نماز کے بعد کے اذکار (Dhikr after Salah)
نماز کے بعد کچھ مسنون اذکار اور دعائیں ہیں جو رسولِ اکرم ﷺ سے ثابت ہیں۔ ان کا اہتمام کرنا بہت بڑی فضیلت کا باعث ہے۔
قرآن میں فرمایا گیا:
فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ
“پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے اللہ کو یاد کرو۔”
(سورۃ النساء: 103)
1. استغفار (Seeking Forgiveness)
رسول اللہ ﷺ ہر فرض نماز کے بعد تین مرتبہ استغفار فرماتے تھے۔
یعنی:
أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ۔
“میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں (تین مرتبہ)۔”
(صحیح مسلم)
2. آیت الکرسی (Ayat al-Kursi)
اس کے بعد یہ آیت پڑھنا سنت ہے:
اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ، لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ، لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ، مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ، يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ، وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ، وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا، وَهُوَ الْـعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔
(سورۃ البقرہ: 255)
اللہ! اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی ہمیشہ زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کر سکے؟ وہ جانتا ہے جو لوگوں کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے، اور لوگ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور ان کی حفاظت اس پر بھاری نہیں، اور وہی بلند اور عظیم ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے، اس کے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت رکاوٹ ہے۔”
(سنن نسائی)
3. تسبیحات فاطمہ (Tasbeeh Fatimah)
پھر نبی ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو یہ تسبیح سکھائی:
سُبْحَانَ اللَّهِ 33 مرتبہ
الْـحَمْدُ لِلّٰهِ 33 مرتبہ
اللّٰهُ أَكْبَرُ 34 مرتبہ
اور آخر میں یہ دعا پڑھے:
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْـمُلْكُ وَلَهُ الْـحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔
(صحیح مسلم)
4. عمومی مسنون دعائیں
نماز کے بعد درج ذیل دعائیں اکثر نبی ﷺ سے منقول ہیں:
اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔
“اے اللہ! تو سلامتی والا ہے، اور تجھ ہی سے سلامتی ہے، تو بابرکت ہے، اے جلال و عزت والے۔”
(صحیح مسلم)
پھر بندہ اپنی حاجتوں کے مطابق دعا کرے. گناہوں کی معافی، رزق، ایمان پر ثابت قدمی، نیک اولاد اور عافیت کی دعا۔
نماز کے بعد دعا کا مسنون طریقہ
نبی ﷺ کا معمول تھا کہ نماز کے بعد تھوڑی دیر اذکار کرتے، پھر چہرہ قبلہ کی طرف کر کے ہاتھ اٹھاتے اور دعا فرماتے۔ امام ہاتھ
اٹھا کر اجتماعی دعا کرے تو یہ بھی درست ہے بشرطیکہ دکھاوے یا رسم نہ بنائی جائے۔
نماز میں اور نماز کے بعد کی عام غلطیاں
- جلدی بازی: رکوع و سجدے میں اطمینان نہ کرنا۔رسول ﷺ نے فرمایا: “جس نے رکوع و سجدہ پورا نہ کیا، اس نے نماز نہیں پڑھی۔”(صحیح بخاری)
- نماز میں ادھر اُدھر دیکھنا: نبی ﷺ نے فرمایا: “یہ شیطان کی چوری ہے جو بندے کی نماز سے چوری کرتا ہے۔”
- دعا کے وقت ہاتھ نہ اٹھانا: دعا میں عاجزی ظاہر کرنے کے لیے ہاتھ اٹھانا سنت ہے۔
- اذکار کو چھوڑ دینا: نماز کے بعد اذکار چھوڑ دینا یا جلدی چلے جانا. روحانی برکت سے محرومی کا باعث ہے۔
نتیجہ
نماز کے بعد اللہ کا ذکر، استغفار اور دعا بندے کی روح کو جِلا بخشتے ہیں۔ یہ وہ لمحات ہیں جب اللہ بندے کے قریب ہوتا ہے۔
قرآن کہتا ہے:
فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ۔
“تم میرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ اور میرا شکر ادا کرو، ناشکری نہ کرو۔”
(سورۃ البقرہ: 152)
پچھلا آٹھواں حصہ: نماز کا مکمل سنت طریقہ: تکبیرِ تحریمہ سے سلام تک کے پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
Content by Wisdom Afkar


0 تبصرے