ایک ایسا احسان جس کا بدلہ جان دے کر بھی ادا نہ ہو سکا
تاریخ کے صفحات میں بعض واقعات ایسے بھی محفوظ ہیں جو انسان کو وفاداری، احسان شناسی اور بلند اخلاق کی ایسی مثالیں دکھاتے ہیں کہ دل بے اختیار متاثر ہو جاتا ہے۔ یہ واقعہ بھی ایک ایسے ہی محسن اور ایک ایسے ہی وفادار انسان کا ہے، جنہوں نے اپنے کردار سے ثابت کر دیا کہ نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی اور احسان کا قرض اہلِ وفا کے دلوں پر ہمیشہ باقی رہتا ہے۔
الخلیفہ مامون الرشید کے انسپکٹر جنرل پولیس عباس بیان کرتے ہیں:
ایک روز میں امیر المؤمنین مامون الرشید کے ایوانِ خاص میں حاضر ہوا۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے آواز دی:
"عباس!"
میں نے عرض کیا:
"لبیک یا امیر المؤمنین!"
انہوں نے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
"اسے لے جاؤ اور علی الصبح میرے دربار میں پیش کرنا۔"
دیانت داری کا صلہ: ایک ہزار دینار اور امانت داری کا حیرت انگیز واقعہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو ایک شخص بیڑیوں، ہتھکڑیوں اور زنجیروں میں اس طرح جکڑا ہوا تھا کہ گویا حرکت کرنے کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو۔ میں نے حسبِ حکم اپنے ماتحت اہلکاروں کو اسے حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔
جب وہ اسے لے جانے لگے تو میرے دل میں خیال آیا کہ امیر المؤمنین نے جس سختی اور غصے کے ساتھ اس قیدی کو میرے سپرد کیا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ اسے عام حوالات میں رکھنے کے بجائے اپنی نگرانی میں رکھا جائے۔ چنانچہ میں نے حکم دیا کہ اسے میرے گھر میں نظر بند کر دیا جائے۔
رات کا ایک حصہ گزر گیا تو میں نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا:
"تم کون ہو؟ تمہارا نام کیا ہے؟ کہاں کے رہنے والے ہو؟ اور تمہارا جرم کیا ہے؟"
اس نے جواب دیا:
"میں دمشق کا رہنے والا ہوں۔"
میں نے کہا:
"اللہ تعالیٰ دمشق اور اس کے باشندوں کو سلامت رکھے۔ تم کس قبیلے اور کس خاندان سے تعلق رکھتے ہو؟"
اس نے جواب دیا:
"آپ کن قبیلوں اور خاندانوں کو جانتے ہیں؟"
میں نے چند معروف خاندانوں کے نام لیے اور پھر ایک شخص کا نام لے کر پوچھا:
"کیا تم فلاں شخص کو جانتے ہو؟"
عدلِ عمر بن عبدالعزیزؒ اور فتحِ سمرقند کا حیرت انگیز واقعہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
اس نے کہا:
"جب تک آپ یہ نہ بتائیں گے کہ اس شخص میں آپ کی دلچسپی کیوں ہے، میں اس کے بارے میں کچھ نہیں بتاؤں گا۔"
میں نے کہا:
"تو پھر سنو۔"
میں نے اسے اپنا ایک پرانا واقعہ سنانا شروع کیا۔
میں ایک زمانے میں دمشق کے گورنر کے ماتحت ایک افسر تھا۔ شہر میں اچانک بغاوت بھڑک اٹھی۔ حالات اس قدر خراب ہو گئے کہ گورنر کو قلعے سے پنجرے کے ذریعے نیچے اتر کر فرار ہونا پڑا۔ میں بھی اس کے ساتھ تھا۔
باغیوں کا ایک گروہ مسلسل میرے تعاقب میں تھا۔ میں جان بچانے کے لیے دوڑ رہا تھا اور بالآخر ان کی نظروں سے اوجھل ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
اسی دوران میں ایک عظیم الشان مکان کے سامنے سے گزرا۔ میں نے دروازے پر کھڑے شخص سے کہا:
"اللہ آپ پر رحم فرمائے، میری مدد کیجیے۔"
اس نے فوراً مجھے اپنے گھر کے اندر آنے کا اشارہ کیا۔
میں ابھی اندر داخل ہی ہوا تھا کہ اس کی اہلیہ نے مجھے جلدی سے گھر کے ایک خصوصی حصے، مقصورہ، میں چھپا دیا۔
کچھ ہی لمحوں بعد مکان کے دروازے پر شور بلند ہوا۔
لوگ چیخ رہے تھے:
"واللہ! وہ شخص تیرے گھر میں داخل ہوا ہے۔"
