زکوٰۃ ادا کرنے کا عملی طریقہ
(حساب، نیت، وقت اور مرحلہ وار رہنمائی)
📘 زکوٰۃ سیریز — حصہ 9
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
اب تک کی سیریز میں ہم نے یہ جان لیا کہ: زکوٰۃ کن پر فرض ہے، کن کو دی جا سکتی ہے، اور کن غلطیوں سے بچنا ضروری ہے۔
اب سب سے اہم سوال یہ ہے: زکوٰۃ عملاً کیسے نکالی اور ادا کی جائے؟
اس حصے میں ہم زکوٰۃ کی ادائیگی کو قدم بہ قدم آسان مثالوں کے ساتھ سمجھیں گے۔
زکوٰۃ سیریز⬅️ حصہ اوّل — زکوٰۃ کیا ہے؟ مفہوم، اہمیت اور بنیادی تعارف پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
1️⃣ سب سے پہلے: اپنا قابلِ زکوٰۃ مال جمع کریں
زکوٰۃ نکالنے سے پہلے یہ دیکھیں کہ آپ کے پاس کون کون سا مال موجود ہے جو زکوٰۃ کے دائرے میں آتا ہے:
✔ نقدی (Cash)
✔ بینک بیلنس
✔ سونا اور چاندی (زیور سمیت)
✔ مالِ تجارت / کاروباری اسٹاک
✔ کاروباری نفع (Profit)
✔ وصول ہونے والی رقم (Receivables)
❌ ذاتی استعمال کی چیزیں (گھر، گاڑی، کپڑے) شامل نہیں
زکوٰۃ سیریز ⬅️ حصہ دوم : زکوٰۃ کی فضیلت: قرآن و حدیث کی روشنی میں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
2️⃣ نصاب پورا ہے یا نہیں؟
اگر آپ کے کل قابلِ زکوٰۃ مال کی مالیت:
🔹 612.36 گرام چاندی
یا
🔹 87.48 گرام سونے
کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، اور یہ مال پورا ایک قمری سال رہا ہو، تو آپ پر زکوٰۃ فرض ہے۔
3️⃣ قرض منہا کرنا (اہم نکتہ)
اگر آپ پر کوئی فوری واجب الادا قرض ہے تو: اسے کل مال میں سے منہا کیا جائے گا، باقی رقم پر زکوٰۃ نکالی جائے گی۔
مثلا:
کل مال = 5 لاکھ
قرض = 1 لاکھ
قابلِ زکوٰۃ مال = 4 لاکھ
زکوٰۃ سیریز ⬅️حصہ سوم: کس پر زکوٰۃ فرض ہے؟ نصاب، مالِ زکوٰۃ اور ایک سال مکمل ہونے کا اصول پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
4️⃣ زکوٰۃ کی مقدار کتنی ہے؟
📌 عام اصول: کل قابلِ زکوٰۃ مال کا 2.5٪ (چالیسواں حصہ)
مثالیں:
1,00,000 روپے → 2,500 زکوٰۃ
5,00,000 روپے → 12,500 زکوٰۃ
10,00,000 روپے → 25,000 زکوٰۃ
5️⃣ زکوٰۃ ادا کرنے کی نیت
زکوٰۃ دیتے وقت دل میں یہ نیت ہونا ضروری ہے: “میں اللہ کی رضا کے لیے فرض زکوٰۃ ادا کر رہا ہوں”
✔ زبان سے کہنا لازم نہیں
✔ دل کی نیت کافی ہے
✔ نیت ادائیگی کے وقت یا رقم الگ کرتے وقت ہو سکتی ہے
زکوٰۃ سیریز ⬅️ حصہ چہارم: زکوٰۃ کیسے نکالی جائے؟ مکمل اور آسان رہنمائی پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
6️⃣ زکوٰۃ ایک ساتھ یا قسطوں میں؟
✔ زکوٰۃ ایک ساتھ دینا بھی جائز ہے
✔ مختلف مستحقین میں تقسیم کرنا بھی درست ہے
✔ سال کے دوران پیشگی زکوٰۃ دینا بھی جائز ہے
لیکن شرط یہ ہے کہ: نیت واضح ہو اور مستحق کو مالک بنایا جائے۔
زکوٰۃ سیریز ⬅️ حصہ پنجم-- مصارفِ زکوٰۃ: زکوٰۃ کن لوگوں کو دی جا سکتی ہے؟ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
7️⃣ زکوٰۃ کس کو دیں؟ (مختصر یاد دہانی)
زکوٰۃ کس کو دیں سکتے ہیں :
✔ فقیر، مسکین
✔ قرض دار
✔ مریض
✔ مستحق طلبہ
✔ مستحق رشتہ دار (ماں باپ، اولاد کے علاوہ)
زکوٰۃ کس کو نہیں دیں سکتے ہیں :
❌ والدین، اولاد، بیوی/شوہر
❌ صاحبِ نصاب مالدار
❌ مسجد یا عمارت کی تعمیر
(تفصیل حصہ 5 اور 6 میں گزر چکی ہے)
8️⃣ زکوٰۃ دینے کا بہترین وقت
✔ زکوٰۃ پورے سال دی جا سکتی ہے
✔ رمضان میں دینا افضل ہے (اجر زیادہ ہونے کی امید)
✔ لیکن صرف رمضان کا انتظار کرنا ضروری نہیں
اہم بات: جیسے ہی زکوٰۃ فرض ہو جائے، تاخیر نہ کی جائے
زکوٰۃ سیریز ⬅️ حصہ 7: زکوٰۃ ادا کرتے وقت نیت، وقت اور عام فقہی اختلافات ڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
9️⃣ زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد کیا کریں؟
✔ اللہ کا شکر ادا کریں
✔ دعا کریں کہ اللہ قبول فرمائے
✔ آئندہ سال کے لیے تاریخ یاد رکھیں
✔ اپنے مال کی پاکیزگی پر اطمینان رکھیں
قرآن: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا﴾
“ان کے مال سے صدقہ لے لیجیے جو انہیں پاک اور صاف کر دے”
📝 خلاصہ
زکوٰۃ ادا کرنا مشکل نہیں، اصل مشکل غلط فہمی اور لاپرواہی ہے۔ جب مال، نیت، نصاب اور مصرف درست ہو، تو زکوٰۃ نہ صرف فرض ادا کرتی ہے بلکہ مال، دل اور معاشرے کو پاک کرتی ہے۔
زکوٰۃ سیریز ⬅️ پچھلا حصہ آٹھواں 8: زکوٰۃ سے متعلق عام غلطیاں اور غلط فہمیاں (اہم اصلاحی رہنمائی)
زکوٰۃ سیریز ⬅️ حصہ 10: زکوٰۃ اور صدقہ میں فرق، فضائل اور اثرات (کیوں زکوٰۃ پورے نظامِ معیشت کو بدل دیتی ہے؟)
Content by Wisdom Afkar

