اسلام میں طہارت اور پاکیزگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ نماز جیسی عظیم عبادت کے لیے پاکیزگی ضروری ہے، اسی لیے شریعت نے وضو اور غسل کے ساتھ ساتھ ایسے حالات کے لیے بھی ایک آسان اور متبادل طریقہ مقرر فرمایا ہے جب پانی دستیاب نہ ہو یا پانی استعمال کرنا کسی معتبر شرعی عذر کی وجہ سے ممکن نہ ہو۔ اس طریقۂ طہارت کو تیمم کہا جاتا ہے۔
تیمم اسلام کی آسانی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مظہر ہے۔ اس کے ذریعے مسلمان پانی نہ ہونے یا پانی کے استعمال سے عاجز ہونے کی صورت میں پاک زمین سے طہارت حاصل کرکے نماز ادا کرسکتا ہے۔
قرآنِ مجید اور صحیح احادیث میں تیمم کی مشروعیت، اس کی ضرورت اور اس کے طریقے کی واضح رہنمائی موجود ہے۔
طہارت کا مکمل بیان | وضو، غسل اور تیمم کے فرائض، سنن اور طریقہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
تیمم کی مشروعیت اور امتِ محمدیہ کی خصوصیت
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔
ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک ماہ کی مسافت سے دشمن کے دل میں رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، اور پوری زمین کو میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا گیا۔ لہٰذا میری امت میں جس شخص کو نماز کا وقت پالے، اسے جہاں نماز کا وقت ہوجائے وہیں نماز ادا کرلینی چاہیے۔
اسی حدیث میں غنیمت کے حلال کیے جانے، شفاعت عطا کیے جانے اور تمام انسانوں کی طرف نبی بنا کر بھیجے جانے کا بھی ذکر ہے۔
(صحیح البخاری: 335؛ صحیح مسلم: 521/52)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری زمین کو سجدہ گاہ اور طہارت کے قابل بنانا امتِ محمدیہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک خاص نعمت ہے۔
پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَجُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا، وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ
ہمیں دوسری امتوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے: ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں کی طرح بنایا گیا، پوری زمین کو ہمارے لیے سجدہ گاہ بنایا گیا، اور جب ہمیں پانی نہ ملے تو زمین کی مٹی کو ہمارے لیے پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا گیا۔
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ پانی نہ ملنے کی صورت میں زمین کی پاک مٹی سے طہارت حاصل کرنا شریعت میں مشروع ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ اور تیمم کی آیت
تیمم کی مشروعیت کے سلسلے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ نہایت اہم ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھیں۔ جب لشکر مقام بیداء یا ذات الجیش کے قریب پہنچا تو ان کا ہار گم ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے تلاش کرنے کے لیے وہاں قیام فرمایا۔
اس جگہ پانی موجود نہیں تھا اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں تھا۔ اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ اس واقعے کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ اور تمام لوگ رک گئے ہیں، تو وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں اس معاملے پر تنبیہ فرمائی۔
صبح ہوئی تو پانی کا کوئی انتظام نہ تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تیمم کیا۔
حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے خاندان سے فرمایا:
"اے آلِ ابو بکر! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے۔"
بعد میں وہ اونٹ اٹھایا گیا جس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سوار تھیں تو ان کا ہار اسی کے نیچے موجود تھا۔
