اہم صفاتِ الٰہی| Key Divine Attributes

 

aham-sifat-e-ilahi-istiwa

 

آٹھواں حصہ: اہم صفاتِ الٰہی — استواء، نزول اور کلامِ الٰہی

Part 8: Aham Sifat-e-Ilahi — Istiwa, Nuzul aur Kalam-e-Ilahi


بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسول الله ۔

پچھلے حصے میں صفاتِ الٰہی کی مختلف اقسام کو بیان کیا گیا، جن میں صفاتِ ذاتیہ، فعلیہ اور خبریہ شامل تھیں۔ اب اس حصے میں ان اہم صفات کی وضاحت کی جائے گی جن کے بارے میں تاریخ میں سب سے زیادہ اختلاف اور بحث ہوئی:

  • صفتِ استواء
  • صفتِ نزول
  • اور صفتِ کلام

اہل السنہ والجماعہ ان تمام صفات پر ایمان رکھتے ہیں جیسا کہ وہ قرآن و سنت میں وارد ہوئی ہیں، بغیر تحریف، تعطیل، تکییف اور تمثیل کے۔


حصہ اول: تعارف — توحید الاسماء والصفات کی اہمیت اور مقام پڑھنے کیلئے کلک کریں 


1. صفتِ استواء

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر فرمایا:

﴿الرَّحْمَٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى﴾
“رحمن عرش پر مستوی ہوا”

یہ آیت اللہ تعالیٰ کی صفتِ استواء کو ثابت کرتی ہے۔


استواء کا معنی

عربی زبان میں “استواء” کا معنی:

  • بلند ہونا
  • اوپر ہونا
  • اور عرش پر قائم ہونا

کے مفہوم میں آتا ہے۔

سلف صالحین نے اس آیت کو اسی ظاہر معنی پر قبول کیا، لیکن اس کی کیفیت بیان نہیں کی۔



اہل السنہ کا عقیدہ

اہل السنہ کہتے ہیں:

  • اللہ عرش پر مستوی ہے
  • جیسا اس کی شان کے لائق ہے
  • اور اس کی کیفیت انسان نہیں جان سکتا۔

وہ نہ تو اس صفت کا انکار کرتے ہیں اور نہ اللہ کو مخلوق جیسا قرار دیتے ہیں۔


غلط راستے

بعض لوگوں نے:

  • “استویٰ” کا معنی بدل دیا
  • یا اس کی ایسی تاویل کی جو عربی زبان اور سلف کے فہم کے خلاف تھی۔

جبکہ کچھ دوسرے لوگ تشبیہ میں مبتلا ہو گئے اور اللہ کو مخلوق جیسا سمجھنے لگے۔

اہل السنہ ان دونوں راستوں سے بچتے ہیں۔

2. صفتِ نزول

نبی نے فرمایا:

“ہمارا رب ہر رات کے آخری تہائی حصے میں آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے…”

یہ حدیث صحیح احادیث میں ثابت ہے۔



نزول پر ایمان

اہل السنہ اس حدیث پر ایمان رکھتے ہیں:

  • اللہ نزول فرماتا ہے
  • جیسا اس کی شان کے لائق ہے
  • اور اس کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں۔

کیفیت کیوں معلوم نہیں؟

کیونکہ:

  • اللہ کی ذات مخلوق جیسی نہیں
  • تو اس کی صفات کی حقیقت بھی مخلوق جیسی نہیں ہو سکتی۔

انسان صرف الفاظ اور معنی کو سمجھ سکتا ہے، لیکن کیفیت کا مکمل علم اللہ کے پاس ہے۔


نزول کا انکار کیوں غلط ہے؟

بعض لوگوں نے عقل کی بنیاد پر اس حدیث کا انکار کیا یا اس کی تاویل کی۔

حالانکہ:

  • نبی نے اسے واضح طور پر بیان فرمایا
  • صحابہ نے اسے قبول کیا
  • اور سلف نے اس پر ایمان رکھا۔

اس لیے اہل السنہ بھی اسے بغیر تحریف مانتے ہیں۔



3. صفتِ کلام

اہل السنہ کا عقیدہ ہے کہ:

