Part 7 Namaaz Ki Tayyari: Wuzu Aur Taharat Ka Sunnat Tareeqa | Preparing for Salah: The Sunnah Method of Wudu and Purification | نماز کی تیاری: وضو اور طہارت کا سنت طریقہ

 پہلا حصہ نماز کی تیاری وضو کا مکمل طریقہ سنت کے مطابق

نماز کو سنت کے مطابق سیکھنے کا یہ سلسلہ Wisdom Afkar بلاگ پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ عام مسلمان نماز کو نبی کریم کی سنت کے مطابق سیکھ سکیں اور اپنی عبادت کو مزید کامل بنائیں۔

 مقصد: دین کی اصل روح کو عام فہم انداز میں پہنچانا

  نماز کی تیاری

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر دن میں پانچ وقت نماز فرض فرمائی ہے، اور اس نماز کو تمام عبادتوں میں سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ نماز دراصل بندے کی زندگی کا محور ہے، اس کے ذریعے انسان اپنے خالق سے براہِ راست ہم کلام ہوتا ہے۔

اسی لیے رسول اللہ نے فرمایا:

الصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّينِ

“نماز دین کا ستون ہے۔”

(بیہقی، شعب الایمان)

نماز محض چند حرکات اور الفاظ کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں بندے کی روح، دل اور جسم سب یکجا ہو کر اللہ کی عبادت میں مصروف ہوتے ہیں۔

رسول اللہ نے فرمایا:

جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ

“میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

(سنن نسائی)

اس سے معلوم ہوا کہ نماز مومن کے دل کا سکون اور روح کی راحت ہے۔لیکن اس عبادت کی قبولیت کے لیے کچھ شرائط اور ظاہری و باطنی پاکیزگی لازم ہے۔


پاکیزگی اور طہارت

نماز سے پہلے مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بدن، کپڑوں  اور نماز کی جگہ کو ہر قسم کی نجاست سے پاک کرے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَثِيَابَكَ فَطَهِّر

“اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔”

(سورۃ المدثر: 4)

فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ نماز کی تیاری کے لیے انسان کو تین چیزوں کی طہارت حاصل کرنی ضروری ہے:

  1.  بدن کی طہارت
  2.  کپڑوں کی طہارت
  3.  جگہ کی طہارت

اگر بدن، لباس یا جگہ میں ناپاکی ہو تو نماز درست نہیں ہوتی۔


وضو کی ضرورت

نماز کے لیے صرف ظاہری پاکیزگی کافی نہیں، بلکہ روحانی طہارت بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے شریعت نے “وضو” کا طریقہ مقرر فرمایا ہے۔ وضو صرف صفائی نہیں، بلکہ ایک عبادت ہے۔

رسول اللہ نے فرمایا:

لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ

“بغیر وضو کے کسی کی نماز قبول نہیں ہوتی۔”

(صحیح مسلم)

وضو دراصل نماز کے لیے تیاری ہے، جو انسان کو ظاہری اور باطنی دونوں طرح پاکیزگی عطا کرتا ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم نے فرمایا:

إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ

“جب بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں  جو اس نے اپنی آنکھوں سے کیے تھے، پانی کے ساتھ بہہ جاتے ہیں۔”

(صحیح مسلم)

اسی طرح جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھوں سے کیے گئے گناہ ختم ہو جاتے ہیں، جب پاؤں دھوتا ہے تو ان کے ذریعے کیے گئے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔

آخر میں فرمایا گیا کہ

“جو بندہ وضو مکمل کرے اور پھر دو رکعت نماز پڑھے جس میں دل و دماغ سے توجہ رہے، اس کے تمام سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔” 

(مسلم)


وضو کے فضائل

وضو کے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا:

 الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ

 “پاکیزگی ایمان کا آدھا حصہ ہے۔”

 (صحیح مسلم)

وضو سے جسمانی صفائی کے ساتھ روحانی روشنی حاصل ہوتی ہے۔ قیامت کے دن وضو کرنے والوں کو پہچانا جائے گا کیونکہ ان کے اعضاء وضو کے اثر سے چمک رہے ہوں گے۔

نبی نے فرمایا:

إِنَّ أُمَّتِي يُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ

 “میری امت کو قیامت کے دن وضو کے اثرات سے چمکتے چہروں اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ بلایا جائے گا۔”

(صحیح بخاری)


وضو کا مکمل طریقہ سنت کے مطابق

وضو کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ انسان وضو سے پہلے نیت کرے۔ نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں، زبان سے کہنا ضروری نہیں، البتہ دل میں یہ ارادہ ہونا چاہیے کہ “میں نماز کے لیے وضو کر رہا ہوں”۔  وضو سے پہلے بسم اللہ کہنا سنت ہے۔ اگر وضو کسی ناپاک جگہ پر ہو تو آہستہ آواز سے، اور اگر صاف جگہ ہو تو بلند آواز سے  بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا بہتر ہے۔

1. ہاتھ دھونا

پہلے دونوں ہاتھوں کو کلائیوں تک تین مرتبہ دھوئے۔ اگر ہاتھوں پر کوئی میل، چکنائی یا ایسی چیز لگی ہو جس سے پانی چمڑی تک نہ پہنچے تو پہلے اسے صاف کرے۔ پھر انگلیوں کے درمیان خلا کرے تاکہ ہر جگہ پانی پہنچ جائے۔

2. مسواک کرنا

مسواک کرنا سنتِ مؤکدہ ہے۔

نبی نے فرمایا:

لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ وُضُوءٍ

“اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔”

(صحیح بخاری)

اگر مسواک میسر نہ ہو تو انگلی سے دانتوں کی صفائی کر لینا بھی کافی ہے۔

3. کلی کرنا

دائیں ہاتھ سے  تین مرتبہ کلی کرے،  یعنی پانی منہ میں ڈال کر اچھی طرح گھمائے تاکہ زبان، دانت، ہونٹ اور حلق صاف ہو جائے۔   اگر روزہ نہ ہو تو پانی حلق تک لے جانا بہتر ہے۔

4. ناک میں پانی ڈالنا

دائیں ہاتھ سے تین مرتبہ پانی لے کر ناک کے نرم حصے تک چڑھائے، اور بائیں ہاتھ سے جھاڑ دے۔

رسول اللہ نے فرمایا:

بَالِغْ فِي الاسْتِنْشَاقِ إِلا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا

“ناک میں اچھی طرح پانی چڑھاؤ، مگر روزے کی حالت میں احتیاط کرو۔”

(ابوداؤد، ترمذی)

5. چہرہ دھونا

پھر چہرہ دھوئے یعنی پیشانی کے بالوں سے لے کر تھوڑی تک، اور ایک کان سے دوسرے کان تک۔ یہ عمل تین مرتبہ کرنا سنت ہے۔ اگر داڑھی گھنی ہو تو انگلیوں سے خلال کرنا مسنون ہے۔

6. ہاتھ دھونا

پھر دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت تین مرتبہ دھوئے۔ پہلے دایاں ہاتھ، پھر بایاں۔ کہنیوں سے اوپر تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔

7.سر کا مسح کرنا

پھر پورے سر کا مسح کرے۔ یعنی دونوں ہاتھوں کو پانی سے تر کر کے پیشانی سے لے کر گدی تک لے جائے، پھر واپس پیشانی تک لائے۔
رسول اللہ کے صحابی فرماتے ہیں:

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَمْسَحُ عَلَى رَأْسِهِ بِكَفَّيْهِ، أَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ

“میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح کرتے، پہلے آگے سے پیچھے لے جاتے پھر واپس آگے کی طرف لاتے تھے۔”

(صحیح بخاری: 185، صحیح مسلم: 235)

8. کانوں کا مسح کرنا

سر کے بعد کانوں کا مسح کرے۔ انگلیوں کو پانی سے تر کرے، انگوٹھوں سے کانوں کے باہر، اور شہادت کی انگلیوں سے کانوں کے اندر مسح کرے۔

حدیث میں ہے:

الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ

“کان سر کا حصہ ہیں (یعنی ان کا مسح بھی ضروری ہے)”

(ابوداؤد)

9. پاؤں دھونا

آخر میں پاؤں ٹخنوں سمیت تین مرتبہ دھوئے۔ پہلے دایاں، پھر بایاں۔ انگلیوں کے درمیان خلال کرنا مسنون ہے۔

رسول اللہ نے فرمایا:

وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ

“ان ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے جو وضو میں خشک رہ جاتی ہیں۔”

(صحیح بخاری)

لہٰذا پاؤں اچھی طرح دھونا چاہیے کہ پانی ہر جگہ پہنچ جائے۔


وضو کے بعد کی دعا

وضو مکمل ہونے کے بعد قبلہ رخ ہو کر یہ دعا پڑھنا سنت ہے:

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

 “میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔”

(صحیح مسلم)

پھر یہ دعا بھی پڑھنی چاہیے:

اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ

“اے اللہ! مجھے اپنے توبہ کرنے والے،  پاکیزگی اختیار کرنے والے، اور نیک بندوں میں شامل فرما۔”


وضو کے آداب

  1.  وضو کے وقت قبلہ رخ ہونا مستحب ہے۔
  2.  وضو بیٹھ کر اور ترتیب سے کرنا سنت ہے۔
  3.  ہر عضو کو تین بار دھونا، سوائے مسح کے، جسے ایک بار کیا جاتا ہے۔
  4.  وضو کرتے وقت غیر ضروری باتوں سے اجتناب کرنا۔
  5.  وضو کے دوران دل میں اللہ کی یاد قائم رکھنا۔


پچھلا  چھٹاحصہ نماز کی شرائط، فرائض، واجبات اور سنتیں 

اگلا حصہ آٹھواں : نماز کی ابتدا: نیت، تکبیرِ تحریمہ اور قیام 



Content by Wisdom Afkar

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Close Menu