بخت نصر بادشاہ کا عبرت انگیز واقعہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
میزبان نے پورے اطمینان سے جواب دیا:
"گھر کی تلاشی لے لو۔"
چنانچہ لوگ اندر داخل ہوئے اور گھر کا چپہ چپہ چھان مارا۔ جب انہیں کچھ نہ ملا تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا:
"وہ یقیناً مقصورہ میں چھپا ہوا ہے۔"
یہ سن کر خوف سے میرا جسم کانپنے لگا اور دل بے قابو ہو گیا۔
اسی وقت اس عظیم خاتون نے، جو میرے قریب کھڑی تھیں، ان لوگوں کو سختی سے ڈانٹا۔ ان کی جرات اور رعب ایسا تھا کہ کسی کو اندر داخل ہونے کی ہمت نہ ہوئی اور وہ واپس لوٹ گئے۔
میرے خوف کی حالت یہ تھی کہ میری ٹانگیں میرا وزن اٹھانے کے قابل نہ رہیں۔
میزبان دروازے پر پہرہ دیتا رہا اور اس کی اہلیہ مسلسل مجھے تسلی دیتی رہیں:
"فکر نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے شر سے محفوظ کر دیا ہے۔"
اس کے بعد اس خاندان نے میرے ساتھ ایسا حسنِ سلوک کیا کہ میرے دل سے اجنبیت کا ہر احساس ختم ہو گیا۔
انہوں نے میرے لیے اپنے محل میں الگ رہائش کا انتظام کیا، میری ضروریات کا خیال رکھا اور صبح و شام میری خبر گیری کی۔ ان کی شفقت اور محبت نے میرے تمام خوف اور پریشانیاں دور کر دیں۔
یوں میں نے وہاں زندگی کے بہترین چار ماہ گزارے۔
جب حالات معمول پر آ گئے تو میں نے ان سے رخصت کی اجازت مانگی اور کہا:
"اب فتنہ ختم ہو چکا ہے۔ میں اپنے غلاموں کو تلاش کرنا چاہتا ہوں۔"
انہوں نے خوش دلی سے اجازت دے دی اور واپسی کا وعدہ لیا۔
میں شہر گیا لیکن اپنے غلاموں کا سراغ نہ پا سکا، لہٰذا دوبارہ ان کے پاس واپس آ گیا۔
اس تمام عرصے میں، باوجود اس کے کہ انہوں نے میری بے مثال خدمت کی تھی، نہ کبھی میرا نام پوچھا، نہ خاندان اور نہ عہدہ۔ وہ ہمیشہ مجھے میری کنیت سے ہی پکارتے رہے۔
کچھ عرصے بعد میں نے بغداد جانے کی اجازت طلب کی۔
انہوں نے فرمایا:
"میں پہلے بغداد جانے والے قافلے کا پتہ کر لیتا ہوں۔"
میں نے ان سے وعدہ کیا:
"میں آپ کے اس احسان کو زندگی بھر نہیں بھولوں گا اور اپنی استطاعت کے مطابق اس کا بہترین بدلہ دوں گا۔"
اگلے دن انہوں نے میرے سفر کی ایسی تیاری کی کہ میں حیران رہ گیا۔
اعلیٰ لباس، نئے جوتے، تلوار، پیٹی، سواری، زادِ راہ، سامان اور ایک خادم تک میرے ساتھ روانہ کیا گیا۔
وہ اور ان کی اہلیہ کئی فرلانگ تک مجھے رخصت کرنے کے لیے ساتھ آئے۔
رخصت ہوتے وقت وہ مجھ سے اپنی کسی ممکنہ کوتاہی کی معذرت کر رہے تھے۔
میں آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا۔
دل بھر آیا اور آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔
کئی دنوں کے سفر کے بعد میں بغداد پہنچ گیا، لیکن پھر زندگی کے ہنگاموں میں اس محسن کا پتہ نہ چل سکا۔
میں آج بھی اس کی تلاش میں ہوں تاکہ اس احسان کا بدلہ ادا کر سکوں۔
یہ سن کر قیدی نے کہا:
"اللہ تعالیٰ نے آج تمہیں اس احسان کا بدلہ ادا کرنے کا بہترین موقع عطا کر دیا ہے۔"
خوفِ خدا: ہارون الرشید کے دربار کا ایمان افروز واقعہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
میں نے حیرت سے پوچھا:
"کیسے؟"
اس نے جواب دیا:
"وہ شخص میں ہی ہوں۔"
یہ سنتے ہی میرا دل دھڑک اٹھا۔
میں بے اختیار کھڑا ہوا، اسے زنجیروں سمیت سینے سے لگا لیا اور اس کا سر چومنے لگا۔
میں نے پوچھا:
"آپ اس حال کو کیسے پہنچے؟"
انہوں نے جواب دیا:
"دمشق میں ایک نیا فتنہ برپا ہوا اور اس کا الزام مجھ پر لگا دیا گیا۔ مجھے گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر زنجیروں میں جکڑ کر یہاں لایا گیا۔ امیر المؤمنین کے نزدیک میرا جرم اتنا سنگین ہے کہ غالباً مجھے قتل کر دیا جائے گا۔"