(صحیح البخاری: 332؛ صحیح مسلم: 367)
ایک روایت میں حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے۔ جب بھی تم پر کوئی معاملہ پیش آیا، اللہ تعالیٰ نے اس سے نکلنے کی راہ تمہارے لیے پیدا فرمائی اور مسلمانوں کے لیے بھی اس میں برکت رکھی۔
یہ واقعہ تیمم کی مشروعیت کے اہم واقعات میں سے ہے۔
وضو کی سنتیں اور آداب پڑھنے کیلئے کلک کریں
پاک مٹی سے تیمم کی اجازت
حضرت عمران بن حصین خزاعی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو لوگوں سے الگ کھڑا تھا اور نماز میں شریک نہیں ہورہا تھا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اے فلاں! تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟
اس شخص نے عرض کیا کہ مجھے غسل کی ضرورت ہے اور پانی موجود نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر تمہیں پاک مٹی سے تیمم کرنا چاہیے تھا، یہی تمہارے لیے کافی تھا۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب پانی دستیاب نہ ہو اور غسل کی ضرورت ہو تو تیمم کے ذریعے نماز کے لیے طہارت حاصل کی جاسکتی ہے۔
پاک مٹی مسلمانوں کے لیے طہارت کا ذریعہ ہے
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيَمَسَّهُ بَشَرَتَهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ
"پاک مٹی مسلمان کے لیے طہارت کا ذریعہ ہے، اگرچہ اسے دس سال تک پانی نہ ملے۔ پھر جب اسے پانی مل جائے تو اسے اپنی جلد تک پہنچائے، یہی اس کے لیے بہتر ہے۔"
اس حدیث سے تیمم کی اہمیت اور اس کی وقتی مشروعیت واضح ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو تیمم سکھانا
تیمم کے عملی طریقے کے بارے میں حضرت عبدالرحمن بن ابزی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے غسل کی ضرورت ہوگئی ہے لیکن پانی نہیں ملا۔
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ سفر میں تھے اور ہم دونوں جنبی ہوگئے تھے؟ آپ نے نماز نہیں پڑھی، جبکہ میں زمین پر لوٹ پوٹ ہوگیا اور نماز پڑھ لی۔
بعد میں میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
فَإِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا
"تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا۔"
پھر نبی کریم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، انہیں جھاڑا، اور اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح فرمایا۔
یہ حدیث تیمم کے عملی طریقے کی بنیادی احادیث میں سے ہے۔
تیمم کی شرعی بنیاد
تیمم کا بنیادی حکم قرآنِ مجید میں سورۃ النساء اور سورۃ المائدہ میں بیان کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا
"اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو، پھر پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو، پھر اپنے چہروں اور ہاتھوں پر اس سے مسح کرو۔ بے شک اللہ بہت معاف کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے۔"
اسی طرح سورۃ المائدہ میں فرمایا:
فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا
"پھر اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو۔"
اور اسی آیت میں آگے فرمایا:
فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ
"پس اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرو۔"
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ پانی نہ ملنے کی صورت میں شریعت نے تیمم کو طہارت کا متبادل مقرر فرمایا ہے۔
وضو کے اہم مسائل اور سوالات پڑھنے کیلئے کلک کریں
تیمم کب کیا جاسکتا ہے؟
تیمم کی اجازت بنیادی طور پر اس وقت ہے جب پانی دستیاب نہ ہو یا پانی استعمال کرنے میں معتبر شرعی عذر موجود ہو۔
اہم صورتیں یہ ہیں:
