عقیدہ ختمِ نبوت: احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں ایک جامع مطالعہ | The Finality of Prophethood in the Light of Prophetic Hadiths

aqeeda-khatm-e-nabuwwat-ahadith-ki-roshni-mein

 

عقیدہ ختم نبوت احادیث کی روشنی میں

 

Aqeeda Khatm-e-Nabuwwat Ahadith Ki Roshni Mein


عقیدہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی اور قطعی عقائد میں سے ہے۔ قرآن مجید کی واضح آیات اور رسول اللہ کی متواتر احادیث اس بات پر نصِ صریح ہیں کہ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ کے بعد کائنات میں کوئی نیا نبی (خواہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی) پیدا نہیں ہو سکتا۔ امتِ مسلمہ کا اس بات پر شروع دن سے اجماع ہے کہ آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا دجال، کذاب اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

مفسرِ شہیر حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) اس عقیدے کی قطعیت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

قَدْ أَخْبَرَ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ وَرَسُولُهُ فِي السُّنَّةِ الْمُتَوَاتِرَةِ عَنْهُ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ، لِيَعْلَمُوا أَنَّ كُلَّ مَنِ ادَّعَى هُذَا الْمَقَامَ بَعْدَهُ، فَهُوَ كَذَّابٌ، أَفَّاكٌ، دَجَّالٌ، ضَالٌّ، مُضِلٌّ۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب (قرآن مجید) میں اور اس کے رسول نے اپنی متواتر سنت میں یہ بتا دیا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ یہ اس لیے تاکہ لوگ جان لیں کہ آپ کے بعد جو کوئی بھی اس مقام (نبوت) کا دعویٰ کرے گا، وہ جھوٹا، مفتری، دجال، خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے۔

 (تفسیر ابن کثیر: 430/6)

مستند ترین احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں اس عقیدے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے۔

1. قصرِ نبوت کی آخری اینٹ اور سابقہ امتوں سے فرق

سابقہ امتوں اور امتِ محمدیہ کے درمیان ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ وہاں سیاسی و مذہبی رہنمائی کے لیے انبیاء کا تسلسل موجود تھا، جبکہ یہاں یہ سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے۔

عقیدۂ ختمِ نبوت قرآن، حدیث اور فہمِ سلف پڑھنے کیلئے کلک کریں 

حدیث نمبر 1: بنی اسرائیل کی سیاست اور سلسلۂ خلفاء

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:

«كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ، فَيَكْثُرُونَ۔»

 بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کیا کرتے تھے، جب کوئی نبی فوت ہوتا تو دوسرا نبی اس کا خلیفہ ہوتا، مگر (سن لیجئے) میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفاء ہوں گے اور بکثرت ہوں گے۔

(صحیح البخاری: 3455، صحیح مسلم: 1842)

حدیث نمبر 2: قصرِ نبوت کی آخری اینٹ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا:

«إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا، فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِّنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيُعْجِبُونَ لَهُ، وَيَقُولُونَ: هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ؟ قَالَ: فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ۔»

 میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک حسین و جمیل گھر بنایا لیکن اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس عمارت کے ارد گرد گھومتے، اس کی عمدگی پر حیرت کا اظہار کرتے اور کہتے کہ یہ اینٹ اپنی جگہ پر کیوں نہ رکھ دی گئی؟ آپ نے فرمایا: پس میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین (انبیاء کا ختم کرنے والا) ہوں۔

(صحیح البخاری: 3535، صحیح مسلم: 2286)

حدیث نمبر 3: بعثت کا مکمل خاتمہ

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:

«أَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ، جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَاءَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ۔»

 وہ اینٹ کی جگہ میں ہوں، میں نے آکر انبیاء کی بعثت کا سلسلہ ختم کر دیا۔ ایک اور روایت میں ہے:

أَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ، خُتِمَ بِيَ الْأَنْبِيَاءُ»
یعنی انبیاء کا سلسلہ مجھ پر ختم ہو گیا ہے۔

(مسند الطیالسی: 1894، سندہ صحیح؛ صحیح مسلم: 2287)

یومِ عرفہ کے روزے کی فضیلت احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں پڑھنے کیلئے کلک کریں 

