بنی اسرائیل کے ۹۹ افراد کے قاتل کی توبہ
کیا آپ نے کبھی کوئی ایسا گناہ کیا ہے جس کے بعد آپ کو لگا ہو کہ اب آپ کی بخشش ناممکن ہے؟ شیطان آپ کے کان میں سرگوشی کرتا ہوگا کہ "اب تمہارے لیے کوئی راستہ نہیں!"
لیکن یاد رکھیں، اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے!
صحیح بخاری اور مسلم میں مروی بنی اسرائیل کے ایک شخص کا یہ ایمان افروز واقعہ ہر مایوس دل کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا اور امید کا مینار ہے۔
ننانوے (۹۹) نہیں، سو (۱۰۰) کا قتل!
بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو چوری، ڈکیتی اور قتل و غارت گری میں اس قدر مشہور تھا کہ معمولی بات پر کسی کی جان لے لیتا تھا۔ ہوتے ہوتے اس کے ہاتھوں ۹۹ افراد کا خون ہو چکا تھا۔
ایک دن اس کے دل میں یہ خیال آیا: "مجھے بھی تو اللہ کے پاس جانا ہے! کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟"
حصہ اوّل — زکوٰۃ کیا ہے؟ مفہوم، اہمیت اور بنیادی تعارف پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
عابد کا غلط مشورہ اور ایک اور قتل:
اس شخص نے لوگوں سے پوچھ کر ایک عابد (عبادت گزار) کے پاس جا کر اپنا مسئلہ بتایا کہ کیا ۹۹ قتل کے بعد اس کی مغفرت ہو سکتی ہے؟ عابد کو چونکہ علمِ دین حاصل نہیں تھا، اس نے اپنی عقل سے یہ قیاس کیا کہ اتنے بڑے قاتل کی توبہ کیسے قبول ہو سکتی ہے!
اس نے دو ٹوک جواب دیا: "تیری توبہ قبول نہیں ہوگی!"
قاتل کے دل میں غصہ اور جلال پیدا ہوا کہ جب توبہ قبول نہیں ہونی تو لاؤ تجھے بھی ختم کروں، اور یوں اس نے اس عابد کو بھی قتل کر کے مقتولین کی تعداد ۱۰۰ پوری کر دی۔
رحمت کی جستجو اور عالم کا مشورہ
سو قتل کرنے کے باوجود، اس کے دل میں رحمت کی جستجو باقی تھی۔ اس نے پھر لوگوں سے پوچھا کہ روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے؟
لوگوں نے اسے ایک عالمِ باعمل کا پتہ دیا۔
یہ شخص عالم کے پاس گیا اور پوری داستان سنائی، سو قتل کا کارنامہ بیان کیا اور پوچھا: "کیا میرے لیے بھی مغفرت کا کوئی خانہ ہے؟"
ایک اعرابی کی دل ہلا دینے والی دعا: روح کو جگا دینے والا ایمان افروز واقعہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
علم رکھنے والے عالم کا ایمان افروز جواب!
عالم نے جواب دیا: "تیرے گناہ معاف کرنے میں اللہ کو کیا رکاوٹ ہے! اللہ کی رحمت کا سمندر تجھ جیسے گناہ گاروں کے گناہوں سے بہت بڑا اور وسیع ہے۔"
اس عالم نے اسے مشورہ دیا کہ تم اس بری بستی کو چھوڑ دو اور فلاں بستی کی طرف سفر کرو جہاں صرف اللہ کے نیک بندے رہتے ہیں، ان کے ساتھ مل کر عبادت کرو اور سچے دل سے توبہ کرو۔
منزل سے ایک بالشت کا فاصلہ: فرشتوں کا جھگڑا اور فیصلہ
قاتل نے عالم کا مشورہ مانا اور اس گناہ گار بستی کو چھوڑ کر نیکی والی بستی کی طرف سفر شروع کر دیا۔ ابھی آدھا راستہ ہی طے ہوا تھا کہ ملک الموت آ پہنچے اور اس کی روح قبض کر لی۔
اب اس کی روح لے جانے کے لیے رحمت کے فرشتے بھی آئے اور عذاب کے فرشتے بھی۔
رحمت کے فرشتے: "یہ توبہ کر کے جا رہا تھا، حق ہمارا ہے۔"
عذاب کے فرشتے: "اس نے کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا، پوری زندگی گناہ میں گنوائی، حق ہمارا ہے۔"
اسی دوران اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ انسانی شکل میں آیا اور دونوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے کہا: "دونوں طرف کی زمین ناپ لو۔ جہاں سے آ رہا ہے (بستیِ معصیت) اور جہاں جا رہا ہے (بستیِ عبادت)، ان میں سے جس کی مسافت قریب ہو، اسے اسی بستی والوں میں شمار کر دیا جائے گا۔"
فرشتوں نے مسافت ناپی، اور وہ عجیب منظر تھا! بستیِ عبادت جہاں وہ جا رہا تھا، وہ بستیِ معصیت کے مقابلے میں صرف ایک بالشت (Hand Span) قریب نکلی!
نتیجہ: ایک بالشت کی قربت کی بنیاد پر اس کی مغفرت کا فیصلہ ہو گیا، اور رحمت کے فرشتے اس کی روح لے گئے۔
حاصل: توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
یہ واقعہ ہمیں دو بنیادی حقائق سکھاتا ہے:
- اللہ کی رحمت بے انتہا ہے: سو قتل جیسے عظیم گناہ کے باوجود، جب بندے نے سچے دل سے توبہ کی نیت کی، تو اللہ نے اسے قبول فرما لیا۔
- نیت کا سفر عمل سے پہلے شمار ہوتا ہے: وہ شخص منزل پر پہنچا بھی نہیں تھا، لیکن اس کی نیت اور اس کے سفر کو قبول کر لیا گیا۔ ایک روایت کے مطابق، موت کے وقت وہ سینے کے بل نیکی کی بستی کی طرف گھسیٹتا گیا تاکہ وہ فاصلہ مزید کم ہو جائے۔
حدیث قدسی: "میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں، اور وہ مجھے جہاں بھی یاد کرے، میں اس کے ساتھ ہوں۔... جو شخص ایک بالشت میری طرف آتا ہے، میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں، اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔"
(کتاب التوابین بحوالہ بخاری شریف)
استغفار کی طاقت - دل، زندگی اور تقدیر بدل دینے والا عمل پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
آپ کے لیے پیغام:
گناہ چاہے کتنا بھی بڑا ہو، اللہ کی رحمت سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ شیطان کی باتوں میں آ کر مایوس نہ ہوں۔ آج ہی سچے دل سے اپنے رب کی طرف رجوع کریں، نادم ہوں، اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سچی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
Content by Wisdom Afkar



0 تبصرے