- پانی بالکل دستیاب نہ ہو۔
- پانی موجود ہو لیکن اس تک پہنچنا ممکن نہ ہو۔
- پانی استعمال کرنے سے بیماری بڑھنے کا معتبر اندیشہ ہو۔
- پانی استعمال کرنے سے صحت یابی میں تاخیر کا حقیقی اندیشہ ہو۔
- پانی کا استعمال کسی معتبر شرعی وجہ سے نقصان دہ ہو۔
محض معمولی خوف یا بے بنیاد اندیشہ تیمم کے لیے کافی نہیں۔ بیماری کی صورت میں قابلِ اعتبار نقصان کا اندیشہ ہونا چاہیے۔
تیمم کے تین اہم فرائض
فقہِ حنفی کی کتب میں تیمم کے فرائض کے بیان میں تفصیلی فقہی بحث موجود ہے۔ اس مضمون میں آسانی کے لیے انہیں تین بنیادی نکات کے تحت بیان کیا جارہا ہے۔
1۔ نیت کرنا
تیمم کرتے وقت دل میں طہارت حاصل کرنے اور نماز یا ایسی عبادت کے لیے پاکی حاصل کرنے کی نیت کرنا ضروری ہے جس کے لیے شرعی طہارت مطلوب ہو۔
نیت کا اصل مقام دل ہے۔ اس کے لیے مخصوص عربی جملہ زبان سے ادا کرنا ضروری نہیں۔
2۔ پورے چہرے کا مسح کرنا
پاک زمین یا زمین کی جنس سے تعلق رکھنے والی ایسی چیز پر ہاتھ مارنے کے بعد پورے چہرے کا مسح کیا جائے۔
چہرے کا کوئی مطلوبہ حصہ خشک یا غیر مسح شدہ نہیں رہنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ
"پس پاک مٹی سے تیمم کرو، پھر اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرو۔"
3۔ دونوں ہاتھوں اور بازوؤں کا مسح کرنا
دوبارہ پاک زمین یا زمین کی جنس سے تعلق رکھنے والی مناسب چیز پر ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں اور بازوؤں کا مسح کیا جائے۔
فقہِ حنفی کے مطابق تیمم میں دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت مسح کرنا ضروری ہے۔
دائیں بازو کا مسح بائیں ہاتھ سے اور بائیں بازو کا مسح دائیں ہاتھ سے کیا جائے۔ انگلیوں کے درمیان بھی خلال کیا جائے تاکہ مطلوبہ حصہ رہ نہ جائے۔
وضو کی اہمیت اور فضیلت پڑھنے کیلئے کلک کریں
تیمم کا مکمل عملی طریقہ
تیمم کا طریقہ درج ذیل ترتیب سے ادا کیا جاسکتا ہے:
پہلا مرحلہ: نیت
سب سے پہلے دل میں نیت کی جائے کہ میں نماز یا شرعی طہارت حاصل کرنے کے لیے تیمم کررہا ہوں۔
دوسرا مرحلہ: پہلی مرتبہ ہاتھ زمین پر مارنا
دونوں ہاتھ پاک زمین یا زمین کی جنس سے تعلق رکھنے والی ایسی چیز پر مارے جائیں جس سے تیمم درست ہوسکتا ہو۔
اگر ہاتھوں پر زیادہ گرد ہو تو ہلکا سا جھاڑ لیا جائے۔
تیسرا مرحلہ: چہرے کا مسح
دونوں ہاتھوں سے پورے چہرے کا مسح کیا جائے۔
چہرے کا کوئی مطلوبہ حصہ باقی نہ رہنے دیا جائے۔
چوتھا مرحلہ: دوسری مرتبہ ہاتھ زمین پر مارنا
دوبارہ دونوں ہاتھ پاک زمین یا زمین کی جنس سے تعلق رکھنے والی مناسب چیز پر مارے جائیں اور اضافی گرد ہلکی سی جھاڑ لی جائے۔
پانچواں مرحلہ: دونوں بازوؤں کا مسح
بائیں ہاتھ سے دائیں بازو کا اور دائیں ہاتھ سے بائیں بازو کا مسح کیا جائے۔
فقہِ حنفی کے مطابق دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت مسح کیا جائے۔
چھٹا مرحلہ: انگلیوں کا خلال
انگلیوں کے درمیان بھی ہاتھ پھیرا جائے تاکہ کوئی مطلوبہ حصہ رہ نہ جائے۔
اس طرح تیمم مکمل ہوجاتا ہے۔
حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی حدیث اور تیمم کا صحیح طریقہ
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی روایت تیمم کے عملی طریقے کی بنیادی دلیل ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا، فَضَرَبَ النَّبِيُّ ﷺ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ، وَنَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ
"تمہارے لیے یہی کافی تھا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا۔"
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تیمم میں پورے جسم کو مٹی سے ملنا ضروری نہیں، بلکہ نبی کریم ﷺ نے مخصوص اعضاء کے مسح کا طریقہ سکھایا۔