2. محدثین و شراحِ حدیث کے وضاحتی اقوال

شارحینِ حدیث نے ان احادیث کے مفہوم کو بالکل واضح انداز میں امت کے سامنے پیش کیا ہے:

  • حافظ عراقی رحمہ اللہ (806ھ) لکھتے ہیں:
أَمَّا كَوْنُهُ خُتِمَ بِهِ النَّبِيُّونَ فَمَعْنَاهُ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَبْعَثُ بَعْدَهُ نَبِيًّا۔
 نبی کریم کے بعد سلسلۂ نبوت ختم ہونے کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے بعد کوئی نیا نبی مبعوث نہیں فرمائے گا۔
(طرح التثريب: 112/2)
  • علامہ احمد قسطلانی رحمہ اللہ (923ھ) 'المواہب اللدنیہ' (546/2) میں فرماتے ہیں:

اللہ نے آپ کو خاتم النبیین بنایا، یہ آپ کے لیے اعزاز اور دینِ حنیف کی تکمیل ہے۔ آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا کذاب و دجال ہے، خواہ وہ کتنے ہی شعبدے اور جادو دکھائے۔ عقل مندوں کے نزدیک محمد کے بعد نبوت کا وجود محال ہے۔

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی حقیقت

علامہ قسطلانی واضح کرتے ہیں کہ آخری زمانے میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول عقیدہ ختم نبوت کے منافی نہیں ہے، کیونکہ وہ جب نازل ہوں گے تو مستقل یا نئی نبوت لے کر نہیں، بلکہ ہمارے نبی کے دین اور شریعت کے پیروکار بن کر حکم فرمائیں گے۔

حصہ اول: تعارف — توحید الاسماء والصفات کی اہمیت اور مقام پڑھنے کیلئے کلک کریں 

3. آپ کی خصوصی فضائل اور مبارک اسماء

رسول اللہ کو سابقہ انبیاء پر جو فضائل دیے گئے، ان میں سب سے نمایاں فضیلت ہی ختمِ نبوت ہے۔

حدیث نمبر 4: چھ خصوصی فضائل

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا:

«فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ۔»

 مجھے چھ چیزوں میں انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے: جامع کلمات عطا کیے گئے، رعب کے ساتھ میری نصرت کی گئی، میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئیں، میرے لیے زمین کو پاک کرنے والی اور مسجد (نماز کی جگہ) بنا دیا گیا، میں پوری کائنات کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، اور مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔

(صحیح مسلم: 522)

حدیث نمبر 5 و 6: آپ کے اسماءِ گرامی

  • سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
«...وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ۔»
...اور میں 'عاقب' ہوں کہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔
 (صحیح البخاری: 3532، صحیح مسلم: 2354)
  • سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے اپنے ناموں میں یہ بھی فرمایا:
«أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَالْمُقَفِّي، وَالْحَاشِرُ... »
 میں محمد ہوں، احمد ہوں، مقفی (سب سے آخر میں آنے والا) ہوں اور حاشر ہوں...
 (صحیح مسلم: 1355)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

اس حدیث میں اشارہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی اور کوئی نئی شریعت نہیں ہے۔ چونکہ آپ کے بعد کوئی امت نہیں ہے، اسی لیے حشر کی نسبت آپ کی طرف کی گئی ہے کیونکہ قیامت آپ کے فوراً بعد برپا ہوگی۔

 (فتح الباري: 557/6)

4. جھوٹے مدعیانِ نبوت (کذابین) کی پیش گوئی

رسول اللہ نے امت کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ قیامت سے قبل کذاب اور دجال پیدا ہوں گے جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کریں گے۔

حدیث نمبر 7: تیس بڑے کذاب

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا:

«إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔»

 میری امت میں تیس بڑے کذاب (جھوٹے) پیدا ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہی دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

 (مسند احمد: 278/5، سنن ابی داود: 4252، سنن الترمذی: 2219، سندہ صحیح)

حدیث نمبر 8، 9 و 10: دجالوں سے بچنے کی تاکید

«إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ فَاحْذَرُوهُمْ۔»
 (صحیح مسلم: 1822)
 قیامت سے قبل کذاب آئیں گے، ان سے بچ کر رہنا۔
«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، قَرِيبًا مِّنْ ثَلَاثِينَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ۔»