  • اللہ تعالیٰ واقعی کلام کرتا ہے
  • جب چاہتا ہے، جیسے چاہتا ہے
  • اور اس کا کلام حقیقی ہے۔

قرآن اللہ کا کلام ہے

اہل السنہ کہتے ہیں:

قرآن مخلوق نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا﴾
“اور اللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام کیا”

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ کا کلام حقیقی ہے۔



اہلِ بدعت کی غلطی

بعض فرقوں نے کہا:

  • اللہ حقیقتاً کلام نہیں کرتا
  • بلکہ صرف معنی پیدا کرتا ہے
  • یا قرآن کو مخلوق قرار دیا۔

یہی مسئلہ تاریخ میں ایک بڑے فتنے کی صورت اختیار کر گیا۔


امام احمد رحمہ اللہ کا موقف

امام احمد رحمہ اللہ نے “قرآن مخلوق ہے” کے عقیدے کی سخت مخالفت کی اور اس معاملے میں شدید آزمائش برداشت کی، لیکن حق سے پیچھے نہیں ہٹے۔

یہ اہل السنہ کے عقیدہ کی حفاظت کی ایک عظیم مثال ہے۔



صفات کو سمجھنے کا صحیح اصول

اہل السنہ ہر صفت کے بارے میں یہی اصول اپناتے ہیں:

  • نصوص کو قبول کرنا
  • معنی کو ماننا
  • کیفیت میں بحث نہ کرنا
  • اور اللہ کو مخلوق سے پاک سمجھنا۔

عقل اور صفات

کچھ لوگ کہتے ہیں:

“یہ صفات عقل میں نہیں آتیں”

لیکن اہل السنہ کہتے ہیں:

  • عقل ہر چیز کا احاطہ نہیں کر سکتی
  • غیب کے معاملات میں وحی کو اصل ماننا ضروری ہے۔

اسی لیے سلف نے:

  • فلسفیانہ بحثوں سے اجتناب کیا
  • اور سادہ ایمان کو اختیار کیا۔

ان صفات کا ایمان پر اثر

یہ صفات صرف علمی مباحث نہیں بلکہ ایمان کو مضبوط کرتی ہیں۔

مثلاً:

  • جب بندہ جانتا ہے کہ اللہ کلام کرتا ہے → قرآن کی عظمت دل میں بڑھتی ہے
  • جب وہ نزول پر ایمان رکھتا ہے → رات کی عبادت کی رغبت بڑھتی ہے
  • جب استواء کو سمجھتا ہے → اللہ کی عظمت کا احساس مضبوط ہوتا ہے۔


اہل السنہ کا متوازن راستہ

اہل السنہ:

  • نہ انکار کرتے ہیں
  • نہ تشبیہ دیتے ہیں
  • نہ غیر ضروری تاویلات کرتے ہیں۔

بلکہ وہ:

  • نصوص پر ایمان رکھتے ہیں
  • اور اللہ کی عظمت کے مطابق صفات کو مانتے ہیں۔

یہی سلف صالحین کا راستہ ہے۔

خلاصہ

اس حصے میں ہم نے سمجھا:

  • صفتِ استواء کیا ہے
  • صفتِ نزول پر اہل السنہ کا عقیدہ
  • اللہ کے کلام کی حقیقت
  • قرآن کے بارے میں صحیح عقیدہ
  • اور صفات کو سمجھنے کا متوازن اصول کیا ہے۔

حوالہ:

شیخ محمد بن خلیفہ التمیمی، توحید الاسماء والصفات


اگلے حصے میں

اگلے پارٹ میں ہم دیکھیں گے:

  • جہمیہ، معتزلہ اور اشاعرہ کے عقائد کا مختصر جائزہ
  • اسماء و صفات کے باب میں ان کی غلطیاں
  • اور اہل السنہ والجماعہ کا ان کے مقابلے میں موقف۔

یہ حصہ تاریخی اور اعتقادی اختلافات کو سمجھنے میں مدد دے گا۔

⬅ اگلا حصہ پڑھنے کیلئے کلک کریں 

 ➡پچھلا حصہ پڑھنے کیلئے  کلک کریں 


تحریر: وزڈم افکار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Close Menu