🌙 الفطرانہ (صدقۃ الفطر) کیا ہے
الفطرانہ (صدقۃ الفطر) حصہ اوّل
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس کی اہمیت، حکمت اور مقصد
رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں روزہ، صبر، تقویٰ اور عبادت سکھاتا ہے۔
جب یہ بابرکت مہینہ ختم ہونے لگتا ہے اور عید الفطر قریب آتی ہے تو اسلام ہمیں ایک خاص عبادت کی یاد دہانی کراتا ہے جسے الفطرانہ (صدقۃ الفطر) کہا جاتا ہے۔
یہ صرف ایک صدقہ نہیں بلکہ فرض عبادت ہے، جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر لازم ہے۔
آئیے آسان اور تفصیل سے سمجھتے ہیں کہ:
الفطرانہ (صدقۃ الفطر) کیا ہے؟
اسے کیوں فرض کیا گیا؟
اس کا اصل مقصد کیا ہے؟
استغفار کی اہمیت و ضرورت پڑھنے کیلئے کلک کریں
صدقۃ الفطر ( زکوۃ الفطر) کی تعریف
صدقۃ الفطر ( زکوۃ الفطر) ایک ایسی صدقہ ہے جو رمضان کے روزے مکمل ہونے پر واجب ہوتی ہے۔
لفظ زکوٰۃ کے معنی ہیں:
پاکیزگی
صفائی
بڑھوتری
اور لفظ فطر کا مطلب ہے:
روزہ کھولنا
رمضان کا اختتام
یعنی:
زکوٰۃ الفطر (صدقۃ الفطر) وہ صدقہ ہے جو روزہ ختم ہونے کی وجہ سے فرض ہوتا ہے۔
اسی لیے اسے:
صدقۃ الفطر
زکوٰۃ الفطر
دونوں کہا جاتا ہے۔
قسط 1: روزہ (صوم): حقیقت، مقصد اور فرضیت پڑھنے کیلئے کلک کریں
صدقۃ الفطر ( زکوۃ الفطر) کو فطر سے کیوں جوڑا گیا؟
الشیخ محمد صالح المجند لکھتے ہیں۔ کہ عربی زبان میں اضافہ (Idaafah) کے اصول کے تحت زکوٰۃ کو فطر کے ساتھ جوڑا گیا، کیونکہ:
روزہ ختم ہونا ہی اس زکوٰۃ کے واجب ہونے کی اصل وجہ ہے
یعنی:
اگر رمضان نہ ہو → زکوٰۃ الفطر (صدقۃ الفطر) نہیں
اگر روزہ مکمل ہو → زکوٰۃ الفطر (صدقۃ الفطر) واجب
جس دل میں قرآن ہو، اللہ اسے عذاب نہیں دیتا پڑھنے کیلئے کلک کریں
زکوٰۃ الفطر (صدقۃ الفطر) کیوں فرض کی گئی؟ (اصل حکمت)
یہ بہت اہم سوال ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے حدیث نقل کی گئی ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں:
"رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃ الفطر اس لیے فرض فرمائی تاکہ روزہ دار کو لغو باتوں اور بے حیائی سے پاک کیا جائے، اور غریبوں کو کھانا دیا جا سکے۔"
اس حدیث سے دو بنیادی مقاصد سامنے آتے ہیں۔
1️⃣ روزے کی کوتاہیوں کی تلافی
ہم سب جانتے ہیں کہ رمضان میں:
کبھی زبان سے غلط بات نکل جاتی ہے
کبھی غصہ آ جاتا ہے
کبھی فضول گفتگو ہو جاتی ہے
کبھی نظر یا سوچ میں کوتاہی ہو جاتی ہے
اگرچہ روزہ ٹوٹتا نہیں، لیکن اس کا اجر متاثر ہو سکتا ہے۔
📌 زکوٰۃ الفطر (صدقۃ الفطر) :
ان غلطیوں کو ڈھانپ لیتی ہے