(صحیح البخاری: 3609)

5. نبوت و رسالت کے انقطاع پر صریح اعلانات

حدیث نمبر 11: رسالت و نبوت کا کلی انقطاع

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:

«إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ، فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ۔»

 یقینا رسالت اور نبوت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ ہی کوئی نبی۔

 (مسند احمد: 268/3، سنن الترمذی: 2272، المستدرک للحاکم: 391/3، سندہ صحیح)

علمی و فنی تحقیق (سند کا جائزہ)

کچھ لوگ اس حدیث کے راویوں پر کلام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کا علمی جواب درج ذیل ہے:

  • مختار بن فلفل: یہ جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ اور صحیح مسلم کے راوی ہیں۔ امام یحییٰ بن معین، امام عجلی اور حافظ ذہبی نے ان کی توثیق کی ہے۔
  • عبد الواحد بن زیاد عبدی: صحاحِ ستہ کے راوی ہیں اور حافظ ابن عبد البر کے مطابق ان کی توثیق پر محدثین کا اجماع ہے۔
  • عفان بن مسلم: بالاتفاق ثقہ ہیں اور ان کی متابعت دیگر ائمہ نے بھی کی ہے۔

حج و عمرہ کے برابر ثواب والے اعمال — مکمل رہنمائی (مستند احادیث کی روشنی میں) پڑھنے کیلئے کلک کریں 

حدیث نمبر 12 و 13: دجال کے سامنے آخری حجت

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مرویات ہیں کہ آپ نے فرمایا:

«أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَلَا أُمَّةَ بَعْدَكُمْ۔»
 لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی نئی امت نہیں۔ 
(المعجم الکبیر للطبرانی: 7535، سندہ صحیح)
«...فَيَقُولُ: أَنَا نَبِيٌّ، وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي...»
دجال سب سے پہلے نبوت کا دعویٰ کرے گا، حالانکہ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔
(السنة لابن أبي عاصم: 391، سندہ حسن)

6. ازلی مہر اور فضیلتِ علی و عمر رضی اللہ عنہما

حدیث نمبر 14: تخلیقِ آدم سے قبل کا فیصلہ

سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:

«إِنِّي عِنْدَ اللَّهِ مَكْتُوبٌ لَّخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ... »

 میں اللہ کے ہاں اس وقت بھی خاتم النبیین لکھا ہوا تھا جب آدم علیہ السلام ابھی اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔

 (مسند احمد: 127/4، المستدرک: 418/2، سندہ حسن)

حدیث نمبر 15، 16 و 17: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی منزلت

غزوہ تبوک کے موقع پر جب آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا تو فرمایا:

«أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔»

 کیا آپ اس پر راضی نہیں کہ آپ کو میرے ساتھ وہی نسبت ہو جو ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی؟ البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

 (صحیح البخاری: 3706، صحیح مسلم: 2404)

حدیث نمبر 25 و 26: سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی فرضی مثال

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

«لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔»

 اگر میرے بعد کوئی نبی ہونا ہوتا، تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔ 

(سنن الترمذی: 3686، مسند احمد: 154/4، سندہ حسن)

اہم نکتہ

اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی بھی نبی نہیں بنے، تو آپ کے بعد کسی اور کے لیے نبوت کا دعویٰ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔

حصہ سوم:الفطرانہ کن لوگوں پر فرض ہے پڑھنے کیلئے کلک کریں 

7. وحی کا انقطاع اور صرف مبشرات کا باقی رہنا

نبوت کے ختم ہونے کے بعد اب وحی الہیٰ کا سلسلہ کلی طور پر منقطع ہو چکا ہے، اب صرف اچھے خواب باقی ہیں۔

احادیث کا خلاصہ

سیدہ عائشہ، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا حذیفہ بن اسید، سیدنا ابن عباس، اور سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہم سے مختلف اسناد کے ساتھ صحیح و حسن درجے کی احادیث مروی ہیں کہ آپ نے فرمایا:

«ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ، وَبَقِيَتِ الْمُبَشِّرَاتُ... الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ»

