زکوٰۃ ادا کرتے وقت نیت، تملیک اور اہم فقہی اختلافات
📘 زکوٰۃ سیریز — حصہ 7
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
زکوٰۃ اسلام کا نہایت اہم مالی فریضہ ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ زکوٰۃ ادا کرتے وقت سب سے زیادہ غلطیاں نیت اور تملیک کے مسائل میں ہوتی ہیں۔ بہت سے لوگ رقم تو نکال لیتے ہیں، مگر شرعی طریقہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہیں ہو پاتی۔
اس حصے میں ہم زکوٰۃ کی ادائیگی کے ان بنیادی اصولوں کو دلائل، فقہی اختلافات اور عملی مثالوں کے ساتھ واضح کریں گے۔
حصہ اوّل — زکوٰۃ کیا ہے؟ مفہوم، اہمیت اور بنیادی تعارف پڑھنے کیلئے کلک کریں
🔹 تملیک کیا ہے؟ (زکوٰۃ کی بنیادی شرط)
فقہِ اسلامی کی اصطلاح میں تملیک کا مطلب ہے: زکوٰۃ کی رقم یا مال مستحق کو اس طرح دینا کہ وہ اس کا مکمل مالک بن جائے۔
یعنی: مال مستحق کے قبضے میں آجائے، وہ اپنی مرضی سے خرچ کر سکے، دینے والا اس مال پر کوئی اختیار باقی نہ رکھے، اسی لیے فقہاء نے واضح قاعدہ بیان کیا ہے:
لا تَصِحُّ الزَّكاةُ إِلَّا بِالتَّمْلِيك۔ (“تملیک کے بغیر زکوٰۃ صحیح نہیں ہوتی”)
بدائع الصنائع (جلد 2، ص 45) (الہدایہ، رد المحتار)
اسی اصول کی بنا پر: مسجد کی عمارت، مدرسے کی تعمیر، اجتماعی پروجیکٹس، میں براہِ راست زکوٰۃ لگانا درست نہیں، کیونکہ وہاں کسی فرد کو مالک نہیں بنایا جاتا۔
حصہ دوم : زکوٰۃ کی فضیلت: قرآن و حدیث کی روشنی میں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
🔹 زکوٰۃ کے پیسوں سے کھانا خرید کر دینا
اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ: کیا زکوٰۃ کے پیسوں سے کھانا خرید کر غریب کو دینا جائز ہے؟
اس کا جواب یہ ہے:
✔ اگر: کھانا خرید کر مستحق کے حوالے کر دیا جائے، اور وہ اس کھانے کا مالک بن جائے، تو یہ صورت درست ہے، کیونکہ تملیک پائی گئی۔
❌ لیکن اگر: اجتماعی دسترخوان یا ایسی جگہ کھانا لگایا جائے، جہاں مالک بنانا ثابت نہ ہو، تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
🔹 قرض کی معافی اور زکوٰۃ (اہم فقہی وضاحت)
یہ ایک نہایت عام اور اہم مسئلہ ہے۔ اگر کسی شخص نے کسی غریب کو قرض دیا ہو، تو صرف یہ کہنا کہ: “میں نے یہ قرض زکوٰۃ میں معاف کر دیا” شرعاً کافی نہیں۔
احناف کا موقف: قرض معاف کرنا زکوٰۃ نہیں بنتا، کیونکہ، یہاں مستحق کو نیا مال نہیں ملا، تملیک نہیں پائی گئی۔
(فتاویٰ ہندیہ (جلد 1، ص 171) ) (رد المحتار (جلد 2، ص 268))
صحیح اور شرعی طریقہ:
✔ پہلے مستحق کو زکوٰۃ کی رقم دی جائے،
✔ وہ اس رقم کا مالک بنے
✔ پھر اگر وہ چاہے تو اسی رقم سے قرض واپس کر دے
یہ طریقہ: تمام فقہاء کے نزدیک درست اور زکوٰۃ کی ادائیگی کو یقینی بناتا ہے
حصہ سوم 3: کس پر زکوٰۃ فرض ہے؟ نصاب، پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
🔹 نیتِ زکوٰۃ (نیت کب ضروری ہے؟)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔ (“اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے”)
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
فقہاء کے مطابق: زکوٰۃ دیتے وقت نیت ہونا ضروری ہے، یا کم از کم مال الگ کرتے وقت نیت ہو۔
حصہ چہارم: زکوٰۃ کیسے نکالی جائے؟ زکوٰۃ کا مکمل طریق پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
