صفاتِ الٰہی کی اقسام | Categories of Divine Attributes

sifat-e-ilahi-ki-aqsam

 

ساتواں حصہ: صفاتِ الٰہی کی اقسام — ذاتی، فعلی اور خبری صفات

Saatwan Hissa: Sifat-e-Ilahi ki Aqsam — Zati, Fi‘li aur Khabari Sifat


بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسول الله ۔

پچھلے حصے میں اسماء الحسنیٰ کی اہمیت، ان کے مفہوم اور ان پر صحیح ایمان کے اصول بیان کیے گئے۔ اب اس حصے میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی جائے گی، کیونکہ اسماء و صفات کا باب ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

اہل السنہ والجماعہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی تمام صفات:

  • کامل ہیں
  • حقیقی ہیں
  • اور اللہ کی شان کے مطابق ہیں۔

ان صفات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے علماء نے انہیں مختلف اقسام میں بیان کیا ہے۔

صفاتِ الٰہی کا مفہوم

صفاتِ الٰہی سے مراد وہ صفات ہیں جو:

  • اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لیے بیان کی ہیں
    یا
  • رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے لیے بیان کی ہیں۔

مثلاً:

  • علم
  • قدرت
  • رحمت
  • سمع
  • بصر
  • حکمت

یہ تمام صفات حقیقی ہیں اور اللہ کی عظمت و کمال پر دلالت کرتی ہیں۔


پانچواں حصہ: فلسفہ اور علمِ کلام — اہل السنہ کا موقف پڑھنے کیلئے کلک کریں 


صفات اور اسماء میں فرق

اسماء اور صفات آپس میں جڑے ہوئے ہیں لیکن دونوں ایک جیسے نہیں۔

اسماء (Names)

اللہ کے نام ہیں، جیسے:

  • الرحمن
  • العلیم
  • الحکیم

صفات (Attributes)

وہ معانی اور کمالات ہیں جو ان ناموں سے ظاہر ہوتے ہیں۔

مثلاً:

  • “العلیم” نام ہے
  • جبکہ “علم” صفت ہے۔

حصہ چہارم : اہل السنہ کے چار بنیادی اصول — بلا تحریف، بلا تعطیل، بلا تکییف، بلا تمثیل پڑھنے کیلئے کلک کریں 


صفاتِ الٰہی کی بڑی اقسام

علماء نے صفات کو مختلف انداز میں تقسیم کیا ہے، لیکن مشہور تقسیم یہ ہے:

  1. صفاتِ ذاتیہ
  2. صفاتِ فعلیہ
  3. صفاتِ خبریہ

1. صفاتِ ذاتیہ (Essential Attributes)

یہ وہ صفات ہیں جو ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم ہیں اور کبھی جدا نہیں ہوتیں۔

مثلاً:

  • حیات (زندگی)
  • علم
  • قدرت
  • سمع
  • بصر
  • عزت
  • عظمت

اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے:

  • زندہ ہے
  • جاننے والا ہے
  • قدرت رکھنے والا ہے۔

یہ صفات کبھی ختم نہیں ہوتیں۔

صفاتِ ذاتیہ کی اہمیت

یہ صفات اللہ کی کامل ذات کو ظاہر کرتی ہیں۔

اگر کوئی شخص ان صفات کا انکار کرے تو:

  • وہ اللہ کے کمال کا انکار کرتا ہے۔

اسی لیے اہل السنہ ان صفات کو حقیقی طور پر ثابت کرتے ہیں۔



2. صفاتِ فعلیہ (Action-Based Attributes)

یہ وہ صفات ہیں جو اللہ کی مشیت اور ارادے سے متعلق ہیں۔

یعنی:

  • اللہ جب چاہے وہ فعل کرتا ہے۔

مثلاً:

  • نزول
  • استواء
  • کلام
  • غضب
  • رضا
  • رحمت فرمانا

یہ سب اللہ کے افعال ہیں جو اس کی حکمت اور مشیت کے مطابق ہوتے ہیں۔

صفاتِ فعلیہ کو کیسے سمجھا جائے؟

اہل السنہ ان صفات کو:

  • مانتے ہیں
  • لیکن ان کی کیفیت بیان نہیں کرتے۔

مثلاً:

نبی نے فرمایا کہ:

  • اللہ تعالیٰ رات کے آخری حصے میں آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے۔

اہل السنہ:

  • اس حدیث پر ایمان رکھتے ہیں
  • لیکن یہ نہیں کہتے کہ “کیسے نزول فرماتا ہے؟”