 نبوت ختم ہو چکی ہے، اب صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ صحابہ نے پوچھا: مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا: نیک اور اچھے خواب۔

 (صحیح البخاری: 6990، صحیح مسلم: 479، مسند احمد)

شیخ عبد الرحمن معلمی رحمہ اللہ خوابوں کی شرعی حیثیت واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ امتی کا خواب حجتِ شرعی نہیں ہوتا، وہ محض بشارت اور تنبیہ ہوتا ہے۔

 (التنکيل: 242/2)

8. صاحبزادگانِ رسول کی وفات میں حکمت

حدیث نمبر 27 و 28: حضرت ابراہیم کی وفات

  • سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

"اگر ابراہیم زندہ رہتے تو سچے نبی ہوتے۔" 

(مسند احمد: 280/3، سندہ حسن)
  • سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

"اگر محمد کے بعد کسی نبی کے آنے کی گنجائش ہوتی تو آپ کا بیٹا زندہ رہتا، لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔" 

(صحیح البخاری: 6194)

یہ روایات واضح کرتی ہیں کہ آپ کے بعد کسی جسمانی یا روحانی وارثِ نبوت کا شبہ بھی باقی نہیں رکھا گیا۔

9. میدانِ محشر میں انبیاء کا اقرار اور عالمی بعثت

حدیث نمبر 29: شفاعتِ کبریٰ کے موقع پر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا بیان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرویاتِ شفاعت میں ذکر ہے کہ جب لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ فرمائیں گے:

«...لَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ۔»

 محمد کے پاس جاؤ، کیونکہ وہ خاتم النبیین ہیں۔

(مسند احمد: 248/3، سندہ صحیح)

حدیث نمبر 31، 32 و 33: عالمگیر بعثت اور اتمامِ حجت

«كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً۔»
(صحیح البخاری: 335)
 پہلے انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے، اور میں تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔
«وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِّنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِي، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ۔»
(صحیح مسلم: 153)
 اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو بھی میرا پیغام سنے اور ایمان نہ لائے، وہ جہنمی ہوگا۔

بغیر تحقیق بات پھیلانے کا گناہ پڑھنے کیلئے کلک کریں 

10. بعثتِ محمدی اور قیامت کا باہمی ربط

حدیث نمبر 34 و 35: انگلیوں کے اشارے سے قربِ قیامت کا بیان

سیدنا جابر اور سیدنا انس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے اپنی شہادت کی انگلی اور بڑی انگلی کو ملا کر فرمایا:

«بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ۔»

میری بعثت اور قیامت کے درمیان بس اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا ان دو انگلیوں میں ہے۔

 (صحیح مسلم: 867)

محدثین کی تشریحات

  • امام ابن حبان رحمہ اللہ (354ھ):

میرے اور قیامت کے درمیان کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا، کیونکہ میں آخری نبی ہوں۔

(صحیح ابن حبان: 11/15)
  • علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ):

جس طرح ان دو انگلیوں کے درمیان کوئی تیسری انگلی نہیں ہوتی، اسی طرح آپ اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ 

(التذكرة)

حاصلِ کلام

مذکورہ بالا تمام احادیثِ صحیحہ، آثارِ صحابہ اور جلیل القدر ائمہ و محدثین کی تصریحات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ:

  1. سلسلۂ نبوت و رسالت ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔
  2. آپ کے بعد کوئی ظلی، بروزی، تشریعی یا غیر تشریعی نبی نہیں آ سکتا۔
  3. آپ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے، وہ کذاب اور دجال ہے۔
  4. سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانے میں نزول ایک سابقہ نبی کی حیثیت سے ہوگا جو شریعتِ محمدی کے تابع ہو کر دین کا کام کریں گے، نہ کہ کسی نئی نبوت کے ساتھ۔

عقیدۂ ختمِ نبوت دراصل دینِ اسلام کی حفاظت، شریعت کی تکمیل اور امت کی وحدت کی ضمانت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عقیدے پر ثابت قدم رکھے اور ہر قسم کے فتنۂ کذابین سے محفوظ فرمائے۔آمین۔

عقیدۂ ختمِ نبوت: قرآنِ مجید، تفاسیرِ امت اور اجماعِ مسلمین کی روشنی میں یہاں پڑھئے 



Content by Wisdom Afkar

 

The Finality of Prophethood in the Light of Hadith


The belief in the Finality of Prophethood is one of the fundamental and definitive doctrines of Islam. The clear verses of the Qur’an and the mutawatir (mass-transmitted) sayings of the Messenger of Allah establish beyond doubt that Sayyiduna Muhammad Mustafa is the final Prophet and Messenger of Allah. After him, no new prophet can arise, whether legislative or non-legislative, independent or subordinate.