🔹 نیتِ مؤخرہ (بعد میں نیت کرنے کا حکم)
یہ مسئلہ بھی کثرت سے پیش آتا ہے۔
صورت ①:
اگر: کسی مستحق کو رقم دی گئی، اس وقت زکوٰۃ کی نیت نہیں تھی، اور وہ رقم ابھی تک اس کے پاس موجود ہے تو بعد میں زکوٰۃ کی نیت کی جا سکتی ہے، زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔
الدر المختار مع رد المحتار (جلد 2، ص 271)
صورت ②:
اگر وہ رقم مستحق خرچ کر چکا ہو، تو بعد میں نیت کرنا درست نہیں، وہ رقم نفلی صدقہ شمار ہوگی، زکوٰۃ نہیں، اسی لیے فقہاء نے تاکید کی ہے کہ زکوٰۃ دیتے وقت نیت میں کوتاہی نہ کی جائے۔
حصہ چہارم: زکوٰۃ کیسے نکالی جائے؟ زکوٰۃ کا مکمل طریق پڑھنے کیلئے کلک کریں
🔹 فقہی اختلاف: زکوٰۃ عبادت ہے یا مال کا حق؟
یہاں فقہاء کے درمیان ایک بنیادی اختلاف پایا جاتا ہے:
احناف: زکوٰۃ کو مالی عبادت قرار دیتے ہیں، اسی لیے نیت اور تملیک کو لازمی شرط کہتے ہیں۔
شافعیہ، مالکیہ، حنابلہ: زکوٰۃ کو مال کا حق بھی سمجھتے ہیں، اسی بنا پر نابالغ کے مال سے زکوٰۃ کے قائل ہیں۔
(المجموع للنووی) (المغنی لابن قدامہ)
📌 لیکن اس بات پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ: زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک شرط ہے۔
حصہ پنجم 5: مصارفِ زکوٰۃ: زکوٰۃ کن لوگوں کو دی جا سکتی ہے؟ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
🔹 عملی رہنمائی (اہم نکات)
✔ زکوٰۃ ہمیشہ مستحق کو مالک بنا کر دیں
✔ قرض معافی کو زکوٰۃ نہ سمجھیں
✔ نیت واضح رکھیں
✔ اداروں کو زکوٰۃ دیتے وقت تملیک کی تصدیق کریں
✔ شبہ کی صورت میں اہلِ علم سے رہنمائی لیں
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے 7 سنہری اقوال پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
🔹 اختتامی نوٹ (ریفرنس)
نوٹ: زکوٰۃ کن لوگوں کو دی جا سکتی ہے اور کن کو نہیں (مصارفِ زکوٰۃ) کی تفصیل ہم اس سیریز کے حصہ 5 میں بیان کر چکے ہیں۔
خلاصہ: زکوٰۃ کی قبولیت صرف رقم نکالنے سے نہیں بلکہ صحیح نیت اور درست طریقہ اختیار کرنے سے ہوتی ہے۔تملیک، نیت اور فقہی اصولوں کو سمجھ کر زکوٰۃ ادا کرنا ہی اللہ کے ہاں مقبول زکوٰۃ ہے۔
زکوٰۃ سیریز ⬅️ پچھلا حصہ 6: کیا زکوٰۃ رشتہ داروں، مریضوں، طلبہ اور اداروں کو دی جا سکتی ہے؟
زکوٰۃ سیریز ⬅️ اگلا حصہ آٹھواں: زکوٰۃ سے متعلق عام غلطیاں اور غلط فہمیاں (اہم اصلاحی رہنمائی)
Content by Wisdom Afkar
Intention (Niyyah), Ownership (Tamleek), and Major Fiqh Differences in Paying Zakat
📘 Zakat Series — Part 7
Zakat is one of the most important financial obligations in Islam. However, many mistakes occur not in calculating Zakat, but in how it is paid. The most common errors relate to intention (niyyah) and ownership (tamleek).
In this part, we explain these essential principles with clear rulings, practical examples, and scholarly references, so that Zakat may be fulfilled correctly and accepted by Allah.
Part 1 — What Is Zakat? Meaning, Importance & Basic Introduction Read Here
🔹 What Is Tamleek? (Making the Recipient an Owner)
In Islamic jurisprudence, Tamleek means: Giving Zakat in such a way that the eligible recipient becomes the full and independent owner of the wealth.