روزے کو پاکیزہ بنا دیتی ہے
علماء نے لکھا ہے کہ:
زکوٰۃ الفطر (صدقۃ الفطر) روزے کے لیے ایسے ہے جیسے نماز میں سہو کے سجدے۔
یعنی:
نماز میں کمی ہو جائے → سجدہ سہو
روزے میں کمی ہو جائے → زکوٰۃ الفطر (صدقۃ الفطر)
2️⃣ غریبوں کو عید کی خوشی دینا
اسلام یہ نہیں چاہتا کہ:
عید کے دن کوئی بھوکا ہو
کوئی دروازے پر مانگتا پھرے
کوئی شرمندگی محسوس کرے
اسی لیے زکوٰۃ الفطر (صدقۃ الفطر) کو:
کھانے کی صورت میں
عید سے پہلے
دینے کا حکم دیا گیا۔
مقصد یہ ہے کہ:
غریب بھی عید کی تیاری کر سکے
اس کے گھر بھی کھانا پک سکے
وہ بھی خوشی محسوس کرے
یہی وجہ ہے کہ بار بار کہا گیا ہے:
زکوٰۃ الفطر غریب کو کھانا کھلانے کے لیے ہے، نہ کہ صرف پیسے دینے کے لیے۔
دسواں حصہ: زکوٰۃ اور صدقہ میں فرق، اہم سوالات اور جامع خلاصہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
قرآنِ کریم سے تعلق
بعض صحابہ اور تابعین نے سورۃ الاعلیٰ کی ان آیات کو زکوٰۃ الفطر سے جوڑا ہے:
"یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے پاکیزگی اختیار کی،
اور اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھی۔"
علماء نے فرمایا:
"پاکیزگی اختیار کرنا" → زکوٰۃ الفطر (صدقۃ الفطر)
"نماز پڑھنا" → عید کی نماز
یعنی:
پہلے زکوٰۃ الفطر (صدقۃ الفطر) ، پھر عید کی نماز
صحابہ کرامؓ کا عمل
نبی ﷺ پہلے زکوٰۃ الفطر (صدقۃ الفطر) ادا فرماتے، پھر عید کی نماز کے لیے جاتے۔
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:
زکوٰۃ الفطر کو ہلکا نہ سمجھیں
یہ عید کی تیاری کا حصہ ہے
حضرت فضیل بن عیاضؒ اور خلیفہ ہارون الرشید کا سبق آموز واقعہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
زکوٰۃ الفطر (صدقۃ الفطر) : عبادت بھی، خدمت بھی
زکوٰۃ الفطر (صدقۃ الفطر) :
عبادت بھی ہے
سماجی ذمہ داری بھی
غریبوں کا حق بھی
اور روزے کی تکمیل بھی
یہ:
ہمیں خود غرضی سے نکالتی ہے
دوسروں کا احساس سکھاتی ہے
امت کو جوڑتی ہے
عام مسلمانوں کے لیے پیغام
یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:
زکوٰۃ الفطر کو آخری لمحے پر نہ چھوڑیں
اسے صرف رسم نہ بنائیں
نیت اللہ کی رضا ہو
اور مقصد غریب کی مدد ہو
حصہ اوّل — زکوٰۃ کیا ہے؟ مفہوم، اہمیت اور بنیادی تعارف پڑھنے کیلئے کلک کریں
خلاصہ (Part 1)
زکوٰۃ الفطر ایک فرض عبادت ہے
یہ روزے کے اختتام پر واجب ہوتی ہے
اس کا مقصد:
روزے کو پاک کرنا
غریبوں کو کھانا دینا
یہ عید کی خوشیوں کو سب کے لیے برابر بناتی ہے
اگلا حصہ (Part 2): زکوٰۃ الفطر کا شرعی حکم اور کب فرض ہوتی ہے؟
Content by Wisdom Afkar