کیونکہ کیفیت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔


حصہ دوم: توحید الاسماء والصفات کی تعریف اور اقسامِ توحید سے تعلق پڑھنے کیلئے کلک کریں 


3. صفاتِ خبریہ (Reported Attributes)

یہ وہ صفات ہیں جو:

  • صرف قرآن و سنت کی خبر سے معلوم ہوتی ہیں
  • عقل اکیلے انہیں دریافت نہیں کر سکتی۔

مثلاً:

  • ہاتھ
  • چہرہ
  • آنکھ

یہ صفات نصوص میں وارد ہوئی ہیں، اس لیے اہل السنہ انہیں مانتے ہیں۔

صفاتِ خبریہ کے بارے میں اہل السنہ کا منہج

اہل السنہ:

  • ان صفات کو ثابت کرتے ہیں
  • انکار نہیں کرتے
  • معنی نہیں بدلتے
  • اور مخلوق سے تشبیہ نہیں دیتے۔

مثلاً:

اللہ کا ہاتھ ہے → لیکن مخلوق جیسا نہیں
اللہ کا چہرہ ہے → لیکن اس کی کیفیت انسان نہیں جانتا۔


حصہ اول: تعارف — توحید الاسماء والصفات کی اہمیت اور مقام پڑھنے کیلئے کلک کریں 


دو انتہائیں

اس باب میں لوگ عموماً دو extremes میں چلے جاتے ہیں:

1. تعطیل

صفات کا انکار کرنا

2. تشبیہ

اللہ کو مخلوق جیسا سمجھنا

اہل السنہ ان دونوں سے بچتے ہیں۔


قرآن کا واضح اصول

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ﴾

اس آیت میں:

  • مشابہت کی نفی بھی ہے
  • اور صفات کا اثبات بھی۔

یہی اہل السنہ کا مکمل منہج ہے۔


وضو کا تعارف، اہمیت اور فضیلت (قرآن و حدیث کی روشنی میں) پڑھنے کیلئے کلک کریں 


صفات کا مقصد صرف معلومات نہیں

اللہ کی صفات صرف علمی بحث نہیں بلکہ:

  • ایمان بڑھانے کا ذریعہ ہیں
  • عبادت مضبوط کرتی ہیں
  • اور بندے کا تعلق اللہ سے مضبوط کرتی ہیں۔

مثلاً:

جب بندہ جانتا ہے کہ:

  • اللہ سمیع ہے → وہ اپنی باتوں میں احتیاط کرتا ہے
  • اللہ بصیر ہے → وہ اپنے اعمال درست کرتا ہے
  • اللہ رحیم ہے → وہ امید رکھتا ہے۔

صفاتِ الٰہی اور عبادت

اللہ کی صفات کو صحیح سمجھنے سے:

  • دعا بہتر ہوتی ہے
  • خشوع بڑھتا ہے
  • اور اللہ کی محبت مضبوط ہوتی ہے۔

اسی لیے سلف صالحین اس علم کو عبادت اور اصلاحِ قلب کا ذریعہ سمجھتے تھے۔


خیبر کی جنگ کا تاریخی واقعہ پڑھنے کیلئے کلک کریں 


اہل السنہ کا جامع اصول

اہل السنہ کا خلاصہ یہ ہے:

  • جو صفت قرآن و سنت میں ثابت ہو اسے مانا جائے
  • بغیر تحریف
  • بغیر تعطیل
  • بغیر تکییف
  • اور بغیر تمثیل۔

یہی محفوظ اور متوازن راستہ ہے۔

خلاصہ

اس حصے میں ہم نے سمجھا:

  • صفاتِ الٰہی کیا ہیں
  • اسماء اور صفات میں فرق
  • صفاتِ ذاتیہ کیا ہیں
  • صفاتِ فعلیہ کیا ہیں
  • صفاتِ خبریہ کیا ہیں
  • اور اہل السنہ ان سب کو کیسے سمجھتے ہیں۔

حوالہ:

شیخ محمد بن خلیفہ التمیمی، توحید الاسماء والصفات


اگلے حصے میں

اگلے پارٹ میں ہم تفصیل سے دیکھیں گے:
  • قرآن و سنت میں وارد اہم صفات
  • ⁠صفتِ استواء، نزول اور کلام کی وضاحت
ان صفات کے بارے میں 
  • ⁠اہل السنہ کا عقیدہ
اور 
  • ⁠اہلِ بدعت کی غلطیوں کا مختصر جائزہ۔
یہ حصہ صفاتِ الٰہی کے عملی اور تفصیلی پہلو کو مزید واضح کرے گا۔

⬅ اگلا حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں  جلد ارہا ہے


تحریر: وزڈم افکار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Close Menu