وضو کا آغاز اور نیت پڑھنے کیلئے کلک کریں
وضو اور غسل کے لیے تیمم
اگر کسی شخص کا وضو ٹوٹ جائے اور پانی دستیاب نہ ہو، یا پانی استعمال کرنے کا معتبر شرعی عذر ہو، تو وہ وضو کے بدلے تیمم کرسکتا ہے۔
اسی طرح اگر کسی شخص پر غسل فرض ہو اور پانی دستیاب نہ ہو یا پانی استعمال کرنا اس کے لیے نقصان دہ ہو تو شرعی شرائط کے مطابق غسل کے بدلے تیمم کیا جاسکتا ہے۔
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کی حدیث اس مسئلے میں اہم دلیل ہے۔
ایک سفر میں ایک شخص جنابت کی حالت میں تھا اور پانی موجود نہیں تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اسے پاک مٹی سے تیمم کرنے کی رہنمائی فرمائی۔
(صحیح البخاری، کتاب التیمم؛ صحیح مسلم)
پانی مل جانے کے بعد کیا حکم ہے؟
تیمم پانی نہ ملنے یا پانی استعمال کرنے کے معتبر شرعی عذر کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔
جب وہ عذر ختم ہوجائے اور پانی دستیاب ہوجائے اور اسے استعمال کرنا ممکن ہو تو آئندہ طہارت کے لیے پانی استعمال کیا جائے گا۔
اس لیے تیمم کو ہمیشہ کے لیے وضو یا غسل کا مستقل متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ ایک شرعی رخصت ہے جو مخصوص حالات میں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی پانی ملنے کے بعد اسے استعمال کرنے کی طرف رہنمائی موجود ہے۔
تیمم کی حکمت اور شریعت کی آسانی
تیمم اسلام کی آسانی اور رحمت کی ایک واضح مثال ہے۔
اسلام انسان کو ایسی عبادت کا مکلف نہیں بناتا جسے وہ شرعی عذر کی وجہ سے ادا نہ کرسکے۔ اگر پانی موجود نہ ہو تو نماز ترک کرنے کے بجائے تیمم کے ذریعے طہارت حاصل کرکے نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ زمین کو بھی مسلمانوں کے لیے طہارت کا ذریعہ بنایا گیا۔
اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ نماز کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ پانی نہ ہونے کی صورت میں بھی طہارت کا متبادل مقرر کیا گیا تاکہ مسلمان نماز سے محروم نہ ہو۔
تیمم کے بارے میں اہم فقہی وضاحت
تیمم کے بعض جزوی مسائل میں فقہی مذاہب کے درمیان اختلاف موجود ہے۔
مثلاً:
- کن چیزوں سے تیمم درست ہوتا ہے؟
- پانی کی موجودگی میں کن حالات میں تیمم کی اجازت ہے؟
- بیماری کے عذر کی شرائط کیا ہیں؟
- ایک تیمم سے کتنی نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں؟
- پانی دستیاب ہوجانے کے بعد پہلے ادا کی گئی نماز کا کیا حکم ہوگا؟
ان مسائل میں فقہی تفصیلات مختلف ہوسکتی ہیں۔
اس مضمون میں تیمم کے فرائض اور طریقہ بنیادی طور پر فقہِ حنفی کے مطابق بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا کسی مخصوص پیچیدہ یا عملی مسئلے میں اپنے معتبر عالم یا مفتی سے رہنمائی حاصل کرنا بہتر ہے۔
تیمم کے اہم اسباق
تیمم ہمیں صرف طہارت کا طریقہ نہیں سکھاتا بلکہ اس میں کئی اہم دینی اسباق بھی موجود ہیں۔
1۔ اسلام آسانی کا دین ہے
اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے طہارت کے متبادل راستے رکھے ہیں تاکہ شرعی عذر کی صورت میں عبادت ترک نہ ہو۔
2۔ نماز کی اہمیت
پانی نہ ہونے کے باوجود نماز کی ادائیگی کا راستہ موجود رکھا گیا۔ اس سے نماز کی عظمت اور اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت
تیمم اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بندوں پر آسانی کی ایک واضح مثال ہے۔
4۔ شریعت کی پیروی
تیمم اپنی مرضی سے مٹی لگانے کا نام نہیں بلکہ اس کے مخصوص شرعی اصول اور طریقہ ہے۔
5۔ طہارت کی اہمیت
پانی نہ ہونے کے باوجود شریعت نے پاکیزگی کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اس کے لیے متبادل طریقہ مقرر فرمایا۔
