ابو جندل و ابو بصیر کا ایمان افروز واقعہ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اسلام کی تاریخ میں صلحِ حدیبیہ ایک نہایت اہم اور سبق آموز واقعہ ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف نبی کریم ﷺ کی اعلیٰ حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ صحابہ کرامؓ کے صبر، ایمان، اور اطاعت کا بے مثال مظاہرہ بھی پیش کرتا ہے۔
پس منظر: صلحِ حدیبیہ کا واقعہ
ہجرت کے چھٹے سال حضورِ اکرم ﷺ عمرہ کی نیت سے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ آپ ﷺ کے ہمراہ تقریباً چودہ سو جاں نثار صحابہ کرامؓ تھے، جو اللہ کے گھر کی زیارت کے لیے بے تاب تھے۔ جب کفارِ مکہ کو خبر ملی تو وہ اس سفر کو اپنی توہین سمجھنے لگے اور مسلمانوں کو روکنے کے لیے نکل پڑے۔ مسلمان حدیبیہ کے مقام پر رک گئے۔ یہ وہ موقع تھا جب صحابہ کرامؓ کے دل جوشِ جہاد سے لبریز تھے، مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم جنگ کے لیے نہیں بلکہ عبادت کے ارادے سے آئے ہیں۔ آپ ﷺ نے کفار سے امن و صلح کی راہ اختیار کرنے کا فیصلہ فرمایا۔
صلح کی شرائط اور صحابہ کی آزمائش
کفارِ مکہ کی طرف سے سہیل بن عمرو مذاکرات کے لیے آئے۔ صلح کی شرائط بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت اور نامناسب تھیں، لیکن رسول ﷺ نے صبر و حکمت کے ساتھ وہ شرائط قبول فرمائیں تاکہ خونریزی سے بچا جا سکے۔ ان شرائط میں ایک یہ بھی تھی کہ:
- “اگر مکہ کا کوئی شخص اسلام قبول کر کے مدینہ آ جائے تو اسے واپس کر دیا جائے،
- اور اگر کوئی مسلمان مرتد ہو کر مکہ چلا جائے تو اسے واپس نہیں لایا جائے گا۔”
یہ شرط سن کر صحابہ کرامؓ کے دل بھر آئے، مگر نبی ﷺ نے فرمایا:
“میں اللہ کا رسول ہوں، اس کے حکم کے خلاف کچھ نہیں کرتا، اور اللہ ہی ہمیں راستہ دکھائے گا۔”
حضرت ابو جندلؓ کا دردناک منظر
صلح نامہ ابھی مکمل نہ ہوا تھا کہ حضرت ابو جندلؓ جو سہیل بن عمرو کے بیٹے تھے زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں کے لشکر میں آ پہنچے۔ وہ مکہ میں ایمان لانے کی پاداش میں سخت اذیتیں برداشت کر رہے تھے، مگر اللہ کے دین پر قائم رہے۔جب انہوں نے مسلمانوں کو دیکھا تو سمجھا کہ اب آزادی نصیب ہو گئی۔ مگر یہ منظر ان کے والد سہیل بن عمرو کے لیے سخت ناگوار گزرا۔ انہوں نے کہا: “محمد ﷺ! ہمارے درمیان معاہدہ ہو چکا ہے، لہٰذا میرا بیٹا واپس کرو۔” نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “ابھی معاہدہ مکمل نہیں ہوا۔” لیکن سہیل اپنی بات پر اڑے رہے۔ مسلمانوں کے دل غم سے بھر گئے، اور حضرت ابو جندلؓ زنجیروں سمیت مسلمانوں سے فریاد کرنے لگے: “اے مسلمانوں! کیا میں اسلام کے لیے یہ سب تکلیفیں اٹھانے کے بعد دوبارہ کفار کے حوالے کر دیا جاؤں گا؟” یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرامؓ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ مگر رسول ﷺ نے فرمایا: “اے ابو جندل! صبر کرو، اللہ تمہارے لیے عنقریب کوئی راستہ نکالے گا۔” یہ جملہ صبر و یقین کا وہ پیغام ہے جو قیامت تک ایمان والوں کے دلوں میں امید جگاتا رہے گا۔
حضرت ابو بصیرؓ کا غیرت مندانہ عمل
صلحِ حدیبیہ کے کچھ دن بعد حضرت ابو بصیرؓ اسلام قبول کر کے مکہ سے مدینہ پہنچے۔ کفارِ مکہ نے معاہدہ کی رو سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ نبی ﷺ نے معاہدے کی پاسداری فرماتے ہوئے، دل پر پتھر رکھ کر، ابو بصیرؓ کو واپس بھیج دیا۔ راستے میں ابو بصیرؓ نے موقع پا کر اپنے ایک نگراں کو قتل کر دیا اور دوسرے کو بھگا دیا۔ پھر وہ مدینہ واپس آ کر عرض کرنے لگے: “یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے مجھے واپس کر دیا، اب میں کسی کے عہد کے ماتحت نہیں۔ میں اپنے دین کے لیے لڑوں گا۔” نبی ﷺ نے فرمایا: “یہ شخص جنگ کا ماہر ہے، کاش کوئی اس کا مددگار ہوتا!” یہ اشارہ ابو بصیرؓ کے لیے کافی تھا۔ وہ مدینہ سے نکل کر سمندر کے کنارے جا بسے۔ وقت گزرنے کے ساتھ حضرت ابو جندلؓ اور دوسرے مظلوم مسلمان بھی وہاں پہنچ گئے۔ جلد ہی یہ ایک چھوٹی مگر مضبوط جماعت بن گئی، جو مکہ جانے والے قافلوں کا راستہ روکتی اور کفار کو بے چین کر دیتی تھی۔ آخرکار کفارِ مکہ نے خود رسول ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ان مسلمانوں کو اپنے پاس بلا لیں تاکہ امن قائم ہو جائے۔
حضرت ابو بصیرؓ کا آخری لمحہ
جب حضور ﷺ کی طرف سے بلاوا آیا، تو حضرت ابو بصیرؓ اُس وقت مرض الموت میں مبتلا تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ کا اجازت نامہ ہاتھ میں لیا اور مسکراتے ہوئے جان، اپنے رب کے حوالے کر دی۔ وہ دنیا سے ایمان، صبر اور وفا کی روشن مثال بن کر رخصت ہوئے۔
رَضِیَ اللّٰہُ عَنْهُم وَرَضُوا عَنْهُ
سبق اور پیغام
یہ واقعہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ:
- ایمان کی راہ میں مشکلات آتی ہیں، مگر صبر کرنے والوں کے لیے اللہ خود راستہ بناتا ہے۔
- ایمان سچا ہو تو زنجیریں بھی مومن کے عزم کو نہیں توڑ سکتیں۔
- رسول ﷺ کی اطاعت اور اللہ پر یقین ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔
“فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا”
(بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے)
حاصلِ کلام
حضرت ابو جندلؓ اور حضرت ابو بصیرؓ کی قربانیاں اسلام کی تاریخ میں ایمان، صبر، اور استقامت کا روشن باب ہیں۔ انہوں نے دکھایا کہ جب بندہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو کوئی طاقت اس کو شکست نہیں دے سکتی۔ یہی وہ ایمان ہے جو دنیا کو بدل دیتا ہے اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بن جاتا ہے۔
مرتب: Wisdom Afkar
ماخذ:حکایاتِ صحابہ
تحریر:
وزڈم افکار


0 تبصرے