The Muslim Ummah has unanimously agreed from the earliest generations that anyone who claims prophethood after the Messenger of Allah is a liar, an impostor, and outside the fold of Islam.

The renowned exegete Hafiz Ibn Kathir رحمه الله (d. 774 AH) writes regarding the certainty of this belief:

“Allah the Exalted has informed in His Book, and His Messenger has informed through mutawatir Sunnah, that there will be no prophet after him. This was made clear so that people may know that whoever claims this مقام (station of prophethood) after him is a liar, fabricator, deceiver, misguided and misguiding others.”

(Tafsir Ibn Kathir 6/430)

Below is a detailed study of this doctrine in the light of authentic prophetic traditions.

1. The Final Brick of the Palace of Prophethood

One of the major distinctions between previous nations and the Ummah of Muhammad is that earlier communities continued to receive prophets successively, whereas with the coming of the Prophet Muhammad this chain was permanently completed.

 A Comprehensive Understanding in the Light of the Qur’an, Hadith The Finality of Prophethood Read here

Hadith 1: The Prophets of Banu Isra’il

Sayyiduna Abu Hurairah رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah said:

The Children of Israel used to be governed by prophets. Whenever a prophet died, another prophet succeeded him. But there will be no prophet after me; rather there will be caliphs, and they will be many.”

(Sahih al-Bukhari: 3455, Sahih Muslim: 1842)

Hadith 2: The Final Brick

Sayyiduna Abu Hurairah رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah said:

“My example and the example of the prophets before me is like a man who built a beautiful and magnificent house except for the place of one brick in a corner. People walked around admiring it and saying: ‘Why was this brick not placed?’ I am that brick, and I am the Seal of the Prophets.”

(Sahih al-Bukhari: 3535, Sahih Muslim: 2286)

Hadith 3: Completion of Prophetic Mission

Sayyiduna Jabir ibn Abdullah رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah said:

“I am the place of that brick. I came and completed the chain of the prophets.”

Another narration states: “Through me, the prophets were sealed.”

(Musnad al-Tayalisi: 1894; Sahih Muslim: 2287)

Virtues of Fasting on the Day of Arafah in the Light of Hadith Read here

2. Explanations of the Scholars of Hadith

The scholars and commentators of Hadith have explained these narrations with complete clarity.

Statement of Hafiz al-Iraqi رحمه الله

He writes:

“The meaning of the prophets being sealed through him is that Allah will not send any prophet after him.”

(Tarh al-Tathrib 2/112)

Statement of Imam al-Qastallani رحمه الله

Imam Ahmad al-Qastallani رحمه الله writes in al-Mawahib al-Ladunniyyah:

“Allah made him the Seal of the Prophets. This is an honor for him and the completion of the upright religion. Whoever claims prophethood after him is a liar and deceiver, regardless of whatever wonders or tricks he may display.”

The Return of Prophet Isa عليه السلام

Imam al-Qastallani further clarifies that the descent of Prophet Isa عليه السلام near the end of time does not contradict the doctrine of Finality of Prophethood, because he will not descend with a new prophethood or new law. Rather, he will return as a follower of the Shari‘ah of Muhammad.

Introduction to Tawhid al-Asma wa al-Sifat Read here

3. The Unique Virtues and Blessed Names of the Prophet

Among the greatest distinctions granted to the Messenger of Allah is the honor that prophethood was concluded with him.

Hadith 4: Six Special Virtues

Sayyiduna Abu Hurairah رضي الله عنه narrates that the Prophet said:

“I have been favored over the prophets with six things: concise speech was granted to me, I was aided with awe, spoils were made lawful for me, the earth was made a purifier and a place of prayer for me, I was sent to all creation, and the prophets were sealed through me.”