This means:
The Zakat must come into the recipient’s possession, The recipient has full control over how to use it, The giver retains no authority over the wealth.
Because of this, scholars established the legal principle: “Zakat is not valid without Tamleek.”
Bada’i al-Sana’i (Vol. 2, p. 45) Al-Hidayah, Radd al-Muhtar
Practical Result:
For this reason, Zakat cannot be given directly for: Mosque construction, Building schools or hospitals, General welfare projects, because no individual becomes the legal owner of the Zakat.
Part 2: The Virtues of Zakat in the Light of the Qur’an and Hadith Read Here
🔹 Buying Food with Zakat Money
A common question is: Can Zakat money be used to buy food and give it to the poor?
✔ Yes, if: The food is purchased, Given directly to an eligible recipient, And the recipient becomes its owner.
❌ But Zakat is not valid if: Food is served in a public kitchen, Or distributed in a way where ownership is unclear, Ownership must be clearly established.
🔹 Debt Forgiveness and Zakat (A Critical Issue)
Many people assume that forgiving a poor person’s debt counts as Zakat. This is a serious misunderstanding.
Ruling According to Hanafi Fiqh:
If someone says: “I forgive your debt and count it as Zakat”
❌ Zakat is not fulfilled, because: No new wealth was given, Ownership (Tamleek) did not occur.
Fatawa Hindiyyah (Vol. 1, p. 171), Radd al-Muhtar (Vol. 2, p. 268)
Correct and Valid Method:
✔ Give Zakat money to the debtor
✔ The debtor becomes its owner
✔ He may then repay the debt with that money if he wishes
This method is valid according to all schools of fiqh.
Part 3: Who Is Obligated to Pay Zakat? Nisab Read Here
🔹 Intention (Niyyah) in Zakat
The Prophet ﷺ said: “Actions are judged by intentions.”
(Bukhari & Muslim)
When Is Intention Required?
Scholars agree that: Intention must be present at the time of payment, or, When Zakat is set aside, Zakat without intention is not valid.
🔹 Delayed Intention (Niyyah After Giving)
This issue arises frequently.
Case 1:
If: Money was given to an eligible person, Zakat intention was not made at that moment, And the money is still in the recipient’s possession,
✔ Zakat intention can still be made later
✔ Zakat will be valid
Al-Durr al-Mukhtar with Radd al-Muhtar (Vol. 2, p. 271)
Case 2:
If: The recipient has already spent the money
❌ Zakat intention cannot be made afterward
❌ The money counts only as voluntary charity (sadaqah)
This is why scholars emphasize making intention carefully at the time of giving.
PART 4 : How to Calculate Zakat? Complete Method for Read Here
🔹 Scholarly Difference: Worship or Financial Right?
There is a classical fiqh discussion regarding the nature of Zakat.
Hanafi School:
Zakat is primarily a financial act of worship, Therefore, intention and Tamleek are mandatory
Shafi‘i, Maliki, Hanbali Schools:
Zakat is both worship and a financial right, This is why they consider Zakat obligatory on a minor’s wealth.
Al-Majmu‘ (Imam Nawawi), Al-Mughni (Ibn Qudamah)
📌 However, all scholars agree that: Tamleek is a necessary condition for valid Zakat.
Part -- 5: Masarif-e-Zakat: Who Is Eligible to Receive Zakat? Read Here
🔹 Practical Guidelines
✔Always give Zakat by making the recipient the owner
✔ Do not count debt forgiveness as Zakat
✔ Make intention clearly and consciously
✔ Verify Tamleek when giving Zakat through organizations
✔ Consult scholars in doubtful cases
🔹 Reference Note
Note: Details regarding eligible and ineligible recipients of Zakat were explained earlier in this series in Part 5 (Masarif al-Zakat).
Golden Sayings of Hazrat Ali (R.A) Read Here
Conclusion
Zakat is not fulfilled merely by paying money. It requires correct intention, proper ownership, and adherence to Islamic legal principles.
Understanding and applying these rules ensures that Zakat is: Valid, Accepted, A source of purification and blessing
Zakat Series ➡️ Latest part --Part 6: Can Zakat Be Given to Relatives, Patients, Students, and Organizations? Click here
Zakat Series ➡️
Content by Wisdom Afkar