وضو میں چہرہ اور ہاتھ دھونا پڑھنے کیلئے کلک کریں
خلاصہ
تیمم اسلام میں طہارت کا ایک مشروع اور اہم طریقہ ہے۔ جب پانی دستیاب نہ ہو یا پانی استعمال کرنے میں معتبر شرعی عذر موجود ہو تو مسلمان تیمم کے ذریعے نماز اور دیگر عبادات کے لیے طہارت حاصل کرسکتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا
"پھر اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو۔"
اس مضمون میں فقہِ حنفی کے مطابق تیمم کے تین بنیادی فرائض بیان کیے گئے ہیں:
- نیت کرنا۔
- پورے چہرے کا مسح کرنا۔
- دونوں ہاتھوں اور بازوؤں کا کہنیوں سمیت مسح کرنا۔
تیمم کا بنیادی عملی طریقہ یہ ہے کہ نیت کے بعد پاک زمین یا زمین کی جنس سے تعلق رکھنے والی مناسب چیز پر ہاتھ مارے جائیں، پہلے پورے چہرے کا مسح کیا جائے، پھر دوبارہ ہاتھ مار کر دونوں بازوؤں کا کہنیوں سمیت مسح کیا جائے۔
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی روایت سے نبی کریم ﷺ کا سکھایا ہوا تیمم کا طریقہ واضح ہوتا ہے۔
تیمم ایک شرعی رخصت ہے، مستقل طور پر پانی کا متبادل نہیں۔ جب پانی دستیاب ہوجائے اور اسے استعمال کرنے کا عذر ختم ہوجائے تو پانی کے ذریعے طہارت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کے مطابق طہارت حاصل کرنے، نماز کی پابندی کرنے اور شریعت کی آسانیوں کو صحیح طریقے سے سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
احادیث اور بنیادی حوالہ جات
- صحیح البخاری، کتاب التیمم — حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی روایت، تیمم کا طریقہ۔
- صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب التیمم — حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی روایت۔
- صحیح البخاری: 332 — حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ اور تیمم کی آیت کا نزول۔
- صحیح مسلم: 367 — حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہار والے واقعے کی روایت۔
- صحیح البخاری: 348 — حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کی روایت۔
- صحیح مسلم: 682 — پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی رہنمائی۔
- صحیح مسلم: 522 — پوری زمین کو سجدہ گاہ اور مٹی کو طہارت کا ذریعہ بنائے جانے کی حدیث۔
- جامع الترمذی: 124 — پاک مٹی کے ذریعے طہارت سے متعلق روایت۔
- سنن ابی داود: 332 — پانی نہ ملنے کی صورت میں پاک مٹی سے طہارت کی روایت۔
- القرآن الکریم، سورۃ النساء: 43 — تیمم کا حکم۔
- القرآن الکریم، سورۃ المائدہ: 6 — وضو، غسل اور تیمم کے بنیادی احکام۔
- الدر المختار مع رد المحتار — فقہِ حنفی میں طہارت اور تیمم کے تفصیلی مسائل۔
- بہشتی زیور — فقہِ حنفی کے عام مسائلِ طہارت۔
Purification holds a central position in Islam. When water is unavailable or its use is genuinely harmful, Allah has provided Muslims with the concession of Tayammum, allowing them to attain ritual purity through clean earth.
The Qur’an and Sunnah clearly establish the legitimacy of Tayammum. Several authentic narrations explain its importance, the circumstances in which it may be performed, and the method taught by the Prophet Muhammad ﷺ.
This article explains Tayammum in detail, with Qur’anic verses, Arabic hadith texts, English translations, and references.
Complete Guide to Purification | Fard, Sunnah and Methods of Wudu, Ghusl & Tayammum Read Here
Five Things That Were Granted to the Prophet ﷺ
Jabir ibn Abdullah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said:
“I have been given five things which were not given to anyone before me.”
