Part -- 5: Masarif-e-Zakat: Zakat Kin Logon Ko Di Ja Sakti Hai? | Who Is Eligible to Receive Zakat? | مصارفِ زکوٰۃ: زکوٰۃ کن لوگوں کو دی جا سکتی ہے؟

Who Can Receive Zakat?

 

 

مصارفِ زکوٰۃ: زکوٰۃ کن لوگوں کو دی جا سکتی ہے؟


 📘 زکوٰۃ سیریز — حصہ 5

 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔   

زکوٰۃ اسلام کا محض مالی عطیہ نہیں بلکہ ایک منظم اور باقاعدہ فریضہ ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خود قرآنِ مجید میں یہ واضح فرما دیا ہے کہ زکوٰۃ کن لوگوں کو دی جائے گی اور کن کو نہیں۔

اکثر لوگ زکوٰۃ تو نکال لیتے ہیں، لیکن درست جگہ پر نہیں دیتے، جس کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔ اس حصے میں ہم تفصیل سے جانیں گے کہ مصارفِ زکوٰۃ کیا ہیں۔


 زکوٰۃ میں تملیک (مستحق کو مالک بنانا) کی شرط

زکوٰۃ کی ادائیگی اس وقت صحیح اور مکمل ہوتی ہے جب جس شخص کو زکوٰۃ دی جا رہی ہو وہ اس مال کا حقیقی مالک بن جائے۔ فقہی اصطلاح میں اسے "تملیک" کہا جاتا ہے، اور یہ زکوٰۃ کے درست ہونے کی بنیادی شرط ہے۔ اسی لیے فقہاءِ امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زکوٰۃ کسی ایسے کام میں صرف نہیں کی جا سکتی جس میں مستحق فرد کی ملکیت ثابت نہ ہو، جیسے مسجد یا مدرسہ کی عمارت کی تعمیر، ہسپتال کی عمارت، سڑک یا کنواں بنانا۔

 نبی کریم کا ارشاد ہے:

 «إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ»

 (صحیح بخاری)، 

جس سے واضح ہوتا ہے کہ زکوٰۃ مالداروں سے لے کر براہِ راست فقیروں کو لوٹائی جاتی ہے۔ لہٰذا درست طریقہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم یا سامان مستحق کو اس طرح دیا جائے کہ وہ اسے اپنی مرضی سے استعمال کر سکے، کیونکہ بغیر تملیک زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔


  حصہ اوّل — زکوٰۃ کیا ہے؟ مفہوم، اہمیت اور بنیادی تعارف پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں 


 قرآنِ مجید میں مصارفِ زکوٰۃ

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾

(سورۃ التوبہ: 60)

ترجمہ:

“زکوٰۃ تو صرف فقیروں، مسکینوں، زکوٰۃ کے کام پر مامور لوگوں، دل جوئی کے مستحق افراد، غلاموں کی آزادی، قرض داروں، اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے ہے۔”

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ زکوٰۃ صرف آٹھ قسم کے لوگوں کو دی جا سکتی ہے۔


 1️⃣ فقیر (الفقراء)

فقیر وہ شخص ہے: جس کے پاس آمدنی نہ ہو۔  یا آمدنی ہو مگر بنیادی ضروریات پوری نہ ہوتی ہوں۔

 مثلاً:   بیوہ عورت، معذور یا بوڑھا شخص،  بے روزگار فرد، فقیروں کو زکوٰۃ دینا سب سے زیادہ افضل ہے۔

2️⃣ مسکین (المساکین)

مسکین وہ ہے:  جو بظاہر کام کر رہا ہو۔  مگر پھر بھی گزر بسر میں دشواری ہو۔

مثلاً:  کم تنخواہ والا ملازم،  بڑا خاندان اور محدود آمدنی، یہ لوگ عموماً مانگتے نہیں مگر شدید محتاج ہوتے ہیں۔

 3️⃣ زکوٰۃ وصول کرنے والے کارکن (العاملین علیھا)

یہ وہ افراد ہیں: جو زکوٰۃ جمع کرتے ہیں، حساب رکھتے ہیں،  تقسیم کا انتظام کرتے ہیں، انہیں زکوٰۃ سے اجرت دی جا سکتی ہے، چاہے وہ خود صاحبِ نصاب ہوں۔

 4️⃣ مؤلفۃ القلوب (جن کی دل جوئی مقصود ہو)

اس میں شامل ہیں:  نئے مسلمان،  وہ افراد جن کی حمایت سے اسلام کو فائدہ پہنچے،  یا جن کے شر سے بچاؤ مقصود ہو۔  زکوٰۃ کے ذریعے ان کے دل اسلام کی طرف مائل کیے جاتے ہیں۔


زکوٰۃ کی فضیلت: قرآن و حدیث کی روشنی میں حصہ دوم   پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں 


5️⃣ غلاموں کی آزادی (فی الرقاب)

 قدیم دور میں:  غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے زکوٰۃ دی جاتی تھی۔

 آج کے دور میں بعض علماء کے نزدیک:  قیدی، مظلوم افراد،  انسانی اسمگلنگ کے شکار لوگ بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔

 6️⃣ قرض دار (الغارمین)

یہ وہ لوگ ہیں:  جن پر حلال ضرورت  کی وجہ سے قرض ہو۔ اور وہ ادا کرنے سے عاجز ہوں

مثلاً علاج کا قرض،  کاروبار میں نقصان،  گھریلو مجبوری، ایسے شخص کو زکوٰۃ دے کر اس کا قرض اتارا جا سکتا ہے۔

 7️⃣ اللہ کی راہ میں (فی سبیل اللہ)

 اس میں شامل ہیں:  دینی تعلیم،  دعوت و تبلیغ،  دینی طلبہ،  دین کی خدمت کے معتبر کام

نوٹ: مساجد کی تعمیر میں براہِ راست زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔

8️⃣ مسافر (ابن السبیل)

وہ مسافر:  جو سفر میں پھنس جائے،  پیسہ ختم ہو جائے، گھر واپسی ممکن نہ ہو، ایسے مسافر کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، چاہے وہ اپنے شہر میں مالدار ہی کیوں نہ ہو۔


🚫 کن لوگوں کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی؟

ماں، باپ، دادا، دادی

اولاد اور پوتے پوتیاں

بیوی یا شوہر

صاحبِ نصاب مالدار

(اکثر فقہاء کے نزدیک) غیر مسلم


  حصہ سوم--کس پر زکوٰۃ فرض ہے؟ نصاب، پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں 


  رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا

غریب:  بھائی، بہن،  چچا، پھوپھی،  ماموں، خالہ کو زکوٰۃ دینا جائز بھی ہے اور افضل بھی، کیونکہ اس میں:  زکوٰۃ کا ثواب،  صلہ رحمی کا اجر دونوں ملتے ہیں۔


🚫 سادات (اہلِ بیت) کو زکوٰۃ دینے کا حکم

اسلامی شریعت کے مطابق نبی کریم کے خاندان سید  (سادات / اہلِ بیت) کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔

رسول اللہ نے فرمایا:

«إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ»

(صحیح مسلم)

ترجمہ:

“بے شک صدقہ (زکوٰۃ) آلِ محمد کے لیے حلال نہیں۔”

اس کی وجہ یہ ہے کہ: زکوٰۃ مال کی میل ہوتی ہے،  اللہ تعالیٰ نے اہلِ بیت کو اس سے پاک رکھا ہے،  ان کا حق بیت المال یا دیگر جائز ذرائع سے مقرر کیا گیا ہے

البتہ: 

✔ ہدیہ

✔ نفلی صدقات

✔ عام مالی تعاون

کے ذریعے سادات کی مدد کرنا جائز بلکہ باعثِ اجر ہے۔


⚠️ زکوٰۃ تقسیم کرنے میں عام غلطیاں

 مالدار کو زکوٰۃ دینا،  مسجد یا مدرسے کی عمارت میں لگانا،  والدین یا اولاد کو دینا،  زکوٰۃ اور عام صدقہ کو خلط ملط کرنا


حضرت فضیل بن عیاضؒ اور خلیفہ ہارون الرشید کا سبق آموز واقعہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں 


 خلاصہ

 زکوٰۃ کے آٹھ مصارف قرآن سے ثابت ہیں۔  زکوٰۃ صرف انہی کو دی جا سکتی ہے۔  صحیح مصرف میں دینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا نکالنا، غلط جگہ دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی


پچھلا حصہ( حصہ چہارم): زکوٰۃ کیسے نکالی جائے؟ زکوٰۃ کا مکمل طریق پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں 

  اگلا حصہ —حصہ ششم 6: کیا زکوٰۃ رشتہ داروں، مریضوں، طلبہ یا جدید مسائل میں دی جا سکتی ہے؟ مکمل وضاحت  



Content by Wisdom Afkar

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Close Menu