر زکوٰۃ لازم نہیں، اس کا مال بھی بالغ ہونے تک مشروط نہیں۔
اس اختلاف کی بنیاد یہ ہے کہ بعض فقہاء زکوٰۃ کو مال کا حق سمجھتے ہیں، جبکہ بعض اسے بالغ فرد کی عبادت قرار دیتے ہیں۔
عمومی طور پر:
بالغ مسلمان پر زکوٰۃ فرض ہے۔
3) عاقل ہونا
پاگل یا بے ہوش شخص پر زکوٰۃ نہیں، جب تک کہ ہوش میں نہ آئے۔
4) آزاد ہونا
قدیم فقہی اصول؛ غلام پر زکوٰۃ فرض نہیں تھی۔ آج یہ مسئلہ باقی نہیں رہا۔
5) صاحبِ نصاب ہونا
جس مسلمان کے پاس نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ مال ہو، اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔
مولانا رومیؒ کے روح پرور اقوال جو دل کو سکون دیتے ہیں۔ محبت، خاموشی اور روحانی بیداری کے حسین پیغام۔ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
2 : نصاب کیا ہے؟
اسلام میں دو بنیادی نصاب ہیں:
1) سونے کا نصاب
20 مثقال (87.48 گرام)
2) چاندی کا نصاب
200 درہم (612.36 گرام)
آج کی فقہ میں عام طور پر چاندی کا نصاب زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے کیونکہ: اس سے زیادہ لوگ زکوٰۃ کے دائرے میں آتے ہیں غریبوں کے لیے فائدہ زیادہ ہے
سادہ الفاظ میں:
اگر کسی مسلمان کے پاس اتنی نقدی، سونا، چاندی، یا مالِ تجارت ہو جس کی قیمت 612.36 گرام چاندی کے برابر ہو، تو وہ صاحبِ نصاب ہے۔
نماز باجماعت کی تاکید — حدیث نبوی ﷺ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
3 : کون سا مال قابلِ زکوٰۃ ہے؟
اسلام میں چند خاص قسم کا مال زکوٰۃ کے قابل ہوتا ہے:
1) سونا اور چاندی
چاہے زیور کی شکل میں ہو یا کسی بھی شکل میں اگر نصاب تک پہنچ جائے تو زکوٰۃ لازم ہے۔
2) نقدی (Cash)
یعنی: کرنسی، بینک بیلنس، موبائل والٹ، ڈالر، ریال، درہم، یورو، سیونگ، ہر طرح کی نقدی پر زکوٰۃ فرض ہے۔
3) مالِ تجارت
یعنی بیچنے اور نفع کمانے کے لیے جو چیزیں خریدی جائیں۔
مثالیں: ہول سیل کا مال، دوکان کا اسٹاک، گاڑیوں کا شو روم، موبائل کا اسٹاک، آن لائن شاپ کا سامان،جو چیز بیچنے کی نیت سے رکھی ہو وہ مالِ تجارت ہے اور اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔
4) کاروباری سرمایہ (Business Capital)
جو پیسہ کاروبار میں لگا ہوا ہو، وہ بھی زکوٰۃ کے قابل ہے:
انویسٹمنٹ، پارٹنرشپ کی رقم، پروفٹ شامل، لیکن ملازمین کی تنخواہیں، بجلی کے بل، قرض وغیرہ الگ گنے جاتے ہیں۔
5) زرعی پیداوار
اس کی زکوٰۃ (عشر) الگ حکم رکھتی ہے، تقریباً:
بارش کے پانی سے فصل → 10%، مشینی/لاگت والے پانی سے فصل → 5% یہ حصہ آگے تفصیل سے آئے گا۔
نماز کی شرائط، فرائض، واجبات اور سنتیں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
4 : ایک سال گزرنا (حولانِ حول) کیا ہے؟
زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے ضروری ہے کہ: نصاب کے برابر مال پورے ایک قمری سال (355 دن) تک موجود رہے۔ یہی شرط "حولانِ حول" کہلاتی ہے۔
ایک مثال سے سمجھیں: اگر کسی کے پاس رمضان میں 1 لاکھ روپے موجود ہیں اور یہ رقم پورے سال کم ہو کر نصاب سے نیچے نہیں جاتی، تو اگلے رمضان میں زکوٰۃ فرض ہو جائے گی۔ لیکن اگر سال کے درمیان وہ رقم نصاب سے کم ہو جائے → زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی۔
نماز کی فضیلت — قرآن، حدیث اور بزرگانِ دین کی روشنی میں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
5 : قرآنِ مجید میں نصاب اور مال کی حفاظت کا ذکر
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ﴾
ترجمہ: “اور جب تم فصل کاٹو تو اس کا حق (زکوٰۃ/عشر) ادا کرو۔”
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ: ہر مال کا ایک حق ہوتا ہے۔ زکوٰۃ اسی حق کی ادائیگی ہے۔ اللہ نے مسلمانوں پر یہ فرض کیا تاکہ مال پاک رہے
وضو کی ابتدا بسم الله سے کریں حدیث پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
6 : زکوٰۃ نہ دینے کا انجام (حدیث)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مَن مَلَكَ ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا…"
ترجمہ: “جس نے سونا یا چاندی رکھا اور اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی، قیامت کے دن وہ آگ میں تپائے جائیں گے اور اُن سے اس کا بدن داغا جائے گا۔”
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ: مال کا جمع کرنا جرم نہیں، حق ادا نہ کرنا بڑا گناہ ہے، زکوٰۃ ادا کرنے والے کو عظیم اجر ملتا ہے۔
Part 4 — نماز کے روحانی و اخلاقی اثرات کے بارے میں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
7 : موجودہ زمانے میں نصاب کے حساب کا طریقہ
چونکہ آج کل سونا اور چاندی کی قیمتیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے نصاب ہمیشہ بازار ریٹ کے مطابق نکالا جاتا ہے۔
مثلاً: 1 تولہ چاندی = ___ روپے، 612.36 گرام چاندی = ___ روپے
اگر آپ کے پاس:
✔ نقدی
✔ زیور
✔ کاروباری مال
✔ بینک بیلنس
یہ سب ملا کر نصاب کے برابر ہو جائیں → زکوٰۃ فرض ہے۔
نماز اور کامیاب زندگی کا راز پانچواں حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
8 خلاصہ (Summary)
زکوٰۃ ہر اُس مسلمان پر فرض ہے جو صاحبِ نصاب ہو۔ نصاب کی بنیادی مقدار چاندی کے برابر ہے: 612.36 گرام چاندی۔ زکوٰۃ صرف اُس مال پر ہے جس میں اضافہ اور نشوونما کی صلاحیت ہو۔ سونا، چاندی، نقدی، مال تجارت، کاروباری سرمایہ سب قابلِ زکوٰۃ ہیں۔ نصاب پورا ہونے کے بعد پورا قمری سال گزرنا ضروری ہے۔
حصہ دوم کیلئے یہاں کلک کریں ⬅️ زکوٰۃ کی فضیلت: قرآن و حدیث کی روشنی میں حصہ دوم
اگلا حصہ چہارم: زکوٰۃ کیسے نکالی جائے؟ مکمل اور آسان رہنمائی پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
Content by Wisdom Afkar

0 تبصرے