One of these was that Allah helped him with awe and fear cast into the hearts of his enemies from a distance of one month’s journey. Another was that the entire earth was made a place of prostration and a means of purification for him.
Therefore, whenever the prayer time comes for a person from his Ummah, he should pray wherever he is.
The Prophet ﷺ was also granted the permissibility of taking war booty, which had not been permitted for those before him. He was given the privilege of intercession, and while previous prophets were sent specifically to their own nations, he ﷺ was sent as a Prophet to all humanity.
Sahih al-Bukhari, Hadith 335; Sahih Muslim, Hadith 521. The wording differs slightly between narrations.
This hadith demonstrates the special mercy and ease Allah granted to the Ummah of Muhammad ﷺ. The entire earth was made suitable for prayer and purification when water is unavailable.
“O Family of Abu Bakr! This Is Not Your First Blessing.”
Aisha رضي الله عنها narrated that she was once traveling with the Messenger of Allah ﷺ. When they reached a place known as Al-Baida or Dhat al-Jaysh, her necklace became lost.
The Prophet ﷺ stopped to look for it, and the people also stopped with him. However, there was no water nearby, and the people did not have sufficient water with them.
Some people went to Abu Bakr al-Siddiq رضي الله عنه and complained about what had happened. They said that Aisha رضي الله عنها had caused the Messenger of Allah ﷺ and everyone else to stop even though there was no water nearby.
Abu Bakr رضي الله عنه came to Aisha رضي الله عنها while the Prophet ﷺ was sleeping with his head resting on her thigh. Abu Bakr رضي الله عنه became upset with her and spoke to her about the situation.
Aisha رضي الله عنها said that he even poked her side with his hand, but she could not move because the Prophet ﷺ was resting on her thigh.
When morning came, there was still no water. Then Allah revealed the verse concerning Tayammum.
The people performed Tayammum, and Usayd ibn Hudayr رضي الله عنه said:
“O family of Abu Bakr! This is not your first blessing.”
Aisha رضي الله عنها then said that when they moved the camel on which she had been riding, they found the necklace underneath it.
Sahih al-Bukhari, Hadith 334; Sahih Muslim, Hadith 367.
Another narration mentions that Usayd ibn Hudayr رضي الله عنه said:
“May Allah reward you with good. By Allah, whenever something happens to you, Allah creates a way out of it for you, and He places blessing in it for all the Muslims.”
This incident shows how Allah provided relief when water was unavailable and Tayammum was subsequently prescribed.
Wudu ki Sunnatein aur Adaab | Sunnahs & Etiquettes of Ablution Read Here
Three Things by Which We Were Given Superiority Over Previous Nations
Hudhayfah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said:
“We have been given superiority over other nations in three things: our rows have been made like the rows of the angels; the whole earth has been made a place of prostration for us; and its soil has been made a means of purification for us when we do not find water.”
The hadith clearly establishes that clean earth can serve as a means of purification when water cannot be found.
This is one of the important facilities and concessions Allah has granted to the Muslim Ummah.
When Water Is Unavailable, Tayammum Should Be Performed
Imran ibn Husayn al-Khuza‘i رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ saw a man sitting apart from the people and not praying with them.
The Prophet ﷺ asked him:
“O so-and-so, what prevented you from praying with the people?”
He replied that he had become in a state requiring major purification and could not find water.
The Prophet ﷺ said:
“You should have used clean earth for Tayammum, and that would have been sufficient for you.”
This narration demonstrates that when water cannot be found, Tayammum can serve as a valid means of purification.
Clean Earth Is a Means of Purification for Muslims
The Messenger of Allah ﷺ said:
“Clean earth is a means of purification for a Muslim, even if he does not find water for ten years. When he finds water, then let him use it on his skin, for that is better for him.”
This hadith emphasizes that Tayammum is not merely a symbolic act. It is a legitimate form of ritual purification when its conditions are fulfilled.
Key Issues & FAQs of Ablution Read Here
The Prophet ﷺ Taught Ammar رضي الله عنه How to Perform Tayammum
Abd al-Rahman ibn Abza narrated that a man came to Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه and said that he needed a ritual bath but could not find water.
