ذی الحجہ کا پہلا عشرہ اور قربانی کے احکام و مسائل
Zil Hijjah ka Pehla Ashrah aur Qurbani ke Ahkam o Masail
حصہ سوم: قربانی کن لوگوں پر واجب ہے، قربانی کے جانور اور اہم شرائط
قربانی اسلام کی عظیم عبادات اور شعائر میں سے ایک اہم شعار ہے۔ پچھلے حصے میں قربانی کی حقیقت، تاریخ، فضیلت اور اس کے وجوب کے دلائل بیان کیے گئے۔ اب اس حصے میں یہ بیان کیا جائے گا کہ قربانی کن لوگوں پر واجب ہے، کون سے جانور قربانی کے لیے جائز ہیں، ان کی عمر کیا ہونی چاہئے، کن عیوب والے جانور کی قربانی درست نہیں اور قربانی کے دن کون سے ہیں۔
اسلام ایک مکمل اور متوازن دین ہے، اس لیے اس نے قربانی کے متعلق بھی واضح احکام بیان کیے ہیں تاکہ مسلمان اس عبادت کو صحیح طریقہ پر ادا کرسکیں۔
قربانی کن لوگوں پر واجب ہے؟
قربانی ہر مسلمان پر واجب نہیں بلکہ صرف اُس شخص پر واجب ہے جو مالی استطاعت رکھتا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس شخص کو قربانی کی وسعت حاصل ہو اور پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔”
(سنن ابن ماجہ)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کے وجوب کے لیے صاحبِ استطاعت ہونا شرط ہے۔ فقہاءِ احناف کے مطابق جس شخص کے پاس بنیادی ضروریات سے زائد اتنا مال ہو جو نصاب کے برابر پہنچ جائے، اُس پر قربانی واجب ہے۔
ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں کی فضیلت اور اہم اعمال پڑھنے کیلئے کلک کریں
قربانی واجب ہونے کے لیے درج ذیل شرائط پائی جانا ضروری ہیں:
مسلمان ہونا
عاقل اور بالغ ہونا
مقیم ہونا (مسافر نہ ہو)
صاحبِ نصاب ہونا
مسافر پر قربانی واجب نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:
“مسافر پر قربانی واجب نہیں ہے۔”
اسی طرح غریب اور محتاج شخص پر بھی قربانی لازم نہیں، لیکن اگر کوئی غریب شخص خوشی سے قربانی کرے تو اسے اجر و ثواب حاصل ہوگا۔
آج بعض لوگ قرض لے کر یا اپنی بنیادی ضروریات چھوڑ کر محض لوگوں کو دکھانے کے لیے قربانی کرتے ہیں، حالانکہ اسلام نے ایسی تکلیف کا حکم نہیں دیا۔ قربانی عبادت ہے، نمود و نمائش کا ذریعہ نہیں۔
توحید الاسماء والصفات کا تعارف پڑھنے کیلئے کلک کریں
قربانی کے جانور کون سے ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے قربانی کے لیے مخصوص چوپائے جانور مقرر فرمائے ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
“آٹھ جانور ہیں: دو بھیڑوں میں سے، دو بکریوں میں سے، دو اونٹوں میں سے اور دو گائیوں میں سے۔”
(سورۃ الانعام: 143-144)
اس آیت اور احادیث کی روشنی میں درج ذیل جانور قربانی کے لیے جائز ہیں:
بکری
بکرا
بھیڑ
دنبہ
گائے
بھینس
اونٹ
ان جانوروں کے علاوہ کسی دوسرے جانور کی قربانی جائز نہیں۔
کیا بھینس کی قربانی جائز ہے؟
بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں بھینس کا الگ ذکر موجود نہیں، تو کیا بھینس کی قربانی جائز ہے؟
علماءِ امت کا اجماع ہے کہ بھینس گائے کی ایک قسم ہے، اس لیے اس کی قربانی بالکل جائز ہے۔ حضرت امام حسن بصری رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ، امام سفیان ثوری رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ بھینس گائے کے حکم میں داخل ہے۔
مشہور فقیہ علامہ ابن منذر رحمہ اللہ نے امت کا اجماع نقل کیا ہے کہ بھینس کا حکم گائے والا ہی ہے۔
لہٰذا بھینس کی قربانی بلا شبہ جائز ہے۔
حج قرآن کی روشنی میں پڑھنے کیلئے کلک کریں
قربانی کے جانور کی عمر
اسلام نے قربانی کے جانور کے لیے کم از کم عمر بھی مقرر کی ہے تاکہ قربانی عمدہ اور مکمل عبادت کے طور پر ادا ہو۔
جانوروں کی مقررہ عمریں یہ ہیں:
بکری یا بکرا: ایک سال
بھیڑ یا دنبہ: ایک سال
گائے یا بھینس: دو سال
اونٹ: پانچ سال
البتہ اگر بھیڑ یا دنبہ ایک سال سے کم ہو لیکن دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی کی اجازت ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“مسنہ جانور ذبح کرو، البتہ اگر مشکل ہو تو دنبہ ذبح کرلو۔”
(صحیح مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مناسب عمر کا جانور قربانی کے لیے ضروری ہے۔
کن عیوب والے جانور کی قربانی جائز نہیں؟
اسلام نے قربانی میں اچھا اور صحت مند جانور پیش کرنے کی تعلیم دی ہے۔ بیمار، کمزور یا شدید عیب والے جانور کی قربانی پسندیدہ نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چار قسم کے جانور قربانی کے لیے جائز نہیں:
ایسا کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو
ایسا بیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو
ایسا لنگڑا جانور جو صحیح طرح چل نہ سکتا ہو
ایسا کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو
(سنن ابوداؤد، ترمذی)
فقہاءِ کرام نے ان احادیث کی روشنی میں مزید عیوب بھی ذکر کیے ہیں، مثلاً:
جس کا کان یا دم زیادہ کٹا ہو
جس کے زیادہ دانت گر چکے ہوں
اندھا جانور
بہت زیادہ دُبلا جانور
پیدائشی کان کے بغیر جانور
اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک چیز کو پسند فرماتا ہے، اس لیے قربانی میں اچھا جانور پیش کرنا چاہئے۔
حج کے دنوں کا مکمل طریقہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
ایک جانور میں کتنے افراد شریک ہوسکتے ہیں؟
اگر قربانی بکری، بکرا، بھیڑ یا دنبہ کی ہو تو وہ صرف ایک شخص کی طرف سے کافی ہوگی۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
“بکری ایک آدمی کی طرف سے ہوتی ہے۔”
البتہ اونٹ، گائے یا بھینس میں سات افراد شریک ہوسکتے ہیں۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ اونٹ اور گائے میں سات سات آدمی شریک ہوجائیں۔”
(صحیح مسلم)
اس سے معلوم ہوا کہ بڑے جانور میں سات حصے تک رکھنا جائز ہے۔
حج اور عمرہ: اہمیت، حقیقت اور اقسام پڑھنے کیلئے کلک کریں
قربانی کے دن کون سے ہیں؟
قربانی کے ایام تین ہیں:
10 ذی الحجہ
11 ذی الحجہ
12 ذی الحجہ
ان دنوں میں نمازِ عید کے بعد قربانی کی جاتی ہے۔ عید کی نماز سے پہلے قربانی درست نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا وہ دوبارہ قربانی کرے۔”
(صحیح بخاری)
10 ذی الحجہ کو قربانی کرنا سب سے افضل ہے، پھر 11 اور پھر 12 تاریخ۔
بعض علماء نے 13 ذی الحجہ تک اجازت دی ہے، لیکن جمہور فقہاء نے تین دن ہی کو ترجیح دی ہے۔
قربانی کرنے والے کے لیے ناخن اور بال کا حکم
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب ذی الحجہ کا چاند نظر آجائے اور تم میں سے کوئی قربانی کا ارادہ کرے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔”
(صحیح مسلم)
اسی وجہ سے مستحب ہے کہ قربانی کرنے والا یکم ذی الحجہ سے قربانی کرنے تک بال اور ناخن نہ کاٹے۔
البتہ اگر کسی نے ناخن یا بال کاٹ لیے تو قربانی پھر بھی درست ہوگی، کیونکہ یہ عمل واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔
قربانی دراصل تقویٰ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا نام ہے۔ یہ عبادت مسلمانوں کو ایثار، قربانی اور فرمانبرداری کا درس دیتی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس عظیم عبادت کو سنتِ ابراہیمی سمجھ کر خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ادا کریں۔
اگلے حصے میں میت کی طرف سے قربانی، ایصالِ ثواب، اس کے دلائل اور اس موضوع سے متعلق اہم شبہات کے جوابات تفصیل کے ساتھ بیان کیے جائیں گے۔
⬅ اگلا حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
➡ پچھلا حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
The First Ten Days of Dhul Hijjah and the Rulings of Qurbani
Part 3: Who Must Perform Qurbani, Types of Animals, and Important Rules
Qurbani is one of the great symbols and acts of worship in Islam. In the previous section, the reality, history, virtues, and evidences for the obligation of Qurbani were discussed. In this part, we will explain who is required to perform Qurbani, which animals are permissible, the required age of sacrificial animals, defects that invalidate Qurbani, and the days during which sacrifice may be offered.
Islam is a complete and balanced religion, and therefore it has provided clear guidelines regarding every aspect of Qurbani so that Muslims may perform this act of worship correctly and sincerely.
Upon Whom Is Qurbani Obligatory?
Qurbani is not obligatory upon every Muslim. It becomes obligatory only upon those who possess financial capability. The Messenger of Allah ﷺ said:
“Whoever has the means to perform Qurbani but does not do so should not come near our place of Eid prayer.”
This hadith clearly shows that financial ability is a condition for the obligation of Qurbani.
According to the Hanafi school of thought, Qurbani becomes obligatory upon every sane, adult, resident Muslim who possesses wealth equal to or above the Nisab amount beyond basic necessities.
