Madinah ka Safar: Ziyaraat aur Rohani Lamhat | Journey to Madinah: Ziyarat and Spiritual Moments | مدینہ کا سفر: زیارات اور روحانی لمحات
0WisdomAfkar.com اپریل 19, 2026
مکہ سے مدینہ کا سفر
مکہ مکرمہ کی برکات سمیٹنے کے بعد، سہ پہر تقریباً 4 بجے ہم مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مکہ سے مدینہ کا سفر کرتے ہوئے زیادہ تر سیاہ پہاڑ نظر آتے ہیں۔ ان پہاڑوں کو دیکھ کر بار بار یہ خیال آتا ہے کہ تقریباً 1400 سال پہلے یہی علاقہ کیسا ہوگا، جب محمد ﷺ نے ابوبکر صدیق کے ساتھ ہجرت فرمائی، اور کفار ان کے تعاقب میں تھے۔ یقیناً وہ سفر صبر، ایمان اور قربانی کی عظیم مثال تھا۔
تقریباً رات 11 بجے ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ سب سے پہلے بس مسجد قباء پر رکی۔ یہ اسلام کی پہلی مسجد ہے، اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اپنے گھر میں وضو کر کے مسجد قباء آئے اور وہاں دو رکعت نماز ادا کرے، اسے ایک عمرہ کا ثواب ملتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ)
مسجد کے اطراف کو نہایت خوبصورتی سے پارکس اور سبزہ زاروں سے سجایا گیا ہے، جو دل کو ایک خاص سکون دیتے ہیں۔
اس کے بعد ہم جبل احد گئے۔ اب اس کے گرد حفاظتی باڑ لگا دی گئی ہے اور اوپر چڑھنے کی اجازت نہیں۔ یہی وہ مقام ہے۔ جہاں نبی کریمﷺ پیارے چچا کے حمزہ بن عبدالمطلب سمیت تقریباً 70 صحابہ کرام شہید ہوئے۔ یہاں کھڑے ہو کر دل بے اختیار یہ سوچتا ہے کہ دینِ اسلام کے لیے کتنی عظیم قربانیاں دی گئی ہیں۔
رات تقریباً 12:30 بجے ہم ہوٹل پہنچے۔ کچھ لوگ فوراً مسجد نبوی کے لیے روانہ ہو گئے اور کچھ نے آرام کیا۔ میں بھی کچھ دیر آرام کرنے کے بعد فجر سے پہلے مسجد نبوی کے لیے نکلا۔
راستے میں ایک شخص نے ہمیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر مسجد کے قریب اتار دیا—یہ مدینہ کی مہمان نوازی کی ایک خوبصورت جھلک تھی۔
مسجد میں داخل ہو کر سب سے پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کی، اور فجر کے بعد روضۂ رسول ﷺ پر سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
یہاں ایک لمحہ فکر کا ہے:
میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ اس مقدس مقام پر بھی موبائل فونز میں مصروف تھے، حالانکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں انتہائی ادب اور خشوع کی ضرورت ہوتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"کوئی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ میری روح کو لوٹا دیتا ہے، (یعنی مجھے متوجہ کر دیتا ہے) یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔"
(سنن ابی داؤد: 2041)
لہٰذا یہاں کھڑے ہو کر دل سے درود و سلام پیش کرنا، دعا کرنا اور اللہ سے قبولیت مانگنا ہی اصل مقصد ہونا چاہیے—نہ کہ تصاویر اور ویڈیوز میں مشغول ہونا۔ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں بے ادبی نہ ہو جائے۔اور قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نصیب کرے۔
اپنے اس سفر میں میں نے The International Fair and Museum of the Prophet's Biography کا بھی وزٹ کیا۔ اگر آپ سیرت النبی ﷺ کو جدید انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ جگہ ضرور دیکھیں۔
یہاں:
جدید 3D ٹیکنالوجی کے ذریعے مکہ اور مدینہ کے قدیم مناظر دکھائے گئے ہیں
مختلف انبیاء کرام کے واقعات بیان کیے گئے ہیں
کائنات (Galaxy) کا شاندار بصری مظاہرہ موجود ہے
نبی کریم ﷺ کے زمانے سے متعلق اشیاء کے ماڈلز پیش کیے گئے ہیں
مختلف زبانوں میں گائیڈ دستیاب ہوتا ہے
آخر میں ایک مختصر مگر مؤثر فلم دکھائی جاتی ہے
میوزیم سے نکلتے وقت ایک شاپ بھی ہے جہاں سیرت النبی ﷺ کی مختلف زبانوں میں کتب اور تحائف دستیاب ہوتے ہیں—میں نے بھی اردو میں دو کتابیں خریدیں۔
اسی کے ساتھ میں نے Assalam Museum کا بھی دورہ کیا، جو مدینہ کی تاریخ، ثقافت اور اسلامی تہذیب کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین جگہ ہے۔