Ammar ibn Yasir رضي الله عنه reminded Umar رضي الله عنه of an incident that had occurred when the two of them were traveling. Both had become in a state of major ritual impurity.
Umar رضي الله عنه did not pray, whereas Ammar رضي الله عنه rolled himself in the earth and then prayed.
Later, Ammar رضي الله عنه mentioned this to the Prophet ﷺ.
The Prophet ﷺ said:
إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا
Then the Prophet ﷺ struck the earth with his hands, blew on them, and wiped his face and hands with them.
This narration is one of the fundamental proofs explaining the practical method of Tayammum.
Obligations and Complete Method of Tayammum
When water is unavailable, or when using water is likely to cause genuine harm or delay recovery from an illness, Islamic law permits Tayammum.
Allah Almighty says:
فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا
“Then, if you find no water, perform Tayammum with clean earth.”
The legitimacy of Tayammum is established not only by the Qur’an but also by authentic hadith.
Ammar ibn Yasir رضي الله عنهما narrated that the Prophet ﷺ taught him how to perform Tayammum by striking the earth with his hands and wiping his face and hands.
The Prophet ﷺ said:
فَإِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا، فَضَرَبَ النَّبِيُّ ﷺ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ، وَنَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ
“This would have been sufficient for you.” Then the Prophet ﷺ struck the earth with his two palms, blew into them, and wiped his face and hands with them.
Three Important Obligations of Tayammum
According to the Hanafi school of jurisprudence, the detailed rulings of Tayammum contain further discussion. For simplicity, its basic obligations are presented here under three main points.
1. Intention
The person performing Tayammum should have the intention in the heart to attain purification for prayer or another act of worship for which ritual purification is required.
The place of intention is the heart. It is not necessary to pronounce a particular Arabic sentence aloud.
2. Wiping the Entire Face
After striking the hands on clean earth or a suitable substance belonging to the category of earth, the entire face should be wiped.
Care should be taken that no part of the face is unnecessarily left untouched.
Allah Almighty says:
فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ
“So perform Tayammum with clean earth and wipe over your faces and hands with it.”
3. Wiping the Hands and Arms
The hands are struck again on clean earth or a suitable substance from the category of earth, and both hands and arms are wiped.
According to the Hanafi school, the arms are wiped up to and including the elbows.
The right arm is wiped with the left hand, and the left arm is wiped with the right hand. The spaces between the fingers should also be attended to.
After this, Tayammum is complete.
Wudu ki Ahmiyat aur Fazilat | Importance & Virtues of Ablution Read Here
Complete Practical Method of Tayammum
The person performing Tayammum should first make the intention in the heart.
Then both hands should be placed or struck on clean earth or an appropriate substance from the category of earth on which Tayammum is valid.
If there is excessive dust on the hands, it may be lightly shaken off.
The entire face is then wiped with both hands.
After that, the hands are struck on the earth again and excessive dust is removed.
The left hand is then used to wipe the right arm up to the elbow, and the right hand is used to wipe the left arm up to the elbow.
The spaces between the fingers should also be wiped carefully.
This completes the basic method of Tayammum according to the Hanafi presentation used in this article.
The Qur’anic Basis of Tayammum
The fundamental ruling concerning Tayammum is mentioned in both Surah Al-Ma’idah and Surah An-Nisa.
Allah Almighty says:
وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا
“And if you are ill, or on a journey, or one of you comes from relieving himself, or you have contacted women and do not find water, then perform Tayammum with clean earth and wipe over your faces and hands with it. Indeed, Allah is Ever-Pardoning and Forgiving.”
This verse clearly establishes Tayammum as a divinely granted alternative when water cannot be found.
Wudu ka Aaghaz aur Niyat | Start of Ablution & Intention Read Here
An Important Hadith Concerning Tayammum
Ammar ibn Yasir رضي الله عنه narrated that he once became in a state of major ritual impurity and could not find water. Based on his own understanding, he rolled himself in the earth.
When this was mentioned to the Prophet ﷺ, he taught him the correct method of Tayammum.
The Prophet ﷺ said:
إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِهِمَا الْأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ، وَظَاهِرَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ
This narration explains that a person does not need to cover his entire body with earth. Instead, Tayammum has a specific method involving the face and hands.
Tayammum for Wudu and Ghusl
If a person's Wudu is broken and water is unavailable, or there is a valid Shar‘i excuse preventing the use of water, Tayammum may be performed instead of Wudu.
Likewise, if Ghusl becomes obligatory and water is unavailable or its use would cause genuine harm, Tayammum may be performed instead of Ghusl, subject to the relevant conditions.
The narration of Imran ibn Husayn رضي الله عنه is particularly important in this regard. During a journey, a man was in a state requiring Ghusl but had no water. The Prophet ﷺ instructed him to perform Tayammum.
Sahih al-Bukhari, Book of Tayammum.
What Happens When Water Becomes Available?
Tayammum is performed because water is unavailable or because there is a valid Shar‘i excuse preventing its use.
When that excuse ends and water becomes available and can safely be used, water should be used for purification thereafter.
Therefore, Tayammum should not be regarded as a permanent replacement for Wudu or Ghusl. It is a concession granted by Islamic law for particular circumstances.
Important Fiqh Clarification
There are differences among the Islamic schools of jurisprudence concerning some detailed issues of Tayammum.
These include:
- What substances can validly be used for Tayammum.
- The circumstances in which Tayammum is permitted despite the presence of water.
- The conditions relating to illness.
- How long Tayammum remains valid.
- Certain details concerning the number of prayers that may be performed with one Tayammum.
The method and rulings presented in this article are primarily based on the Hanafi school of jurisprudence.
Readers who follow another school of Islamic jurisprudence should consult a qualified scholar for the detailed rulings applicable to their circumstances.
Key Lessons from the Teachings of Tayammum
Tayammum demonstrates the ease and mercy found in Islamic law.
Islam does not require a person to abandon prayer simply because water is unavailable or its use is genuinely harmful.
The Qur’an establishes the ruling, while the Sunnah explains its practical application.
The story of Aisha رضي الله عنها also demonstrates how Allah can create a way out of difficult circumstances and bring benefit to the Muslim community.
The hadith concerning Ammar ibn Yasir رضي الله عنه further demonstrates the importance of learning religious practices directly from the teachings of the Prophet ﷺ rather than relying solely on personal assumptions.
Tayammum also teaches Muslims that worship is based upon obedience to Allah and that the concessions granted by the Shariah are themselves part of Allah’s mercy.
Washing Face & Arms in Ablution Read Here
Summary
Tayammum is an important concession in Islamic law. It provides a means of attaining ritual purification when water is unavailable or when there is a valid Shar‘i reason preventing its use.
The Qur’an says:
فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا
“Then, if you find no water, perform Tayammum with clean earth.”
According to the Hanafi presentation discussed in this article, the main points of Tayammum are:
- Make the intention.
- Wipe the entire face.
- Wipe both hands and arms up to the elbows.
The Sunnah provides practical examples of how the Prophet ﷺ taught Tayammum to his Companions.
Tayammum is therefore not simply a substitute invented for difficult circumstances. It is a divinely legislated form of purification established by the Qur’an and Sunnah.
Allah has made purification accessible to His servants and has not placed unnecessary hardship upon them.
References
- The Qur’an — Surah Al-Ma’idah: 6; Surah An-Nisa: 43.
- Sahih al-Bukhari — Book of Wudu, Book of Ghusl, and Book of Tayammum.
- Sahih Muslim — Book of Purification.
- Jami‘ al-Tirmidhi — Book of Supplications and related narrations.
- Al-Durr al-Mukhtar with Radd al-Muhtar — Chapters on Purification and Tayammum.
- Bahishti Zewar — General Hanafi rulings concerning purification.
May Allah grant us correct understanding of His religion, make purification easy for us, and enable us to follow the Qur’an and Sunnah correctly. Ameen.
Content by Wisdom Afkar