(Sahih Muslim: 522)

Hadith 5 & 6: The Blessed Names of the Prophet

Sayyiduna Jubayr ibn Mut‘im رضي الله عنه narrates that the Prophet said:

“I am al-‘Aqib — the one after whom there is no prophet.”

(Sahih al-Bukhari: 3532, Sahih Muslim: 2354)

Sayyiduna Abu Musa al-Ash‘ari رضي الله عنه narrates that the Prophet said:

“I am Muhammad, Ahmad, al-Muqaffi (the last to come), and al-Hashir...”

(Sahih Muslim: 2355)

Hafiz Ibn Hajar رحمه الله explains:

“This hadith indicates that there will be no prophet and no new Shari‘ah after him.”

(Fath al-Bari 6/557)

Hajj in Light of Qur’an Read here

4. Prophecy of False Claimants to Prophethood

The Messenger of Allah warned the Ummah that liars and deceivers would appear before the Day of Judgment claiming prophethood.

Hadith 7: Thirty Great Liars

Sayyiduna Thawban رضي الله عنه narrates that the Prophet said:

“There will arise in my Ummah thirty great liars, each of them claiming to be a prophet, while I am the Seal of the Prophets; there is no prophet after me.”

(Musnad Ahmad 5/278, Sunan Abi Dawud: 4252, Jami‘ al-Tirmidhi: 2219)

Hadith 8, 9 & 10: Warning Against Deceivers

“Before the Hour there will appear liars, so beware of them.”

(Sahih Muslim: 1822)

“The Hour will not be established until nearly thirty lying impostors appear, each claiming to be a messenger of Allah.”

(Sahih al-Bukhari: 3609)

5. Explicit Declarations About the End of Prophethood

Hadith 11: The Complete End of Prophethood and Messengership

Sayyiduna Anas ibn Malik رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah said:

“Indeed, messengership and prophethood have ended. There will be no messenger after me and no prophet.”

(Musnad Ahmad 3/268, Jami‘ al-Tirmidhi: 2272, al-Mustadrak: 3/391)

Scholarly Verification of the Chain

Some people attempt to criticize the narrators of this hadith, but the scholars of hadith have affirmed its authenticity:

  • Mukhtar ibn Falfal is considered trustworthy by the majority of hadith scholars.
  • Abd al-Wahid ibn Ziyad is a narrator of the six authentic collections.
  • ‘Affan ibn Muslim is unanimously regarded as reliable.

Hajj o Umrah ke Barabar Amaal | Hajj & Umrah Rewarding Act Read here

Hadith 12 & 13: Final Proof Against the Dajjal

Sayyiduna Abu Umamah al-Bahili رضي الله عنه narrates that the Prophet said:

“O people! There is no prophet after me and no new Ummah after you.”

(al-Mu‘jam al-Kabir of al-Tabarani: 7535)

Another narration states regarding the Dajjal:

“He will claim: ‘I am a prophet,’ but there is no prophet after me.”

(al-Sunnah of Ibn Abi ‘Asim: 391)

6. The Eternal Seal and the Virtues of Ali and Umar رضي الله عنهما

Hadith 14: Written as the Seal Before Adam عليه السلام

Sayyiduna al-‘Irbad ibn Sariyah رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah said:

“Indeed, I was written with Allah as the Seal of the Prophets while Adam was still being formed in his clay.”

(Musnad Ahmad 4/127, al-Mustadrak 2/418)

Hadith 15, 16 & 17: The Status of Ali رضي الله عنه

During the expedition of Tabuk, the Prophet said to Sayyiduna Ali رضي الله عنه:

“Are you not pleased that your position to me is like the position of Harun to Musa, except that there is no prophet after me?”

(Sahih al-Bukhari: 3706, Sahih Muslim: 2404)

Hadith 25 & 26: The Hypothetical Example of Umar رضي الله عنه

Sayyiduna ‘Uqbah ibn ‘Amir رضي الله عنه narrates that the Prophet said:

“If there were to be a prophet after me, it would have been Umar ibn al-Khattab.”

(Jami‘ al-Tirmidhi: 3686, Musnad Ahmad 4/154)

Important Reflection

The implication of this hadith is that if even Sayyiduna Umar رضي الله عنه — with all his immense virtues and spiritual rank — was not granted prophethood, then no one else after the Prophet can attain such a position.