مدینہ منورہ میں زیارات کے لیے بسیں بھی دستیاب تھیں، مگر ہم نے ٹیکسی کے ذریعے مختلف مقامات کی زیارت کی۔
روضۂ مبارک کے قریب ریاض الجنہ میں حاضری کے لیے ہمیں مقررہ وقت (3 بجے) ملا، جہاں ہم نے نوافل ادا کیے اور دعا کی۔
رات مدینہ منورہ میں گزاری، اور اگلی صبح تقریباً 2 بجے روضۂ رسول ﷺ پر الوداعی سلام پیش کیا۔ وہ لمحے انتہائی جذباتی تھے—دل چاہتا تھا کہ یہ وقت کبھی ختم نہ ہو۔
فجر کے بعد بوجھل دل کے ساتھ صبح 7 بجے ریاض کے لیے واپسی کا سفر شروع ہوا۔
After gathering the blessings of Makkah, we departed for Madinah at around 4 PM. During the journey, one mostly sees dark, rocky mountains along the way الطريق. Looking at these mountains, one cannot help but reflect on how this region must have been around 1400 years ago, when Muhammad ﷺ migrated with Abu Bakr Siddiq, while the disbelievers were in pursuit. Indeed, that journey was a remarkable example of patience, faith, and sacrifice.
We arrived in Madinah at around 11 PM. Our first stop was Masjid Quba, the first mosque in Islam. The Prophet ﷺ said that whoever performs ablution at home and then comes to Masjid Quba and offers two units of prayer will receive the reward equivalent to an Umrah (Sunan Ibn Majah).
The surroundings of the mosque are beautifully maintained with parks and greenery, creating a peaceful and calming atmosphere.
After that, we visited Mount Uhud. The area is now fenced, and climbing the mountain is not allowed. This is the place where around 70 companions were martyred, including Hamza ibn Abdul-Muttalib. Standing there, one cannot help but reflect on the great عظیم sacrifices made for Islam.
Visiting the Prophet’s Mosque and Observing Etiquette
Around 12:30 AM, we reached the hotel. Some people headed straight to Al-Masjid an-Nabawi, while others chose to rest. After some rest, I left for the mosque before Fajr.
On the way, a kind person stopped his car and dropped us near the mosque—another beautiful example of the hospitality of Madinah.
Upon entering the mosque, I first offered two rak‘ahs of Tahiyyat al-Masjid. After Fajr, I had the honor of presenting salutations at the blessed Rawdah.
A moment of reflection:
I noticed that some people were engaged with their mobile phones even at this sacred place, whereas it is a place that demands utmost respect and humility.
The Prophet ﷺ said:
“No one sends greetings upon me except that Allah returns my soul to me so that I may respond to his greeting.” (Sunan Abi Dawood: 2041)
Therefore, one should stand here with sincerity, send blessings upon the Prophet ﷺ, make heartfelt supplications, and ask Allah for acceptance—rather than being occupied with photos and videos. One must always remain conscious of maintaining proper etiquette, and pray for the intercession of the Prophet ﷺ on the Day of Judgment.
There are buses available for ziyarat in Madinah, but we chose to visit different places by taxi.
We had a scheduled time (3 PM) to visit the blessed area of Riyadh al-Jannah near the Rawdah, where we offered prayers and made supplications.
We spent the night in Madinah, and early the next morning around 2 AM, we presented our farewell salutations at the Rawdah of the Prophet ﷺ. Those moments were deeply emotional—it felt as if the heart did not want to leave.
After Fajr, with a heavy heart, we returned to the hotel and then departed for Riyadh at 7 AM.