Fear of God: An Inspiring Story from the Court of Harun al-Rashid | خوفِ خدا: ہارون الرشید کے دربار کا ایمان افروز واقعہ

ek-kharji-or-khalifa-haroon-rashid-ka



خوفِ خدا  ہارون الرشید کے دربار کا واقعہ


دنیا کی بڑی سلطنتوں کے بادشاہ جب تخت و تاج پر بیٹھتے ہیں تو اکثر ان کے دل غرور و تکبر سے بھر جاتے ہیں۔ لیکن کچھ دل ایسے بھی ہوتے ہیں جو اقتدار کے باوجود خوفِ خدا اور یادِ آخرت سے نرم اور لرزاں رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ عباسی 

خلیفہ ہارون الرشید کے ساتھ پیش آیا۔


خارجی کی بغاوت اور گرفتاری

امام محمد بن ظفر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک خارجی نے ہارون الرشید کے خلاف بغاوت کی۔ لشکر بھیجا گیا، جنگیں ہوئیں، اور بالآخر وہ شکست کھا گیا۔ اس باغی کو گرفتار کر کے دربار میں حاضر کیا گیا۔

ہارون الرشید نے اس سے پوچھا

بتاؤ! میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں؟

خارجی نے نہایت جرأت سے جواب دیا

وہی سلوک کیجیے جو آپ چاہتے ہیں کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ کرے۔

یہ جواب سن کر ہارون الرشید کے دل پر خوفِ خدا کی لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے فوراً اسے معاف کر دیا اور آزاد کرنے کا حکم صادر فرمایا۔


 خوفِ خدا کی برکت

یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اللہ کے حضور کھڑے ہونے کا تصور بڑے سے بڑے بادشاہ کے غرور کو توڑ دیتا ہے۔ جب دل میں آخرت کا خوف زندہ ہو تو انسان کی زبان نرم اور ہاتھ رعایت و معافی کے لئے بلند ہو جاتے ہیں۔

 قرآن کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ (الرحمٰن: ۴۶)

اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔

 حدیثِ رسول

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم نے فرمایا

جب اللہ تعالیٰ کے خوف سے بندے کا بدن کانپنے لگے تو اس کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے سوکھے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔

 (شعب الایمان، حدیث: 803)


 نتیجہ

ہارون الرشید کا یہ واقعہ تاریخ کے اوراق میں ایک روشن یادگار ہے۔ اقتدار اور طاقت کے باوجود انہوں نے خوفِ خدا کو مقدم رکھا اور معاف کر دیا۔ یہی اصل بادشاہت ہے کہ انسان اپنے فیصلوں کو عدل، خوفِ خدا اور آخرت کی یاد کے ساتھ کرے۔



Content by Wisdom Afkar

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Close Menu