کن لوگوں پر فرض ہے اور کن کی طرف سے ادا کی جائے؟
🌙 الفطرانہ (صدقۃ الفطر) حصہ سوم
پچھلے حصوں میں ہم یہ جان چکے ہیں کہ الفطرانہ کیا ہے اور یہ کب فرض ہوتی ہے۔
اب اس حصے میں ہم ایک نہایت اہم اور عملی سوال کا جواب سمجھیں گے، جو اکثر گھروں میں باعثِ الجھن بنتا ہے:
- الفطرانہ کن لوگوں پر فرض ہے؟
- کیا ہر شخص خود ادا کرے گا؟
- کیا گھر کے سربراہ کو سب کی طرف سے دینا ہوتا ہے؟
- بچوں، بیوی اور زیرِ کفالت افراد کا کیا حکم ہے؟
آئیے ان تمام مسائل کو ترتیب اور وضاحت کے ساتھ سمجھتے ہیں۔
حصہ اوّل — زکوٰۃ کیا ہے؟ مفہوم، اہمیت اور بنیادی تعارف پڑھنے کیلئے کلک کریں
الفطرانہ کن لوگوں پر فرض ہے؟
اسلامی احکام کے مطابق، الفطرانہ ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو درج ذیل شرائط پوری کرتا ہو:
1️⃣ مسلمان ہونا
الفطرانہ صرف مسلمان پر فرض ہے۔
غیر مسلم اس عبادت کا مکلف نہیں۔
2️⃣ صاحبِ استطاعت ہونا
وہ مسلمان جو:
- اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی
- عید کے دن اور رات کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے بعد
- ضرورت سے زائد کم از کم ایک صاع کھانا رکھتا ہو
📌 وہ صاحبِ استطاعت شمار ہوتا ہے، اور اس پر الفطرانہ فرض ہے۔
❌ جو شخص خود محتاج ہو اور اضافی چیز نہ رکھتا ہو، اس پر الفطرانہ فرض نہیں۔
بغیر تحقیق بات پھیلانے کا گناہ پڑھنے کیلئے کلک کریں
کیا الفطرانہ مرد، عورت، بچے سب پر ہے؟
یہ بات بہت اہم ہے:
✔️ مرد پر بھی فرض ہے
✔️ عورت پر بھی فرض ہے
✔️ بچوں پر بھی فرض ہے
لیکن ادائیگی کا طریقہ سمجھنا ضروری ہے۔
بچوں کی طرف سے الفطرانہ کون ادا کرے گا؟
جو بچے:
- نابالغ ہوں
- اور خود کمائی نہ کرتے ہوں
📌 ان کی طرف سے ان کا والد یا سرپرست الفطرانہ ادا کرے گا۔
یہ:
- بیٹے ہوں یا بیٹیاں
- چھوٹے ہوں یا دودھ پیتے بچے
سب اس حکم میں شامل ہیں، بشرطیکہ وہ سورج غروب ہونے سے پہلے پیدا ہو چکے ہوں۔
قسط 1: روزہ (صوم): حقیقت، مقصد اور فرضیت پڑھنے کیلئے کلک کریں
بیوی کی طرف سے الفطرانہ کون دے گا؟
اس مسئلے میں فقہاء نے وضاحت کی ہے:
-
اگر بیوی کے پاس اپنا مال ہو
✔️ تو وہ خود بھی ادا کر سکتی ہے -
اگر شوہر ادا کر دے
✔️ تو یہ بھی جائز ہے
📌 البتہ شوہر پر بیوی کی طرف سے لازمی نہیں کہ وہ خود ہی ادا کرے، سوائے اس کے کہ بیوی اجازت دے یا عرف یہی ہو۔
بالغ اولاد کی طرف سے حکم
اگر بالغ اولاد:
- خود کماتی ہے
- اور مالی طور پر خود مختار ہے
✔️ تو وہ خود اپنا الفطرانہ ادا کرے گی
❌ والدین پر اس کی طرف سے دینا لازم نہیں۔
اگر بالغ اولاد محتاج ہو
اگر بالغ اولاد:
- کمانے کی استطاعت نہیں رکھتی
- یا والدین کے زیرِ کفالت ہے
✔️ تو والدین اس کی طرف سے ادا کر سکتے ہیں، اور یہ باعثِ اجر ہے۔
عبداللہ بن تامر: ایمان کی جیت۔ پڑھنے کیلئے کلک کریں
غلام اور نوکر کا حکم
اسلامی فقہ میں آیا ہے کہ:
- جو غلام یا خادم مالک کے زیرِ کفالت ہو
✔️ اس کی طرف سے بھی الفطرانہ ادا کیا جائے گا
آج کے دور میں اس کا اطلاق:
- زیرِ کفالت ملازمین
- یا مکمل کفالت میں رہنے والوں پر ہو سکتا ہے
کیا ایک شخص سب کی طرف سے ادا کر سکتا ہے؟
جی ہاں۔
📌 گھر کا سربراہ:
- اپنی طرف سے
- اپنی بیوی
- اپنے بچوں
- اور زیرِ کفالت افراد
سب کی طرف سے ایک ساتھ الفطرانہ ادا کر سکتا ہے۔
یہ طریقہ:
- آسان بھی ہے
- اور صحابہ کرامؓ کے عمل سے بھی ثابت ہے
نیت کا مسئلہ
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے:
- ہر فرد کے الفطرانے کی نیت الگ الگ ہونی چاہیے
- زبان سے کہنا ضروری نہیں
- دل میں نیت کافی ہے
مثلاً:
میں اپنی طرف سے، اپنی بیوی کی طرف سے، اور اپنے بچوں کی طرف سے صدقۃ الفطر ادا کرتا ہوں۔
عام غلط فہمیاں
❌ صرف کمانے والے پر فرض سمجھ لینا
❌ بچوں کو شامل نہ کرنا
❌ یہ سمجھنا کہ شوہر پر بیوی کی طرف سے لازمی ہے
❌ بالغ اولاد کا الفطرانہ والدین پر ڈال دینا
صحیح علم ان تمام غلطیوں کو دور کر دیتا ہے۔
خلاصہ (Part 3)
- الفطرانہ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض ہے
- مرد، عورت اور بچے سب اس میں شامل ہیں
- نابالغ بچوں کی طرف سے والد ادا کرے گا
- بالغ اور خود مختار اولاد خود ادا کرے گی
- ایک شخص گھر کے سب افراد کی طرف سے دے سکتا ہے
- نیت دل میں ہونا کافی ہے
پچھلا حصہ ⬅️ حصہ دوم: الفطرانہ کا شرعی حکم کیا ہے اور یہ کب فرض ہوتی ہے؟ اس تحریر میں صدقۃ الفطر کے وقت، فرضیت اور اہم مسائل آسان انداز میں جانیں۔
اگلا حصہ ⬅️ حصہ چہارم:الفطرانہ کی مقدار کیا ہے؟ کس چیز سے اور کتنا ادا کیا جائے؟
Content by Wisdom Afkar

