Bakht Nasar Badshah ka Ibrat Angaiz Waqia | The Tragic Story of King Nebuchadnezzar| بخت نصر بادشاہ کا عبرت انگیز واقعہ

بخت نصر بادشاہ کا عبرت انگیز واقعہ

دنیا کے بادشاہوں کے قصے اکثر طاقت، فتوحات اور شان و شوکت سے بھرے ہوتے ہیں، مگر بخت نصر کی داستان ایسی ہے جو انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ یہ ایک ایسے بادشاہ کی کہانی ہے جو ابتدا میں نیک، صالح اور اللہ کے پیغمبروں کا مطیع تھا، مگر نفسانی خواہش نے اسے بربادی کے گڑھے میں دھکیل دیا۔


  تر کی میں قرآن کی بے حرمتی اور اللہ کا غذاب  یہاں  پڑھئے 


 نیک بخت بادشاہ کی آزمائش

بخت نصر شروع میں نہایت نیک فطرت بادشاہ تھا۔ وہ حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا فرمانبردار، ان کا قدردان اور ان کے مشوروں پر عمل کرنے والا تھا۔ مگر شیطان نے اس کے دل میں ایک فتنہ ڈال دیا۔ایک دن اس نے ایک عورت سے نکاح کیا، جس کی پہلی شادی سے ایک بیٹی تھی۔ وہ لڑکی حسن و جمال میں بے مثال تھی۔ جب وہ جوانی کی دہلیز پر پہنچی تو بادشاہ اس کے حسن کا دیوانہ ہو گیا۔ وہ لڑکی اس کی سوتیلی بیٹی تھی، مگر ہوس نے اس کے دل و دماغ کو اندھا کر دیا۔


 مہرِ گناہ اور شیطانی سازش

بادشاہ نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ اپنی بیٹی سے اس کا نکاح کر دے۔ عورت چونک اٹھی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ایسا نکاح اللہ کے پیغمبروں کی شریعت کے خلاف ہے، اور بخت نصر پیغمبروں کا فرمانبردار ہے، وہ کبھی اجازت نہ دیں گے۔ مگر عورت بھی آزمائش میں آگئی۔ اس نے کہا:

 “اگر تم واقعی یہ نکاح چاہتے ہو تو مہر ادا کرو  اور وہ مہر تمہارے دونوں پیغمبروں کا سر ہے!” یہ سن کر بادشاہ لرز گیا۔ اس نے کہا: “یہ کیسے ممکن ہے؟ وہ تو ہمارے خیر خواہ اور دعاگو ہیں!” مگر عورت نے اصرار کیا، اور آخرکار ہوائے نفس نے ایمان کو مغلوب کر دیا۔


 پیغمبروں کا قتل

بادشاہ نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ دونوں پیغمبروں کو قتل کر دو۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بیت المقدس میں شہید کر دیا گیا۔ جب حضرت زکریا علیہ السلام کو خبر ملی تو وہ جنگل کی طرف بھاگ نکلے۔ وہ ایک درخت کے پاس پہنچے اور دعا کی:  “اے اللہ! مجھے پناہ دے!” اللہ کے حکم سے درخت پھٹ گیا اور وہ اس کے اندر سما گئے، مگر ان کا ایک ٹکڑا باہر رہ گیا۔ سپاہیوں نے درخت دیکھا، حیران ہوئے، اور شیطان نے ان کی رہنمائی کی:  “یہ زکریا اسی درخت کے اندر ہیں!” انہوں نے درخت پر آرا چلا دیا۔ جب آرا حضرت زکریا کے سر تک پہنچی تو انہوں نے ایک سسکی لی۔

تب اللہ کا حکم نازل ہوا:

 “اے زکریا! اگر تم نے ایک اور آواز نکالی تو ہم تمہیں نبوت سے محروم کر دیں گے۔ تم نے ہم سے مدد مانگنے کے بجائے درخت سے پناہ کیوں طلب کی؟” اور یوں وہ خاموشی کے ساتھ آرے کے نیچے شہید ہو گئے۔


سرنگ والا سپاہی: گمنامی میں قربانی کی عظمت یہاں پڑھئے


 عذابِ الٰہی

جب دونوں پیغمبروں کا خون بہا، تو زمین کانپ اٹھی، آسمان پر اندھیرا چھا گیا، اور اللہ کا غضب نازل ہوا۔ ایک طاقتور لشکر شہر پر چڑھ دوڑا، ہر جانب تباہی مچ گئی۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کا خون قبر میں بھی نہ رُکتا تھا۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ جب تک خون بند نہ ہو، قتل جاری رکھو۔ ہزاروں بے گناہ لوگ مارے گئے، مگر خون بند نہ ہوا۔

آخر ایک بزرگ قبر پر آئے اور کہا:

 “اے نبیِ خدا! کیا ایک خون کے بدلے میں سارا شہر تباہ ہو جائے گا؟” یہ کہنا تھا کہ خون بند ہو گیا۔ آج بھی جامع دمشق میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی قبر موجود ہے، جو ایمان والوں کے لیے نشانِ عبرت ہے۔


سقراط اور جنت و جہنم کی داستان لاعلمی سے نجات کا سبق  یہاں پڑھیں 


 حاصلِ سبق

اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:  بجز اللہ کے کسی سے مدد نہیں مانگنی چاہیے۔ جب ایک نبی نے درخت سے پناہ مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ فرمائی  تو ہم کون ہیں جو دوسروں سے آس لگائیں؟

اللہ تعالیٰ ہمیں نفس کے دھوکے سے بچائے، ظلم سے نفرت اور صبر و اطاعت کی راہ دکھائے، اور ہمیں ہمیشہ اپنے سوا کسی پر بھروسہ نہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔



Content by Wisdom Afkar

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Close Menu