The First Ten Days of Dhul Hijjah Read here
The conditions for Qurbani to become obligatory include:
- Being a Muslim
- Being sane and mature
- Being a resident (not a traveler)
- Possessing wealth equal to Nisab
A traveler is not obligated to perform Qurbani. It is narrated from Ali رضي الله عنه:
“Qurbani is not obligatory upon a traveler.”
Similarly, a poor person who does not possess financial capability is not required to offer sacrifice. However, if a poor Muslim voluntarily performs Qurbani seeking the pleasure of Allah, he will certainly receive reward.
Unfortunately, some people take loans or burden themselves financially merely to maintain social status or impress others during Eid al-Adha. Islam does not encourage such hardship. Qurbani is an act of worship for Allah, not a means of showing off before people.
Introduction to Tawhid al-Asma wa al-Sifat Read here
Which Animals Are Permissible for Qurbani?
Allah Almighty has specified certain animals for sacrifice. Allah says in the Qur’an:
“Eight pairs: two from sheep, two from goats, two from camels, and two from cattle.”
Based on the Qur’an and Sunnah, the following animals are permissible for Qurbani:
- Goat
- Sheep
- Ram
- Cow
- Camel
No other animal besides these may be sacrificed for Qurbani.
Is Buffalo Included?
Some people ask whether buffalo is permissible for Qurbani since it is not specifically mentioned in the Qur’an.
The scholars of Islam have unanimously agreed that buffalo falls under the category of cattle and therefore carries the same rulings as cows. Great scholars such as Imam Hasan al-Basri, Imam Malik, Imam Sufyan al-Thawri, and many others clearly stated that buffalo is treated like cattle in Islamic law.
Therefore, the sacrifice of buffalo is completely permissible.
Hajj in Light of Qur’an Read here
Required Age of the Sacrificial Animal
Islam has also specified minimum age requirements for sacrificial animals so that the Qurbani is performed properly and with quality animals.
The minimum ages are:
- Goat or sheep: One year
- Cow or buffalo: Two years
- Camel: Five years
However, if a sheep or ram is less than one year old but appears physically mature and healthy like a one-year-old animal, it may still be accepted for Qurbani.
The Prophet ﷺ said:
“Sacrifice mature animals, but if that is difficult, then sacrifice a young ram.”
(Sahih Muslim)
This hadith indicates the importance of selecting appropriate animals for sacrifice.
Which Defects Make an Animal Invalid for Qurbani?
Islam encourages Muslims to offer healthy and good-quality animals for Qurbani. Animals with severe defects or illnesses should not be sacrificed.
The Messenger of Allah ﷺ said that four types of animals are not valid for sacrifice:
An obviously sick animal
A clearly lame animal
An extremely weak and thin animal
Based on these narrations, scholars also included other major defects, such as:
- An animal whose ear or tail is mostly cut off
- A blind animal
- An animal missing most of its teeth
- An extremely weak or starving animal
- An animal born without ears
Allah is Pure and loves purity and excellence. Therefore, Muslims should offer their best animals for the sake of Allah.
Hajj Days Step-by-Step Guide Read here
How Many People Can Share in One Animal?
If the sacrifice is a goat, sheep, or ram, then it is sufficient for only one person.
Abdullah ibn Umar رضي الله عنهما said:
“A sheep is for one person.”
However, a camel, cow, or buffalo may be shared by up to seven people.
Jabir رضي الله عنه narrated:
“The Messenger of Allah ﷺ commanded us to share in camels and cattle, seven people in each.”
(Sahih Muslim)
This ruling provides ease for Muslims and allows families or groups to share in larger animals.
Hajj and Umrah: Meaning, Importance, and Types Read here
Days of Qurbani
The days of Qurbani are three:
- 11th Dhul Hijjah
- 12th Dhul Hijjah
The sacrifice must be performed after the Eid prayer. Qurbani performed before Eid prayer is not valid.
The Prophet ﷺ said:
“Whoever slaughtered before the prayer must slaughter another animal.”
(Sahih al-Bukhari)
The 10th of Dhul Hijjah is the best day for sacrifice, followed by the 11th and then the 12th.
Some scholars allowed sacrifice on the 13th as well, but the majority of scholars limited Qurbani to three days.
Cutting Hair and Nails for the One Intending Qurbani
Umm Salamah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ said:
“When the month of Dhul Hijjah begins and one of you intends to offer sacrifice, let him not cut his hair or nails.”
(Sahih Muslim)
For this reason, it is recommended for the person intending Qurbani to avoid cutting hair and nails from the beginning of Dhul Hijjah until the sacrifice is performed.
However, if someone cuts them, the Qurbani remains valid because this act is recommended and not obligatory.
Qurbani is ultimately an act of sincerity, piety, and obedience to Allah. It teaches Muslims sacrifice, devotion, generosity, and submission to the commands of Allah Almighty.
A believer should perform Qurbani not merely as a ritual or cultural practice, but as a sacred act of worship following the Sunnah of Prophet Ibrahim عليه السلام.
In the next part, the rulings regarding Qurbani on behalf of deceased people, Isal al-Thawab (conveying reward), related evidences, and answers to common objections will be discussed in detail.
➡ Next Part Read here
⬅ Previous Part Read here
Content by Wisdom Afkar

0 تبصرے