Part 3:  Who Must Pay Fitrana Read here

7. The End of Revelation and the Remaining Glad Tidings

With the end of prophethood, divine revelation has ceased completely. Only true dreams remain as glad tidings.

Summary of the Relevant Hadiths

Narrations from Sayyidah Aishah, Abu Hurairah, Hudhayfah ibn Asid, Ibn Abbas and others رضي الله عنهم mention that the Prophet said:

“Prophethood has ended, and only glad tidings remain.” 

The Companions asked: “What are glad tidings?” He replied: “Righteous dreams.”

(Sahih al-Bukhari: 6990, Sahih Muslim: 479)

Shaykh Abd al-Rahman al-Mu‘allimi رحمه الله explains:

“The scholars agree that dreams are not independent legal proof; they are merely glad tidings or warnings.”

(al-Tankil 2/242)

8. Wisdom Behind the Passing of the Prophet’s Sons

Hadith 27 & 28: The Passing of Ibrahim

Sayyiduna Anas رضي الله عنه narrated:

“If Ibrahim had lived, he would have been a truthful prophet.”

(Musnad Ahmad 3/280)

Sayyiduna Abdullah ibn Abi Awfa رضي الله عنه said:

“If there had been any possibility of a prophet after Muhammad ﷺ, his son would have remained alive. But there is no prophet after him.”

(Sahih al-Bukhari: 6194)

These narrations indicate that Allah removed every possible doubt regarding any physical or spiritual inheritor of prophethood after the Messenger .

9. The Testimony of the Prophets on the Day of Judgment

Hadith 29: The Statement of Prophet Isa عليه السلام During the Great Intercession

In the narrations regarding intercession, Sayyiduna Anas رضي الله عنه reports that Prophet Isa عليه السلام will say:

“Go to Muhammad ﷺ, for he is the Seal of the Prophets.”

(Musnad Ahmad 3/248)

Hadith 31, 32 & 33: Universal Messengership

The Messenger of Allah said:

“Every prophet before me was sent specifically to his people, whereas I have been sent to all mankind.”

(Sahih al-Bukhari: 335)

He also said:

“By the One in whose hand is the soul of Muhammad, any Jew or Christian who hears about me and dies without believing in me will be among the people of Hellfire.”

(Sahih Muslim: 153)

Imam al-Nawawi رحمه الله explains that mentioning Jews and Christians specifically highlights that if even the People of the Book are obligated to believe in Muhammad ﷺ, then others are even more obligated.

 The Sin of Spreading Unverified News Read here

10. The Relationship Between the Final Messenger and the Hour

Hadith 34 & 35: The Nearness of the Hour

Sayyiduna Jabir and Sayyiduna Anas رضي الله عنهما narrate that the Prophet joined two fingers together and said:

“I and the Hour have been sent like these two.”

(Sahih Muslim: 867)

Explanations of the Scholars

Imam Ibn Hibban رحمه الله

He explains:

“The meaning is that no prophet will come between me and the Day of Judgment, because I am the final prophet.”

(Sahih Ibn Hibban 15/11)

Imam al-Qurtubi رحمه الله

He writes:

“Just as there is no third finger between these two fingers, similarly there is no prophet between Muhammad and the Day of Judgment.”

Conclusion

The authentic ahadith, the statements of the Companions, and the explanations of the great scholars of Islam make it absolutely clear that:

  1. The chain of prophethood and messengership has ended forever.
  2. No legislative, non-legislative, shadow, or subordinate prophet can appear after Muhammad .
  3. Whoever claims prophethood after him is a liar and deceiver.
  4. The return of Prophet Isa عليه السلام near the end of time does not contradict the Finality of Prophethood, because he will return as a follower of the Shari‘ah of Muhammad ﷺ.

The doctrine of the Finality of Prophethood safeguards the perfection of Islam, the preservation of divine guidance, and the unity of the Muslim Ummah.

May Allah keep us firm upon this belief and protect us from every false claimant and deceiver. Ameen.

The Finality of Prophethood in the Light of the Qur’an and Scholarly Consensus Read here



Content by Wisdom Afkar

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے