جس دل میں قرآن ہو، اللہ اسے عذاب نہیں دیتا
قرآنِ مجید محض ایک کتاب نہیں بلکہ دلوں کی زندگی، روحوں کی شفا اور انسان کے لیے ہدایتِ کاملہ ہے۔ جو دل قرآن سے جُڑ جاتا ہے، جو سینہ اس کے نور سے منور ہو جاتا ہے، وہ دل اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کا مستحق بن جاتا ہے۔
احادیثِ نبویہؐ میں قرآن کی عظمت اور اس کے حامل شخص کے مقام کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں حضرت عقبہ بن عامرؓ سے ایک روایت منقول ہے، جس میں رسولِ خدا ﷺ نے قرآن کے اثر اور اس کی برکت کو واضح الفاظ میں بیان فرمایا۔
حدیثِ نبوی ﷺ
امالی شیخ طوسی، جلد اول، صفحہ 27 میں یہ روایت نقل ہوئی ہے:
قال رسول الله ﷺ:
لا يُعَذِّبُ اللهُ قلبًا وَعَى القرآن
یعنی:
رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ اس دل کو عذاب نہیں دے گا جو قرآن کو اپنے اندر سمو لے۔
زکوۃ سیریز ⬅️ حصہ اوّل — زکوٰۃ کیا ہے؟ مفہوم، اہمیت اور بنیادی تعارف پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
حدیث کا مفہوم اور پیغام
اس حدیث کا مفہوم نہایت گہرا اور روح پرور ہے۔ “قرآن کو دل میں سمانے” سے مراد صرف الفاظ کو یاد کر لینا نہیں، بلکہ:
قرآن کو سمجھنا
اس پر غور و فکر کرنا
اس کی تعلیمات پر عمل کرنا
اپنے اخلاق اور کردار کو قرآن کے مطابق ڈھالنا
جب قرآن انسان کے دل میں جگہ بنا لیتا ہے تو وہ دل گناہوں کی تاریکی سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اللہ کی رحمت کے حصار میں آ جاتا ہے۔
عمرہ کا مکمل مسنون طریقہ سیکھیں : یہاں کلک کریں
حافظِ قرآن — قرآن کا امین
قرآن کو دل میں بسانے کی سب سے روشن اور نمایاں صورت حفظِ قرآن ہے۔
حافظِ قرآن وہ خوش نصیب انسان ہے جس کے سینے میں پورا قرآن محفوظ ہوتا ہے۔ اس کا دل کلامِ الٰہی کا خزانہ اور اس کی زندگی قرآن کی گواہ بن جاتی ہے۔
حافظِ قرآن محض یاد کرنے والا نہیں بلکہ:
قرآن کا امین ہوتا ہے
اللہ کے کلام کا عملی نمونہ بننے کی ذمہ داری اٹھاتا ہے
اپنے عمل و کردار سے قرآن کی عزت کا محافظ بنتا ہے
اسی لیے علما فرماتے ہیں کہ حافظِ قرآن پر دوہری ذمہ داری ہوتی ہے:
قرآن کی حفاظت بھی اور قرآن کی نمائندگی بھی۔
قرآن اور دل کا تعلق
قرآن دلوں کو زندہ کرتا ہے، خوفِ خدا پیدا کرتا ہے، اور انسان کو سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ ایسا دل ، خصوصاً حافظِ قرآن کا دل ، جو قرآن کا حامل ہو:
اللہ کے عذاب سے امان میں ہوتا ہے
سکون اور اطمینان پاتا ہے
دنیا و آخرت میں عزت و سربلندی حاصل کرتا ہے
ہماری ذمہ داری
ہم سب کے لیے یہ حدیث ایک واضح پیغام ہے کہ ہمیں قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرنا چاہیے۔ اگر حفظِ قرآن کی توفیق ملے تو یہ بہت بڑی سعادت ہے، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم:
روزانہ قرآن کی تلاوت
اس کے معانی پر غور
اور اپنی زندگی کو قرآن کے مطابق ڈھالنا
یہ سب ہماری ذمہ داری ہے، تاکہ ہمارے دل بھی قرآن کے نور سے منور ہو جائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کا سچا خادم بنائے،
حافظینِ قرآن کی قدر کرنے کی توفیق دے،
اور ہمیں قرآن کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنائے۔ آمین۔
Content by Wisdom Afkar

