Eman ki haqeeqat | ایمان کی حقیقت، اقسام اور تفصیل | Understanding the Reality, Types, and Details of Iman (Faith) in Islam


ایمان: حقیقت، اقسام اور تفصیل

 

 


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد المرسلين محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد


ایمان اسلام کا سب سے بنیادی اور اہم ترین رکن ہے۔ ایمان کے بغیر کوئی بھی نیک عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے قرآن و حدیث میں ایمان کی حقیقت، اس کے ارکان اور اس کی اقسام کو بار بار واضح کیا گیا ہے۔


ایمان کی تعریف اور حقیقت

ایمان کا لفظ لغت میں تصدیق (سچا ماننا) کے معنی میں آتا ہے۔

اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک ایمان کی تعریف ہے

دل سے تصدیق، زبان سے اقرار کہ ( لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ ) اللہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندہ اور اور آخری نبی اور رسول ہے،اور اعضاء سے عمل۔

 

ایمان بڑھنے اور گھٹنے کے بارے میں ۔

ایمان نیک عمل کرنے  اور ذکر سے زیادہ اور مضبوط ہوتا ہے اور گناہوں، غفلت اور نافرمانی سے کمزور ہو جاتا ہے۔


قرآن :

وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا (الأنفال: 2)


ترجمہ: 

اور جب ان پر اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔


حدیث  

رسول اللہ نے فرمایا:

ایمان کے ستر سے زیادہ شعبے ہیں، سب سے افضل لا إله إلا الله کہنا ہے اور سب سے کم تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا ہے۔ (صحیح مسلم)


ایمان کی اہمیت قرآن میں


قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ۝١ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ۝٢ (المؤمنون: 1-2)


ترجمہ:

 یقیناً کامیاب ہوگئے ایمان والے، جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔


إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا  (الأنفال: 2)


ترجمہ: 

مومن تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں، اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان

 اور بڑھ جاتا ہے۔


ایمان کی وضاحت حدیث سے

حضرت عمر بن خطابؓ روایت کرتے ہیں کہ جبرائیلؑ نے رسول اللہ سے پوچھا: ایمان کیا ہے؟

آپ نے فرمایا


أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ (صحیح مسلم، کتاب الایمان)


ترجمہ: 

ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر، اور تقدیر کے خیر و شر پر ایمان لائے۔


ایمان کے ارکان

  1.  اللہ پر ایمان
  2.  فرشتوں پر ایمان
  3.  کتابوں پر ایمان
  4.  رسولوں پر ایمان
  5. یومِ آخرت پر ایمان
  6. تقدیر کے خیر و شر پر ایمان


ایمان کی اقسام

1- ایمانِ اجمالی (General Faith)

ایمانِ اجمالی کا مطلب ہے مجموعی طور پر ان تمام باتوں کو ماننا جو رسول اللہ لائے ہیں۔

مثالیں: اللہ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، کتابوں پر ایمان، رسولوں پر ایمان، آخرت پر ایمان، تقدیر پر ایمان، موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان۔


آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ (البقرۃ: 285)


ترجمہ

رسول ایمان لایا جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل کیا گیا، اور مومن بھی۔ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔


2- ایمانِ تفصیلی (Detailed Faith)

ایمانِ تفصیلی کا مطلب ہے کہ ان تمام عقائد کی تفصیلات پر ایمان لایا جائے جو قرآن و سنت سے ثابت ہیں۔

مثالیں: اللہ کے اسماء و صفات، فرشتوں کی تفصیلات (جبرائیل، میکائیل، اسرافیل، ملک الموت)، کتبِ الٰہی، انبیاء کرام، آخرت کی تفصیل، تقدیر۔


ایمان مفصل (ایمان کی مکمل دعا)


آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ.


ترجمہ:

 میں ایمان لایا اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر، تقدیر کے خیر و شر پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر۔


ایمان اجمالی و تفصیلی میں فرق

ایمانِ اجمالی: بنیادی ایمان ہے جو ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے۔
ایمانِ تفصیلی: ایمان کی تکمیل اور کمال ہے، جو علم و معرفت سے حاصل ہوتا ہے۔


مراجع

القرآن الکریم: البقرۃ 177، 285 / التغابن 8 / المؤمنون 1-2 / الأنفال 2-3 / التوبۃ 124

- صحیح مسلم، کتاب الایمان (حدیث جبرائیل)

- صحیح بخاری، کتاب الایمان

- ملا علی قاری، الروض الأزہر شرح الفقہ الأکبر

ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے


ایمان کی پختگی کے لیے دعا


رسول اللہ کی دعا:


اللَّهُمَّ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ


ترجمہ: 

اے اللہ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ (سنن ترمذی، حدیث 2140)


قرآنی دعا:


رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (آل عمران: 8)


ترجمہ: 

اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد ٹیڑھا نہ کر اور اپنی طرف سے ہمیں رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔



Content by Wisdom Afkar

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Close Menu