پھر انہوں نے کہا:
"اگر تم اپنے وعدۂ وفا کو پورا کرنا چاہتے ہو تو میرے غلام کو بلا دو تاکہ میں مرنے سے پہلے اپنی وصیت کر سکوں۔"
میں نے فوراً ان کے ہاتھ پاؤں کی زنجیریں کٹوائیں، انہیں غسل کرایا، بہترین لباس پہنایا اور ان کے غلام کو بلوایا۔
غلام کو دیکھتے ہی وہ رو پڑے اور اپنی وصیت کر دی۔
بعد ازاں میں نے ان کے فرار کا انتظام کرنا چاہا، مگر انہوں نے کہا:
"میں بغداد سے باہر نہیں جاؤں گا۔ اگر تمہارے لیے کوئی مشکل پیدا ہوئی تو میں خود حاضر ہو جاؤں گا۔"
اس جواب نے مجھے اور بھی حیران کر دیا۔
وہ شخص اپنی جان بچانے سے زیادہ میرے احسان کا خیال کر رہا تھا۔
ادھر میں جانتا تھا کہ صبح امیر المؤمنین کے سامنے پیشی ہے اور میرا انجام موت بھی ہو سکتا ہے۔
چنانچہ میں نے غسل کیا، حنوط لگایا اور اپنا کفن تیار کر لیا۔
نمازِ فجر کے فوراً بعد شاہی حکم آ گیا:
"قیدی کو لے کر حاضر ہو۔"
میں دربار میں پہنچا۔
مامون الرشید نے پوچھا:
"عباس! مجرم کہاں ہے؟"
میں خاموش رہا۔
انہوں نے سخت لہجے میں فرمایا:
"اگر تم نے کہا کہ وہ فرار ہو گیا ہے تو تمہارا سر قلم کر دیا جائے گا۔"
قتل کے بعد توبہ: اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں (بخاری حدیث) پڑھنے کیلئے کلک کریں
میں نے عرض کیا:
"یا امیر المؤمنین! پہلے میری پوری بات سن لیجیے، پھر جو مناسب سمجھیں فیصلہ فرمائیے۔"
میں نے ابتدا سے انتہا تک سارا واقعہ بیان کر دیا۔
پھر عرض کیا:
"اگر آپ مجھے معاف کر دیں تو میں نے اپنے محسن کے ساتھ وفاداری نبھا دی، اور اگر آپ مجھے قتل کرنا چاہیں تو میں تیار ہوں۔ غسل کر چکا ہوں، حنوط لگا چکا ہوں اور کفن بھی ساتھ لایا ہوں۔"
مامون الرشید چند لمحے خاموش رہے، پھر بولے:
"عباس! تیرا احسان اس کے احسان کے برابر کیسے ہو سکتا ہے؟ تو نے اسے پہچان لینے کے بعد مدد کی، جبکہ اس نے ایک اجنبی شخص پر صرف انسانیت کی بنیاد پر احسان کیا تھا۔"
پھر فرمایا:
"مجھے پہلے کیوں نہ بتایا؟ میں خود اس کے احسان کا بدلہ دیتا۔"
جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ شخص ابھی بغداد ہی میں موجود ہے تو انہوں نے فوراً اسے بلانے کا حکم دیا۔
چنانچہ وہ دربار میں حاضر ہوا۔
عقل مند غلام لڑکی — ایک سبق آموز کہانی جو دل کو چھو جائے پڑھنے کیلئے کلک کریں
مامون الرشید نے اسے اپنے قریب بٹھایا، عزت دی، اس کے ساتھ کھانا کھایا اور اس کی دلجوئی کی۔
بعد ازاں انہوں نے اسے دمشق کی گورنری پیش کی، لیکن اس نیک انسان نے نہایت ادب کے ساتھ یہ منصب قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
تب مامون الرشید نے اسے شاہی خلعت عطا کی، عزت و احترام کے ساتھ رخصت کیا اور دمشق کے گورنر کو خصوصی ہدایت بھیجی کہ اس شخص کے ساتھ بہترین سلوک کیا جائے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ احسان، وفاداری، انسانیت اور کردار کی عظمت کسی منصب یا دولت کی محتاج نہیں ہوتی۔ جو لوگ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے لیے ناممکن راستوں میں بھی آسانیاں پیدا فرما دیتا ہے، اور نیکی کا بدلہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔
ماخذ: المطالعة العربية (مطبوعہ مدینہ منورہ)
A Favor That Could Never Be Repaid
History preserves certain stories that continue to inspire generations with their lessons of loyalty, gratitude, and noble character. This is one such remarkable account—a story of a man who extended kindness to a stranger without knowing who he was, and another who was willing to sacrifice his own life to repay that kindness.
Abbas, the Inspector General of Police under Caliph Al-Ma'mun, narrates:
One day I entered the private court of the Commander of the Faithful, Al-Ma'mun. As soon as he saw me, he called out:
"Abbas!"
I replied:
"At your service, O Commander of the Faithful."
The Reward of Honesty and Trust in Allah Read Here
Pointing toward a prisoner bound in chains, shackles, and iron restraints, he ordered:
"Take this man away and present him before me tomorrow morning."
The prisoner appeared completely helpless, weighed down by heavy chains. I instructed my officers to place him under guard. However, considering the severity with which the Caliph had spoken, I decided not to leave him in the public prison. Instead, I ordered that he be kept under watch in my own residence.
Later that night, I summoned him and asked:
"Who are you? What is your name? Where are you from, and what crime have you committed?"
The prisoner replied:
"I am from Damascus."
I said:
"May Allah protect Damascus and its people. To which tribe and family do you belong?"
He responded:
"Which tribes and families do you know?"
After mentioning several notable families, I asked him whether he knew a certain man from Damascus.
The Islamic Justice of Samarkand Read Here
The prisoner replied:
"I will not answer until you tell me why you are interested in that man."
I said:
"Then listen."
I began recounting an incident from my past.
Years earlier, I had been an officer under the governor of Damascus. During that time, a rebellion broke out in the city. The situation became so dangerous that the governor had to escape from the fortress by descending in a cage. I was among those who fled with him.
A group of rebels pursued me relentlessly. Running for my life, I eventually escaped their sight and found myself passing by a magnificent mansion.
I called out to the owner:
"Please help me. May Allah help you."
Without hesitation, he invited me inside.
As soon as I entered, his wife discreetly directed me into a private chamber. Moments later, loud voices erupted at the gate.
The pursuers shouted:
"By Allah! The man entered your house."
The homeowner calmly replied:
"Search the house if you wish."
They entered and searched every corner of the residence. Finding nothing, they concluded:
"He must be hiding in the private chamber."
At that moment, fear overwhelmed me. My legs trembled, and my heart pounded violently.
The lady of the house, who was standing nearby, courageously rebuked the intruders. Her confidence and authority were so striking that none of them dared enter the chamber. Eventually, they left.
The Man Who Killed 100: Story of Repentance and Allah's Infinite Mercy Read Here
I was still trembling with fear. The homeowner remained near the entrance while his wife comforted me, saying:
"Do not be afraid. Allah has protected you from them."
From that day onward, the couple treated me with extraordinary kindness. They removed every feeling of loneliness and fear from my heart.
The homeowner gave me a separate residence within his estate. He ensured all my needs were met and checked on me every morning and evening. Through his generosity and compassion, he made me forget all my hardships.
I remained there for four months—the best months of my life.
When peace finally returned to the city, I requested permission to leave and search for my servants.
The man gladly granted permission and asked only that I return if possible.
I searched for my servants but could not find them, so I returned to him.
Throughout all this time, despite his immense generosity, he never once asked my name, family, or position. He addressed me only by my honorific title.
Later, I sought permission to travel to Baghdad.
He willingly agreed but first arranged for me to join a suitable caravan.
Before leaving, I promised him:
"I will never forget your kindness as long as I live, and I will repay it to the best of my ability."
The next day, he prepared everything for my journey.
He provided fine clothing, new shoes, a sword, provisions, a mount, and even assigned a servant to accompany me.
He and his wife escorted me for a considerable distance outside the city.
As they bid me farewell, they apologized for any shortcomings in their hospitality.
Their humility moved me deeply. Tears filled my eyes as I parted from them.
After many days of travel, I reached Baghdad. However, life's responsibilities prevented me from ever finding that noble man again.
To this day, I have wished for an opportunity to repay his kindness.
Fear of God: An Inspiring Story from the Court of Harun al-Rashid Read Here
When I finished my story, the prisoner looked at me and said:
"Allah has now given you that opportunity."
I asked in surprise:
"How?"
He replied:
"I am that man."
The moment I heard those words, I was overcome with emotion.
I rushed toward him, embraced him despite his chains, and kissed his forehead.
Then I asked:
"How did you end up in this condition?"
He answered:
"A rebellion arose in Damascus similar to the one you described. The blame was placed upon me. I was arrested, tortured, and eventually brought here in chains. The accusation against me is so serious that I expect to be executed."
Then he said:
"If you truly wish to repay my kindness, summon my servant so I may leave my final instructions before I die."
I immediately ordered a blacksmith to remove his chains. I arranged for him to bathe, provided him with fine clothing, and brought his servant to him.
Upon seeing his servant, the man wept and delivered his final instructions.
I then attempted to arrange his escape.
However, he refused.
He said:
"I will not leave Baghdad. If any harm comes to you because of me, I will present myself before the Caliph."
Even at that moment, he was thinking of my welfare rather than his own safety.
Realizing that I might face execution the next morning, I prepared myself for death. I performed a ritual bath, applied perfume, and prepared my shroud.
After Fajr prayer, the Caliph's summons arrived.
I entered the royal court.
Al-Ma'mun asked:
"Abbas, where is the prisoner?"
I remained silent.
The Wise Slave Girl – A Moral and Inspiring Story Read Here
He sternly warned:
"If you tell me that he escaped, I will have your head struck off."
I replied:
"O Commander of the Faithful, allow me to tell you the entire story first. Then do with me whatever you see fit."
I narrated everything from beginning to end.
Finally, I said:
"If you forgive me, I will have fulfilled my duty toward a benefactor. If you choose to execute me, I am prepared. I have already washed myself, applied perfume, and brought my shroud."
The Caliph remained silent for a moment before saying:
"Abbas, your kindness can never equal his. You helped him after recognizing him, whereas he helped a complete stranger without knowing who he was."
Then he added:
"Why did you not tell me sooner? I would have repaid his kindness myself."
When he learned that the man was still in Baghdad, he immediately ordered that he be brought before him.
The noble Damascene appeared before the Caliph.
The Tragic Story of King Nebuchadnezzar Read Here
Al-Ma'mun seated him beside himself, honored him, conversed with him warmly, and shared a meal with him.
The Caliph then offered him the governorship of Damascus.
However, the man politely declined.
In recognition of his virtue, Al-Ma'mun presented him with valuable gifts and a robe of honor. He also sent instructions to the governor of Damascus to treat him with the utmost respect and kindness.
This remarkable story teaches us that true generosity, loyalty, and gratitude never go unnoticed. A sincere act of kindness performed for the sake of Allah can change lives, inspire hearts, and leave a legacy that endures long after the event itself has passed.
Source: Al-Mutala‘ah Al-‘Arabiyyah (Published in Madinah Munawwarah)
Content by Wisdom Afkar

